’یہ جگہ انسانوں کے لیے نہیں، محض پاگل پن ہے‘

’یہ جگہ انسانوں کے لیے نہیں، محض پاگل پن ہے‘

یہ الفاظ پاکستانی فوج میں تقریباً دو دہائیوں سے کام کرنے والے اس ڈاکٹر کے ہیں جس نے سیاچن کے محاذ پر 19 ہزار فٹ کی بلندی پر آٹھ ماہ گزارے اور ان کے مطابق یہ ان کی زندگی کے سب سے مشکل اور ناقابل فراموش ترین دن تھے۔

اس وقت لیفٹیننٹ کرنل کے عہدے پر فائز اس ڈاکٹر نے سیاچن پر تقریباً 12 سال قبل وقت گزارا تھا اور انھیں اب بھی وہاں ِبتایا ہوا ہر پل یاد ہے۔

اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر انھوں نے بی بی سی کو بتایا کہ ‘سیاچن شاید دنیا کی سب سے مایوس کن جگہ ہے۔ آپ کو اپنے چاروں جانب صرف برف کی چادر نظر آتی ہے جہاں دور دور تک کسی قسم کی کوئی زندگی کے آثار نظر نہیں آتے۔’

اپنے ملک پر جان نچھاور کرنے کا جذبہ لیے ہزاروں فوجی جب سیاچن پر جاتے ہیں تو وہاں ان کا مقابلہ دشمن کی گولیوں کے بجائے قدرت سے ہوتا ہے۔

سیاچن قراقرم کی برفیلی چوٹیوں پر موجود، تین کھرب مکعب فٹ برف سے بنا ہوا 45 میل لمبا اور تقریباً 20 ہزار فٹ کی بلندی سے شروع ہونے والا برف کا وہ جہان ہے جو قطب شمالی اور قطب جنوبی کو چھوڑ کر دنیا کا دوسرا سب سے بڑا گلیشیئر ہے۔

موسم سیاچن کا سپاہی

یہاں پر ڈیوٹی ادا کرنے والے فوجیوں کے لیے روایتی تیاری ناکافی ہوتی ہے۔ اس خطے میں موسم اپنی تمام تر سختیاں اور دشواریاں ساتھ لاتا ہے اور عام طور پر یہاں کا درجہ حرارت منفی دس سے منفی بیس ڈگری رہتا ہے جبکہ اکتوبر سے مارچ تک ناقابلِ یقین منفی 50 ڈگری تک گر جاتا ہے۔

سردی کے موسم میں برفانی طوفان اور ہواؤں کے جھکڑ 200 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے چلتے ہیں اور اپنے ساتھ اوسطاً 40 فٹ برفباری لاتے ہیں۔ اس گلیشیئر پر سالانہ آٹھ ماہ برفباری ہوتی ہے اور اونچائی کی وجہ سے صرف 30 فیصد تک آکسیجن رہ جاتی ہے جو کہ وہاں پر کام کرنے والے فوجیوں کے مطابق سب سے کڑا امتحان ہوتا ہے۔

کراچی سے تعلق رکھنے والے ایک میجر جنھوں نے حال ہی میں سیاچن سیکٹر پر سات ماہ گزارے تھے، بی بی سی کو بتایا کہ سانس لینا یعنی وہ چیز جو ہم سب سے آسان سمجھتے ہیں وہی سب سے مشکل کام ہے۔

‘شہر میں تو ہم کبھی سوچتے بھی نہیں ہیں کہ اگلی سانس آئے گی یا نہیں لیکن یہاں معاملہ بالکل فرق ہے۔ آپ لمبی سانس لینا کا تصور بھی نہیں کر سکتے۔اور اتنی کم آکسیجن میں آرام کرنا بھی مشکل ہو جاتا ہے۔’

سیاچن 323 بریگیڈ کے نائب کمانڈر کرنل عامر اسلام نے بی بی سی کو بتایا کہ سیاچن پر ڈیوٹی دینے سے پہلے تمام فوجیوں کو مخصوص تیاری سے گزرنا پڑتا ہے جہاں انھیں آرمی کے کوہ پیمائی کے سکول میں تربیت دی جاتی ہے اور سیاچن کی آب وہوا کا عادی ہونے کی تیاری کروائی جاتی ہے۔

سیاچن
سال 2003 سے جنگ بندی کے باوجود فوجی روزانہ اپنی جنگی مشقیں کرتے ہیں

‘ہماری اصل کوشش ہوتی ہے کہ فوجیوں کو کم آکسیجن میں پوری صلاحیت سے کام کرنے کے قابل بنایا جائے۔’

سیاچن پر ڈیوٹی کرنے والے پاکستانی فوجی اپنے کندھوں پر 25 سے 30 کلو وزنی سامان اٹھا کر ہزاروں فٹ بلندی پر سفر کرتے ہیں۔ اس سامان میں آکسیجن کنستر، برفانی کلہاڑی، خشک کھانا، رسیاں، خاص جرابیں اور دستانے شامل ہوتے ہیں۔ ان فوجیوں کے لیے برف پر چلنے والے مخصوص جوتے ہی صرف دس کلو وزنی ہوتے ہیں۔

سیاچن پر کام کرنے کے لیے فوجیوں کو رفتہ برفتہ اونچی چوکیوں پر بھیجا جاتا ہے۔ کرنل عامر اسلام نے بتایا کہ عام طور پر فوجی ایک چوکی پر 45 دن کام کرتے ہیں جس کے بعد انھیں دوسری چوکی پر بھیج دیا جاتا ہے لیکن سردی کے موسم میں ایسا کرنے کافی دشوار ہوتا ہے کیونکہ برفانی طوفان اور تیز جھکڑ سے جان جانے کا کافی خدشہ ہوتا ہے۔

سیاچن کے محاذ پر وقت گزارنے کے بعد اس بات کا واضح اندازہ ہوتا ہے کہ ایک فوجی جو زندگی سیاچن پر گزارتا ہے اسے وہ تجربہ کسی اور محاذ پر نہیں مل سکتا۔

سیاچنفوجی اکثر رات کے اوقات میں الاؤ کے سامنے گپ شپ کرتے ہیں اور گانے گاتے ہیں

معمولی کام جیسے دانت برش کرنا، باتھ روم جانا، شیو کرنا، یہ تمام چیزیں 18000 فیٹ کی بلندی پر کرنا جان جوکھوں سے کم نہیں ہے۔ منفی 20 ڈگری کی سردی میں جلد پر ٹھنڈے پانی لگنے کا مطلب ہے فراسٹ بائیٹ اور اس کا علاج صرف اس عضو کو کاٹ کر پھینکنا ہے۔

کراچی سے تعلق رکھنے والے میجر نے بی بی سی کو بتایا کہ وہاں پر ایک اور چیلنج کھانے کا ہوتا ہے۔

‘ہمیں بس راشن ایک دفعہ ملتا ہے سال میں جسے ہم برف میں سٹور کر لیتے ہیں۔ اور وہ کھانے اگر نہ ہی کھائیں تو بہتر ہے۔’

دوسری جانب کھانا بنانا ایک الگ امتحان ہوتا ہے کیونکہ اتنی اونچائی پر صرف دال گلانے میں اکثر چار سے پانچ گھنٹے لگ جاتے ہیں۔ ان کے مطابق جب وہ اپنی ڈیوٹی مکمل کر کے نیچے آئے تو ان کا وزن 18 کلوگرام کم ہو چکا تھا۔

سیاچن
سیاچن کی اگلی پوسٹوں پر موجود فوجیوں کے لیے پورٹر سامان اکھٹا کر رہے ہیں جن میں سب سے اہم مٹی کا تیل ہوتا ہے۔

لیفٹینٹ کرنل نے بی بی سی کو بتایا: ‘آپ سیاچن پر دشواری کا اندازہ اس بات سے لگائیں کہ جب ہم اوپر جاتے ہیں تو تربیت میں بولا جاتا ہے کہ کم ہلو اور آکسیجن بچاؤ۔ لیکن دوسری جانب 19000، 20000 فیٹ کی بلندی پر آپ ساکت نہیں بیٹھ سکتے کیونکہ اس قدر شدید سردی میں خون جمنے کا خطرہ ہوتا ہے۔ آپ کریں تو کیا کریں؟’

جسمانی بیماریوں کے علاوہ ایک اور مسئلہ ذہنی حالت بھی ہے جس کا تذکرہ کم ہی ہوتا ہے۔

حال ہی میں چھ ماہ بعد سیاچن سے واپس آنے والے سپاہی شکور نے بی بی سی کو بتایا کہ انھیں وہاں سب سے زیادہ تکلیف تنہائی سے ہوئی تھی۔

‘میں نے وہاں 21 ہزار فٹ کی بلندی پر موجود چوکی پر تین ماہ گزارے تھے اور وہاں پر میرے ساتھ آٹھ اور ساتھی تھے۔ آپ ان آٹھ لوگوں کے ساتھ 24 گھنٹے اٹھنا بیٹھنا ایک ایسے خیمہ میں کرتے ہیں جہاں بمشکل چار لوگوں کی جگہ ہوتی ہے۔ آپ کے پاس باتیں ختم ہو جاتی ہیں کرنے کو۔’

ملتان کے قریب گاؤں سے تعلق رکھنے والے سپاہی شکور نے بی بی سی کو بتایا کہ سیاچن پر جانے کے دو ہفتے بعد ان کے والد کا انتقال ہو گیا لیکن وہ نیچے نہیں آسکتے تھے۔

‘ایک دفعہ آپ اوپر چلے گئے تو کچھ نہیں ہو سکتا۔ بس افسوس کر سکتے ہیں، اور کیا کریں گے۔’

سیاچن
Image captionسیاچن کا موجودہ نقشہ

تنہائی کے اس ماحول میں فوجی آخر وقت کیسے صرف کرتے ہیں؟ کراچی سے تعلق رکھنے والے میجر نے بتایا: ‘یہی ہمارے لیے سب سے مشکل ہوتا ہے کہ دن کیسے کاٹیں؟ ہمارے پاس لوڈو ہوتی ہے، تاش کے پتے ہوتے ہیں، کبھی ہم ایک دوسرے کو گانے سناتے ہیں تو کبھی ہم ایک دوسرے کے ساتھ ہنسی مذاق کرتے ہیں یا موبائل سے سیلفیاں لیتے ہیں۔ سیاچن کی چوکی پر کوئی بات پوشیدہ نہیں رہ سکتی۔ ہم اپنے تمام راز اور خفیہ باتیں بتانے پر مجبور ہو جاتے ہیں کیونکہ اور کچھ ہوتا نہیں ہے کرنے کو۔’

البتہ کبھی کبھار ان فوجیوں کو خوشیاں منانے کے مواقع ملتے ہیں جس سے وہ پوری طرح لطف اندوز ہوتے ہیں۔ سپاہی محمد شفیق نے بتایا کہ حال ہی میں ہونے والی چیمپئنز ٹرافی جس میں پاکستان نے انڈیا کو فائنل میں شکست دی تھی، تو اس کے بعد انھوں نے اپنے ساتھی فوجیوں کے ساتھ مل کر اس جیت کا جشن منایا اور ڈھول کی تھاپ پر رقص کیا۔

لیفٹینٹ کرنل نے کہا کہ بس یہی چھوٹی چھوٹی خوشیاں ہوتی ہیں جن کے آسرے پر وہ اپنا وقت گزارتے ہیں۔

‘ہمارے پاس صرف یہی ہے ورنہ اگر ایسا نہ کریں تو ہم سب ادھر رہ کر مایوسی کے مریض بن جائیں گے۔ سارا سارا دن اتھاہ تنہائی کے عالم میں، خون جمانے والی سردی میں چاروں طرف برف کی چادر کو دیکھنا اور ایک ان دیکھے دشمن سے لڑنا اور کچھ نہیں صرف دیوانگی ہے۔’

۔

You May Also Like

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے