10 غذائیں جو آپ کو جوان رکھیں

کون شخص ہے جو بڑھاپے کے آثار اپنے چہرے یا جسم پر دیکھنا پسند کرے؟ مگر عمر کا ایک دور ایسا آتا ہے جب شخصیت کے حوالے سے تشویش بڑھنے لگتی ہے۔

مگر کچھ غذائیں ایسی ہوتی ہیں جو ان فکروں سے نجات دلانے میں مددگار ثابت ہوسکتی ہیں کیونکہ عمر کے لحاظ سے درست خوراک نہ صرف موٹاپے اور جسمانی دفاعی نظام کو قابو میں رکھتی ہے بلکہ ان کے چند فوائد ایسے ہوتے ہیں جو جھریوں سے تحفظ، بالوں کو چمک اور دیگر بڑھاپے کی علامات کو دور رکھتے ہیں۔

تو ایسی ہی چند غذاﺅں کے بارے میں جانے جو اپنے فیٹی ایسڈز، منرلز اور دیگر اجزاءکی بدولت جلد اور بالوں کو صحت مند رکھ کر آپ کی شخصیت کو جوان ظاہر کرتی ہیں۔

کافی

کریٹیو کامنز فوٹو
کریٹیو کامنز فوٹو

ہر صبح کافی کا ایک کپ نہ صرف دن کا آغاز پرمسرت کرتا ہے بلکہ اس کے حیاتیاتی طور پر متحرک اجزاءآپ کی جلد کو رسولیوں سے بھی تحفظ دیتے ہیں۔ ایک حالیہ تحقیق کے مطابق کافی کا زیادہ استعمال لوگوں کی جلد کو ڈھلکنے سے بچاتا ہے جبکہ کینسر کا خطرہ بھی کم ہوجاتا ہے۔ اسی طرح جھریوں کا خطرہ بھی کم ہوتا ہے۔

تربوز

کریٹیو کامنز فوٹو
کریٹیو کامنز فوٹو

موسم گرما میں پیاس بجھانے والا یہ پھل لائیکوپین نامی جز سے بھرپور ہوتا ہے۔ اینٹی آکسائیڈنٹ سے بھرپور یہ جز تربوز اور ٹماٹر کو سرخ رنگ دیتا ہے اور جلد کو سورج کی شعاعوں سے ہونے والے نقصان سے بچاتا ہے۔ ایک تحقیق کے مطابق تربوز میں ٹماٹروں کے مقابلے میں 40 فیصد زیادہ نباتاتی کیمیکل ہوا ہے جو سن اسکرین کی طرح آپ کی جلد کی چمک دمک برقرار رکھنے میں مددگار ثابت ہوتا ہے۔

انار

کریٹیو کامنز فوٹو
کریٹیو کامنز فوٹو

اس جادو اثر پھل کے بیج اینٹی آکسائیڈنٹس اور وٹامن سی سے بھرپور ہوتے ہیں اور چہرے کو جھریوں، خشکی اور دیگر عوارض سے بچانے میں مددگار ثابت ہوتے ہیں۔ ایک تحقیق کے مطابق وٹامن سی کا استعمال درمیانی عمر میں جلد کو خشکی اور جھریوں کا امکان کم کرتا ہے۔ اس کے علاوہ انار میں موجود اینتھوسیان جلد کو پرکشش انداز جبکہ ایلیجک ایسڈ سورج کی شعاعوں سے ہونے والے نقصانات کی روک تھام کرتے ہیں۔

بلیو بیریز

کریٹیو کامنز فوٹو
کریٹیو کامنز فوٹو

یہ پھل چہرے کی سرخی کو بڑھانے میں مددگار ثابت ہوتا ہے۔ اس پھل میں موجود وٹامن سی اور ای جلد کو جگمگاتے ہیں اور حلقوں وغیرہ کا مقابل کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ اس میں پائے جانے والے دیگر اجزاءجلد کی رنگت کو سنوارنے کا کابھی کرتے ہیں۔

سبز پتوں والی سبزیاں

کریٹیو کامنز فوٹو
کریٹیو کامنز فوٹو

پالک سے لے کر ساگ تک یہ طاقت کے خزانے سے بھرپور سبزیاں کیروٹین نامی جز سے بھرپور ہوتی ہیں جو جلد کے خلیات کو تحفظ دینے کے ساتھ ساتھ ان میں نمی کو برقرار رکھتا ہے جبکہ جلد کو ہونے والے نقصانات کو دور رکھنے میں بھی مددگار ثابت ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ بلڈ پریشر پر قابو پانے کے لیے بھی ان سبزیوں کو اہم تصور کیا جاتا ہے۔

مشروم

کریٹیو کامنز فوٹو
کریٹیو کامنز فوٹو

مشروم میں ایک منرل سیلینیم شامل ہوتا ہے جو جلد کو سورج کی شعاعوں سے ہونے والے نقصان سے تحفظ دیتا ہے۔ ایک تحقیق کے مطابق مشروم کا استعمال جسم میں تانبے یا کاپر کی سطح کو متوازن رکھتا ہے جس کے نتیجے میں ان کے بالوں میں سفیدی جلد نہیں آپاتی یعنی بڑھاپا جلد آپ کی شخصیت پر قابو پانے میں ناکام رہتا ہے۔

انڈے

کریٹیو کامنز فوٹو
کریٹیو کامنز فوٹو

آپ کے انگلیوں کے ناخن پروٹین سے بنتے ہیں تو صاف ظاہر ہے جس میں پروٹین کی کمی انہیں کمزور کرسکتی ہے۔ اس سے تحفظ کے لیے انڈون کا استعمال زبردست ہے جو بی کمپلیکس وٹامن سے بھرپور ہوتے ہیں جو جسم میں پروٹین کی کمی نہیں ہونے دیتے۔ اس کے علاوہ انڈوں میں شامل پروٹین سے بلڈپریشر میں کمی آتی ہے اور امراض قلب کا خطرہ بھی کم ہوجاتا ہے۔

اخروٹ

کریٹیو کامنز فوٹو
کریٹیو کامنز فوٹو

اومیگا تھری فیٹی ایسڈ اور وٹامن ای سے بھرپور یہ خشک میوہ آپ کے بالوں میں نمی برقرار رکھنے میں مددگار ثابت ہوتے ہیں، اس کے علاوہ ان میں کاپر کی مقدار بھی کافی ہوتی ہے جو جلد اور بالوں کے قدرتی رنگ کو برقرار رکھنے میں مدد دیتے ہیں جبکہ اس منرل کی کمی آپ کے بالوں کو قبل از وقت سفید کرسکتی ہے۔

آم

کریٹیو کامنز فوٹو
کریٹیو کامنز فوٹو

آم بیٹا کروٹین سے بھرپور ہوتے ہیں جو آپ کی جلد کو اپنی مرمت خود کرنے کی صلاحیت دیتا ہے اور چہرے پر جھریوں کی آمد کو بھی روکتا ہے۔ اس کے علاوہ جلد کو ملائم رکھنے کے لیے بھی اس مزیدار پھل کا استعمال اہمیت رکھتا ہے۔اس کے علاوہ آم میں وٹامن اے بھی ہوتا ہے جو خلیات کو تحفظ دے کر انہیں تنزلی سے بچاتا ہے۔

خربوزے

کریٹیو کامنز فوٹو
کریٹیو کامنز فوٹو

خربوزوں میں بھی بیٹا کروٹین اور وٹامن اے پائے جاتے ہیں جو نہ صرف آپ کے سر کے جلدی خلیات کی نشوونما کو کنٹرول کرتے ہیں بلکہ جلد کی اوپری تہہ کی چمک بھی بڑھاتے ہیں۔ یہ چہرے پر جلد کو مردہ ہوکر پرت کی شکل میں بھی تبدیل نہیں ہونے دیتے۔

You May Also Like

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے