کیلاش کافر ستان

لاہور (ویب ڈیسک) قدیم زمانوں میں کافر ستان میں عجیب و غریب رسم بڑالک ہوا کرتی تھی ۔ کالاش چرواہوں میں سب سے خوبصورت قوی اور جوشیلے جوان جس کی مردانگی کی تصدیق بیس خوبصورت لڑکیاں کرتی تھی کا انتخاب کیا جاتا تھا ۔ اس سے پہلے وادی کے جن سجل سورماوں کو یہ مان ہوتا تھا

نوجوان صحافی نعیم ملک اپنی ایک دلچسپ تحریر میں بتاتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔ کہ وہ بڈالک بن سکتے ہیں ۔ ان کو سیاہ چوغوں میں ملبوس یونانی دیویوں کے سامنے چار راتوں تک مسلسل رقص کرنا ہوتا تھا ۔ یہ مقابلہ پہاڑ کی چوٹی پر ہوتا تھا ۔ اور کچھ ہار کر بھاگ جاتے تھے ۔ رقص کی آخری رات دوشیزائیں ان میں سے چند ایک کا انتخاب کرتی تھیں جن میں وہ بڑالک بننے کا دم خم دیکھتی تھیں۔ بڑالک کا انتخاب موسم سرما کی سرد راتوں میں ہوتا تھا ۔ پہاڑ کی چوٹی پر کالاش دوشیزاوں کے منتخب کردہ نوجوانوں کو ایک جگہ اکٹھا کیا جاتا اس روز تمام کنواری لڑکیوں اور وہ عورتیں جن کے شوہر نہیں وہ بھی اکٹھی ہوتیں ۔ ان نوجوانوں کا باقاعدہ طبی معائنہ ہوتا اس معائنے میں نوجوانوں کے جسم کا ہر ایک حصہ اچھی طرح دیکھا جاتا۔ کہ کسی نوجوان میں کوئی نقص تو نہیں ۔ کبھی کسی بیمار جسم والے کو بڈالک نہ بنایا جاتا۔ عام طور پر ایک ہی بڈالک منتخب کیا جاتا تھا ۔ بڈالک کو وادی سے سات آٹھ میل دور چراگاہ کے قریب ایک معمولی سے مکان میں پہنچا دیا جاتا جواس کی اگلے چھ ماہ کے لئے اقامت گاہ ہوتی تھی ۔

اس کی ایک دیوتا کی طرح خاطر تواضح کی جاتی ۔ روزانہ اعلیٰ کھانے اور پنیر ، انڈے قدیم طبی فارمولے ، جڑی بوٹیاں اور جو لوگ اس کی خدمت پر مامور ہوتے وہ طب میں بھی ماہر ہوتے تھے ۔ بڈالک سیر کر سکتا تھا ۔ کسرت کر سکتا تھا ۔ اپنی صحت مندی کے لئے سب کر سکتا تھا ۔ بس شرط یہ تھی کہ واپس نہیں آ سکتا تھا۔ چھ ماہ وہاں قیام کرنا ہوتا تھا ۔ اس مقام پر عورت نہیں جا سکتی تھی ۔ اگر کبھی چوری چپکے رات کو بڈالک گاؤں آ جاتا تھا تو اسے فورا بڈالک کے منصب سے بر طرف کر کے نیا بڈالک منتخب کیا جاتا ۔ یہ کورس چھ ماہ کا ہوتا ۔ اگست کے مہینے میں مذہبی رہنما ایک دن مقرر کرتا ۔ وہ دن قومی تہوار کی طرح منایا جاتا۔ سب لوگ جمع ہوتے لڑکیاں بن سنور کر وہاں موجود ہوتیں ۔ بڈالک کے باپ کی قیادت میں جلوس کی شکل میں لوگ بڈالک کو لینے جاتے جب کہ لڑکیاں ہاتھوں میں لمبی مشعلیں لے کر چھا رسو پر جمع ہو جاتیں۔جب بڈالک پہاڑوں میں آوارہ پھرتا ہے اورخرمستیوں میں مصروف ہوتا ہے تو وادی کی لڑکیاں گھروں میں بے تابی سے اس کا انتظار کرتے ہوئے یہ گیت گاتی ہیں ۔

اے بڈالک تم دلدلوں میں پھر رہے ہو اور گائے کا تازہ دودھ پیتے ہو ذرا یہ تو خیال کرو میں اس وقت برف سے ڈھکی پہاڑوں میں کانپ رہی ہوں خشک میوئے ، انگور اور سیب کھاتی ہوں اور تمہارے انتظار میں دن بسر کر رہی ہوں مجھے بتاو کہ تم کب واپس آؤ گے اور مجھے اپنی بانہوں میں لے لو گے ۔ میں تمہارے لئے روزانہ اپنے بالوں کے کنڈل بناتی ہوں میری آنکھیں تمہارا راستہ دیکھ رہی ہیں ۔ ۔ تم آؤ گے تو میں تمہیں اپنی آنکھوں کی گہرائیوں میں جذب کر لوں گی ۔ تم نے چھ مہینے بڑا دکھ اُٹھایا ہے اور میں تمہاری ٹانگوں کی ساری تھکن نچوڑ لوں گی ۔ مجھے یہ بتاو تم کب آؤ گے ۔ لڑکیاں یہ گیت گا رہی ہوتی ہیں تو بڈالک بھی آ جاتا ہے جشن شروع ہو جاتا ہے گذشتہ سال منتخب ہوئی ملکہ تاج پہنئے ہوئے چھا رسو میں بڈالک کا استقبال کرتی ہے ۔ بڈالک ملکہ کو سلام کر کے تاج اس کے سر سے اُٹھا کر تخت پر رکھ لیتا ہے اگر کوئی اور ملکہ اس رات بن گئی تو پھر تاج اس کا ہو گا ورنہ پرانی والی ملکہ کا ۔ نوٹ۔( اگر بڈالک لڑکیوں کی گل چینی کرتے ہوئے تیس کی تعداد تک پہنچ جائے تو وہ تیسویں عورت اس جشن کی ملکہ قرار دی جائے گی ۔ اب بڈالک کو ملکہ لڑکیوں کے پاس لے کر جاتی ہے وہ پہلے بکرے کی بھنی ہوئی ران کھاتا ہے ۔ پھر محفل شروع ہو جاتی ہے ۔ رات جب شباب پر ہوتی ہے ۔ تب گل چینی کا عمل شروع ہوتا ۔ لڑکیاں پھول ہی تو ہوتی ہیں۔ تاروں کی طرح چمکتی پہلی لڑکی ۔ پہلا تارہ ٹوٹتا ہے ۔ دھہار چھار سو میں طبل بجاتا ہے ۔ لوگ سرشاری اور سر مستی میں رقص تیز کر دیتے ہیں ۔ ایک کے بعد ایک تارے ٹوٹتے جاتے ہیں۔ تیس لڑکیوں کی گل چینی اس شب بڈالک کے لئے بے حد ضروری ہوتی ہے ۔ تیسویں لڑکی ملکہ کہلاتی ہے بڈالک سے جو بچے پیدا ہوتے ہیں وہ شوہروں کے نہیں ہوتے والدین انہیں اپنی تحویل میں لے لیتے ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے