انڈیا کی ریاست مدھیہ پردیش میں جین برادری سے تعلق رکھنے والے جوان ارب پتی میاں بیوی نے تارک الدنیا ہونے کا فیصلہ کر لیا ہے۔

100 کروڑ روپوں سے بھی زیادہ اثاثوں کے مالک اس جوڑے نے اپنی تین سالہ بیٹی کو چھوڑ کر سنیاس لینے اور رہبانیت اختیار کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

35 سالہ سومت راٹھور اور ان کی 34 سالہ اہلیہ انامیکا 23 ستمبر کو باقاعدہ ایک مذہبی رسم کے بعد سن یاس اختیار کر لیں گے۔

سومت کا تعلق مدھیہ پردیش کے معروف قصبے نیمچ کے ایک بڑے خاندان سے ہے جبکہ انامیکا کے والد اشوک چنڈاليہ حکمراں جماعت بی جے پی کے فعال رکن ہیں۔

سومت اور انامیکا کے اہل خانہ نے دونوں کو اس اقدام سے روکنے کی بھی کوشش کی لیکن انھوں نے اپنا فیصلہ کسی بھی صورت میں تبدیل کرنے سے انکار کر دیا۔

ان کے ایک رشتے دار وجے جین نے بی بی سی کو بتایا کہ سومت کا خاندان بہت ہی مذہبی ہے۔

‘ایک بار جب دونوں نے فیصلہ کر لیا تو پھر اس کے بعد وہ کسی کی نہیں سنتے۔ انھوں نے دو برس قبل ہی مجرد رہنے (برہمچاری) کا فیصلہ کیا تھا، آہستہ آہستہ اس راستے پر بڑھتے رہے اور اب سنیاس لے رہے ہیں۔’

یہ دونوں میاں بیوی سورت کے معروف جین مذہبی گرو آچاریہ رام لال مہاراج کے مرید ہیں اور انھی کے سامنے سنیاسی ہونے کا عہد کریں گے۔

اس سلسلے میں دونوں نے مون برت یعنی نہ بولنے کا روزہ رکھ لیا ہے اور سومت کے والد سمیت دیگر اہل خانہ سے بھی بات کرنے کے لیے تیار نہیں۔

ان دونوں نے چار برس پہلے شادی کی تھی اور اب سوال یہ ہے کہ دونوں کے سنیاس لینے کے بعد ان کی 3 سالہ بیٹی ابھیا کا خیال کون رکھے گا۔ تاہم ان کے رشتہ داروں کا کہنا ہے کہ خاندان کے لوگ بچّی کو سنبھال لیں گے اور اس کی پرورش کریں گے۔

سومیت کے چچازاد بھائی سندیپ نے بتایا کہ وہ لندن سے اعلیٰ تعلیم حاصل کر چکے ہیں اور وہ تعلیم مکمل کرنے کے بعد دو برس تک وہیں کام کرتے رہے اور پھر خاندانی کاروبار سنبھالنے کے لیے انڈیا واپس لوٹے تھے۔ انامیکا بھی انجینیئر ہیں اور انھوں نے بھی ایک معروف کمپنی میں کام کیا ہے۔

نیمچ میں سومت کا خاندان سوا لاکھ مربع فٹ کے ایک وسیع تجارتی کمپلیکس کا مالک ہے جبکہ ان کی سیمنٹ کے تھیلے بنانے کی فیکٹری بھی ہے۔ اس کے علاوہ یہ خاندان فنانس اور زراعت سے متعلق کئی دیگر کاروبار بھی کرتا ہے۔

قصبے میں جین سوسائٹی سے تعلق رکھنے والی سومن موگارا کہتی ہیں: ‘کسی بھی شخص کے لیے اس طرح کا فیصلہ کرنا آسان نہیں ہوتا ہے۔ سب لوگ دنیا کی دولت اور اس کے جال میں پھنسے ہوئے ہیں۔ انھوں نے جو فیصلہ کیا ہے وہ بہت بڑا اور قابل قدر ہے۔’

You May Also Like

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے