کیلکولیٹرز بچوں کے لیے مفید ہیں: تحقیق

ابھی کچھ ہی عرصہ پہلے تک کیلکولیٹرز کو ریاضی میں کمزور طلبہ کی بیساکھی تصور کیا جاتا تھا۔

تاہم تازہ ترین تحقیق سے معلوم ہوا ہے یہ جادوئی آلات نوجوان طالبہ میں ریاضی کے ہنر کو بڑھنے سے روکنے کی بجائے اس کو بڑھانے میں مدد کرتے ہیں۔

اکیڈیمکس فار ایجوکیشن انڈاؤمنٹ فاؤنڈیشن کی تحقیق سے یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ اگر کیلکولیٹرز کا استعمال درست انداز میں سکایا جائے تو یہ صرف ریاضی ہی نہیں بلکہ طلبہ میں پروبلم سول ونگ یعنی مسائل کو حل کرنے والی سوچ بھی پیدا کرتے ہیں۔

تنظیم کا کہنا ہے کہ کیلکولیٹرز سب سے زیادہ مفید اس وقت ہوتے ہیں جب انھیں تدرسی سامان کا حصہ بنایا جاتا ہے۔

یاد رہے کہ 2014 میں حکومت نے 11 سالہ بچوں کے لیے منعقد کیے گئے ریاضی کے قومی امتحان میں کیلکولیٹرز ممنوع کر دیے تھے۔

2012 میں اس بات کا اعلان کرتے ہوئے وزیرِ تعلیم الزبتھ ٹرس کا کہنا تھا کہ اس اقدام سے کلاس روم میں بالکل بنیادی ریاضی کرتے ہوئے ان پر انحصار کم ہوگا۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ تمام نوجوان بچوں کو کیلکولیٹرز کی مدد سے پیچیدہ حساب کرنے سے پہلے جمع، تفریق، پہاڑے، اور تقسیم کے بنیاد اصول آنے چاہئیں۔

اس اقدام کے قبل حکومت کی جانب سے کیلکولیٹرز کے پرائمری سکولوں میں استعمال کا حکومت نے جائزہ لیا تھا۔

’مشکل ہندسے‘
اس تازہ رپوٹ کے ایک محقق، یونیورسٹی کالج لندن میں ریاضی کی تعلیم کے شعبے کے سربراہ پروفیسر جیرمی ہوجن کا کہنا ہے کہ یہ انتہائی اہم ہے کہ دیگر طریقوں کے ساتھ ساتھ بچے کیلکولیٹرز استعمال کریں۔

ان کا کہنا تھا کہ حساب کے درست ہونے کو چیک کرنے کے لیے کیلکولیٹرز اہم ہیں تاکہ بچے پیچدہ حساب کرنے کے اہل ہو جائیں۔

انھوں نے کہا کہ کمپنیاں ریاضی میں صلاحیت کو اہم سمجھتی ہیں مگر انھیں صرف کوئی ایسا شخص نہیں چاہیے جو پہاڑے زبانی جانتے ہوں، انھیں ایسے لوگ چاہییں جو دنیا میں مسائل حل کر سکتے ہوں۔

’دنیا میں کوئی بھی 4271.36 کو 289.67 سے ضرب دماغ میں نہیں دے رہا۔ مگر آپ کو پتا ہونا چاہیے کہ یہ تقریباً 12 لاکھ کے قریب ہے تاکہ اگر آپ کا جواب 123000 تو آپ کو معلوم چل جائے کہ آپ نے کوئی غلط بٹن دبا دیا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے