دبئی ممالک کو پیچھے چھوڑنے کی جانب گامزن

اس وقت جو ریاست تیزی سے معاشی اعتبار سے ترقی یافتہ ممالک کو پیچھے چھوڑنے کی جانب گامزن ہے، وہ دبئی ہے۔

اور جب بات ہو وہاں کے حکمرانوں کی، تو شیخ حمدان بن محمد بن راشد المکتوم (عرف عام Fazza) وہاں کے ارب پتی ولی عہد ہیں جو کہ انسٹاگرام پر بھی حکمرانی کرتے ہیں۔

34 سالہ دبئی کے ولی عہد کے انسٹاگرام پر 5.1 ملین جبکہ ٹوئٹر پر 2.41 ملین فالوروز ہیں، جہاں وہ اپنے روزمرہ کی پرتعیش زندگی کی جھلکیاں تصاویر کی شکل میں پیش کرتے رہتے ہیں۔

وہ متحدہ عرب امارات کے نائب صدر اور وزیراعظم کے ساتھ دبئی کے حکمران شیخ محمد بن راشد المکتوم کے دوسرے نمبر کے بیٹے ہیں۔

ان کے والد 13.9 ارب ڈالرز کے اثاثوں کے مالک ہیں (2013 کے اعدادوشمار کے مطابق)، اور شیخ حمدان کو 2008 میں دبئی کا ولی عہد مقرر کیا گیا تھا۔

اب یہاں ان کی انسٹاگرام پر مصروفیات اور حیران کن طرز زندگی کی جھلکیاں دیکھیں جو واقعی کسی ارب پتی شہزادے کی زندگی کا ہی حصہ لگتی ہیں۔

یہ شیخ حمدان بن محمد بن راشد المکتوم ہیں۔

انہیں سفر کرنا پسند ہے اور اپنا زیادہ تر وقت دنیا کو کھوجتے گزارتے ہیں، جتنا زیادہ مشکل سفر ہوگا، انہیں اتنا ہی مزہ آئے گا، اس تصویر میں وہ آئس لینڈ میں موجود ہیں۔

اٹلی میں تو وہ پیسا مینار کو بچانے کی اداکاری کرتے بھی نظر آرہے ہیں۔

وہ اکثر پرتعیش انداز سے سفر کرتے ہیں خاص طور پر ایمریٹس ائیرلائن کی فرسٹ کلاس میں۔

مگر بیرون ملک وہ عام پبلک ٹرانسپورٹ جیسے لندن کی ان ٹرینوں میں بھی سفر کرنا پسند کرتے ہیں۔

چونکہ وہ سیلفیاں لینے کے شوقین ہیں تو اپنی زندگی کے بیشتر لمحات شیئر کرتے رہتے ہیں۔

اور ہاں وہ باصلاحیت فوٹوگرافر بھی ہیں، جیسے یہ تصویر بہت زبردست ہے۔

وہ ایک اچھے ایتھلیٹ بھی ہیں۔

نیزے سے مچھلی کا شکار کرنا انہیں پسند ہے۔

سمندری لہروں سے اس انداز میں کھیلنا بھی انہوں نے سیکھا ہوا ہے۔

مگر گھروالوں کے ساتھ بھی وقت گزارتے ہیں، ان کے بائیس بہن بھائی ہیں۔

یہی وجہ ہے کہ اکثر بھتیجے، بھتیجیاں، بھانجے، بھانجیاں ان کے ساتھ نظر آتے ہیں۔

ان سب مصروفیات کے باوجود وہ سرکاری فرائض کے لیے بھی وقت نکال ہی لیتے ہیں۔

اور ہاں وہ شاعری بھی کرتے ہیں، جن میں اکثر محبت، دانشمندی اور حب الوطنی کا پرچار کیا جاتا ہے۔

تصاویر دیکھیں تو یہ سوال ذہن میں پیدا ہوتا ہے کہ کیا، کچھ ایسا ہے جو وہ نہیں کرسکتے؟

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے