100بچوں کو زیادتی کے بعد تیزاب میں ڈال کر ہلاک کرنے والا جاوید اقبال مغل عرف مکڑی

لاہور (ویب ڈیسک) میں جاوید اقبال مُغل ہوں، 100بچوں کا قاتل ۔۔۔ مجھے اس دنیا سے نفرت ہے مجھے اپنے کسی عمل پر شرمندگی نہیں ہے اور میں مرنے کے لیے تیار ہوں ۔۔۔۔جی ہاں جاوید اقبال مغل عرف مکڑی جس نے دسمبر 1999 میں 100 بچوں کے ریپ کے بعد قتل کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے خود کو قانون کے حوالے کیا ۔

نامور کالم نگار خالد ایم خان اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔ جس کے بعد مارچ2000ء میں کیس کی سنوائی اور جاوید اقبال مکڑی کے اقبالی بیان کے بعد جج نے سزائے موت سنائی، جس کے تحت پھانسی کے بعد مکڑی کے جسم کے سو حصے کرکے اُن تمام حصوں کو اُسی تیزاب میں جلا دینا تھا جس میں مکڑی نے 100 ماؤں کے جگر کے ٹکڑوں کو ریپ کے بعد کاٹ کا ڈال دیا تھا۔ لیکن … صرف ایک سال بعد 2001ء میں مکڑی کی جیل میں خود کُشی کی خبر آتی ہے، جبکہ مکڑی کے وکیل کہتے ہیں کہ مکڑی نے اُنہیں خطوط لکھے تھے کہ میری جان کو خطرہ ہے اور ہو سکتا ہے کہ مجھے مار دیا جائے، اور پھر ؟ اس قصے کو آج سترہ سال گُزر گئے لیکن مجھے جس بات نے آج تک حیران کیے رکھا کہ آخر وہ کیا عوامل تھے جن کے تحت ایک انتہائی درندہ صفت انسان اچانک دنیا کے سامنے آتا ہے اور بنا کسی ندامت اور شرمندگی کے آکر کہتا ہے کہ میں نے 100ماؤں کے بچے مار کر اُن تمام ماؤں کو رُلایا جبکہ میرا ہدف 500سے زائد بچوں کا تھا۔ تمام تر الزامات کا اس طرح دیدہ دلیری سے اپنے سر لینا کچھ نہ سمجھ میں آنے والی بات تھی۔

کیا وہ بچے ہی شریک مجرم تھے جنہیں اُس کے ساتھ سزائیں دی گئیں یا پھر یہاں بھی مونو پلی کھیلی گئی؟ تیزاب کے سینکڑوں ڈرمز، سو سے زائد بچوں کا ایک جگہ رکھا جانا، اُن سے بدفعلیاں کرنا، اُس دوران اُن کی ویڈیوز بنانا،بنا کر عالمی منڈی میں فروخت کرنا اور پھر قتل کرنے کے بعد اُن معصوم بچوں کی لاشوں کی باقیات کو ٹھکانے لگانا،کیا صرف ایک بندے کا کام تھا؟ یا پھر اُن پندرہ سترہ سال کے دو تین بچوں کا کام تھا؟ نہیں، میں نہیں مانتا! بھائی جھول ہے اس پوری کہانی میں اور پھر جاوید اقبال عرف مکڑی کا یہ کہنا کہ بیس سال کی عمر میں مجھ پر ایک بچے کو ریپ کرنے کا الزام لگا کر جیل بھیج دیا گیا تھاجس کی وجہ سے میری والدہ کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا اور بقول جاوید اقبال میں اُس وقت بے قصور تھا۔ میری ماں رو رو کر دہائیاں دیتی رہی اور میرے جیل سے باہر آنے سے پہلے ہی میری یاد میں روتے روتے دنیا سے گزر گئی میں نے اُسی دن ہی قسم کھا لی کہ میں بدلے میں 100سے زائد بچوں کی ماؤں کو رُلاؤں گا اور پھرمیں نے وہ سب کچھ کر دکھایا جس کا میں نے خود سے عہد کیا تھا۔

ا س سب کے بعد تو میں صرف یہی کہوں گاکہ کیا غضب کی فلمی اسٹوری تھی جو ہمیں سُنائی اور دکھائی گئی اور پاکستان کی معصوم عوام نے بنا کسی چوں چراں کے تسلیم بھی کرلی۔ لیکن حقیقتا کچھ گڑ بڑ ضرور تھی جسے ہمیشہ ہی کی طرح دبا دیا گیا اور پھر اپنا جُرم تسلیم کرلینے سے لے کر اپنی موت تک مکڑی کا کردار اور پھرجیل حکام کاکردار بھی مشکوک دکھائی دیا۔ اس تمام کہانی کے پیچھے چُھپا وہ مافیا نہ بے نقاب کیا جاسکا جس کی مجھے امید تھی۔ ان تمام معاملات کے بعد یہ مافیا ہوشیار ہوگیا، اپنا انداز بدل لیا اپنے کام کا طریقہ کار بھی بدل لیا، وقت بھی بدل گیا اور گزرتے وقت کے ساتھ ساتھ اس سیکس مافیا نے ایک منظم کاروبار کی شکل اختیار کرلی۔ آپ شاید یقین نہ کریں عالمی منڈی میں بچوں کے سیکس ریپ کے بعد مار دیے جانے والی ویڈیوز کی بے پناہ مانگ ہے جن کی قیمت کا آپ اندازہ بھی نہیں لگا سکتے۔ جائیں ذرا انٹرنیٹ کی دنیا کو کھنگال کردیکھیں آپ لوگوں کے ہوش اُڑجائیں گے اور پھر پاکستان بھر سے معصوم بچوں کا تسلسل کے ساتھ غائب ہونا۔ دکھ کے ساتھ کہتا ہوں کہ پاکستان کی عوام بہت جلد بھول جانے والی قوم ہے

انہوں نے اپنا ماضی ہمیشہ ہی کی طرح فراموش کردیا۔ بھول گئے کہ ایک شیطان کا چیلہ مرا ہے، شیطانیت ابھی زندہ ہے؟ کیا آپ لوگ بتا سکتے ہیں کہ مکڑی ( جاوید اقبال ) کے مرنے کے بعد سے لے کر آج تک گزرے سترہ سالوں میں کتنی ماؤں کی گود اُجڑی؟ کیا کوئی اندازہ ہے ارباب اختیار کے ساتھ ساتھ اس ملک کی خواب خرگوش کے مزے لیتی عوام کو کہ اس تمام عرصہ میں ملک بھر سے کتنے بچے اغوا کیے گئے یا غائب ہوئے، کہاں گئے سب زمین کھا گئی یا آسمان؟ کہیں اسمگلنگ کا ڈرامہ کھیلا گیا تو کہیں بچوں کے اعضاء بیچنے کا فریب، کتنی ماؤں کے لخت جگر ایک مرتبہ گُم ہونے کے بعد دوبارہ کبھی نہ ملے۔ بس چند ایک کی لاشیں جو حکومتی ارباب اختیا ر کے منہ چڑاتی نظر آئیں، اور بقیہ کی تو لاشیں تک غائب کردی گئیں۔ دوسری طرف ایف آئی آریں کٹتی رہیں اور کوئی پیش رفت نہ ہونے کے سبب فائلیں حکومتی دفتروں کے قبرستانوں میں دفن کی جاتی رہیں۔ معصوم زینب کی شہادت کا مجھے دکھ ہے لیکن اس معصوم پری نے جاتے جاتے امید کا ایک دیا ضرور روشن کردیا ہے، اس قوم کو خواب غفلت کی نیند سے جگا دیا ہے مجھے یقین ہے کہ اب ہمیشہ ہی کی طرح یہ فائل داخل دفتر نہ کی جاسکے گی

اور اس گھناؤنے کاروبار سے منسلک اُن ارباب اختیار کو ضرور بے نقاب کیا جائے گا جو سیکس مافیا کے اس مکروہ دھندے میں ملوث ہیں کیوں کہ سوال ایک زینب کا نہیں قصور میں پچھلے چند عرصے میں غائب یا ماری جانے والی اُن تمام بچیوں اور معصوم بچوں کا ہے جن کے ساتھ بہیمانہ انداز میں درندگی کا عمل کیا گیا۔ پچھلے تمام عرصے میں لاہور اور گرد ونواح سے گُم ہو جانے والے اُن تمام معصوم بچوں کا ہے جو تاحال برآمد نہ کیے جاسکے، عوام کو اُٹھ کر کھڑا ہونا ہوگا اور ہاتھ ڈالنا ہوگا اُن گریبانوں پر جو ان مافیاز کے سرپرست ہیں۔ آپ یقین کریں اگر تفتیش اور شفاف تفتیش کا رُخ اس جانب موڑ ا جائے تو ایسے ایسے چہرے بے نقاب ہوں گے کہ پاکستان کی عوام دنگ رہ جائے گی۔ یہ کسی ایک آدمی کا کام نہیں ایک منظم گروہ کا کام ہے جو پہلے بچہ یا بچی منتخب کرتے ہیں اور پھر اُن پر کام کرتے ہیں آپ موازنہ کرلیں تمام کیسوں کی یکسانیت کا میں تو حیران ہوں کہ اب تک اس ملک کے سیکیورٹی اداروں نے اس اہم پہلو کو کیوں فراموش کیا یا پھر اس جانب تفتیش کا رُخ موڑنے ہی نہیں دیا گیا، حکومت اور اداروں کا کام ہے عوام کی جان ومال کاتحفظ کرنا اور یہ آپ لوگوں کی ذمہ داری ہے آپ لوگ خود کو اس سے بری الذمہ قرار نہیں دے سکتے۔ (ش س م)

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے