کیا لکڑی کے گودے سے کاروں کو ہلکا اور زیادہ مؤثر بنایا جا سکتا ہے؟

کیا لکڑی کے گودے سے کاروں کو ہلکا اور زیادہ مؤثر بنایا جا سکتا ہے؟

مستقبل کی گاڑیوں کے پرزہ جات حیران کن مواد سے بنائے جاسکیں گے یعنی لکڑی۔

جاپان میں تحقیق کار لکڑی سے ایک ایسا مضبوط مواد بنانے کی کوشش کررہے ہیں جو 10 سال کے دوران گاڑی میں سٹیل کے پرزہ جات کی جگہ لے سکے۔

جاپان میں ہی ایسی پلاسٹک تیار کرنے پر بھی تیزی سے کام جاری ہے جو شدید درجہ حرارت کو برداشت کر سکے اور انجن کے اندر دھات کے پرزوں کی جگہ استعمال ہو سکے۔

2025 سے ڈیزل سے چلنے والی گاڑیوں پر پابندی

کار چور جیمرز کا استعمال کر سکتے ہیں

یہ تمام تجربات اس وسیع صنعت کا حصہ ہیں جو گاڑیوں کو ہلکا بنانا چاہتی ہے۔

لکڑی، گاڑیاں، پرزےتصویر کے کاپی رائٹGETTY IMAGES
Image captionپتلی گاڑیاں کم ایندھن استعمال کرتی ہیں

آئی ایچ ایس مارکٹ کے پرنسپل آٹوموٹیو کومپو ننٹ انالسٹ پائلو مرٹینو کا کہنا ہے کہ ’گاڑیوں کا وزن ممکنہ حد تک کم کرنے کی جلدی پڑی ہوئی ہے، خصوصاً وہ گاڑیاں جو زیادہ آلودگی پھیلاتی ہیں، جیسے کہ ایس یو ویز یا ٹرک۔‘

پتلی گاڑیاں کم ایندھن استعمال کرتی ہیں۔ امریکی محکمہ توانائی کا کہنا ہے کہ گاڑی کے وزن میں 10 فیصد کمی سے ایندھن میں آٹھ فیصد تک بچت کی جا سکتی ہے۔

’ٹرمپ کی پالیسیوں پر اعتماد‘، فورڈ موٹرز کا منصوبہ منسوخ

ماٹینو کا کہنا ہے کہ کار ساز ادارے بھی بجلی سے چلنے والی گاڑیوں کے وزن کو ممکنہ حد تک کم کرنے کی کوششیں کر رہے ہیں تاکہ وہ ایک بار چارج ہوکر زیادہ فاصلہ طے کر سکیں اور بیٹری کے مسائل حل کیے جا سکیں جن کا سامنا گاڑیوں کے مالکان کو کرنا پڑتا ہے۔

ایسی صورتحال میں درخت کی جانب دیکھا جاتا ہے جس کی لکڑی سے پہلے ہی بحری جہاز، گھر اور فرنیچر بنایا جاتا ہے۔

لکڑی، گاڑیاں، پرزےتصویر کے کاپی رائٹGETTY IMAGES
Image captionتحقیقکاروں کا کہناہے کہ لکڑی کے گودے سے ایسا مواد بنایا جا سکتا ہے جو سٹیل جتنا مضبوط ہو

جاپان کی کایوٹو یونی ورسٹی کے تحقیق کاروں کا کہنا ہے کہ لکڑی کے گودے سے ایسا مواد بنایا جا سکتا ہے جو سٹیل جتنا مضبوط ہو لیکن اس کے مقابلے میں 80 فیصد ہلکا ہو۔

ایک ٹیم نے لکڑی کے گودے کا کیمیائی تجربہ کیا ہے جو کہ لاکھوں سیلولوس نینوفائبر یا (سی این ایفس) پر مشتمل ہوتا ہے۔ اس تجربے کے بعد ان سی این ایفس کو پلاسٹک کی شکل میں ڈھالا گیا ہے۔

تحقیق کاروں کا کہنا ہے کہ لکڑی کے گودے کے مرکبات یعنی سی این ایفس کو جب پلاسٹک کے ساتھ ملایا جاتا ہے تو ایک مضبوط اور ’ہائبرڈ‘ یعنی دو نسل کا ایک ایسا مواد بنتا ہے جو گاڑیوں کے پرزوں میں سٹیل کی جگہ استعمال کیا جا سکتا ہے۔

کایوٹو یونی ورسٹی میں کی جانے والی تحقیق کے سربراہ پروفیسر ہیرویوکی یانو کہتے ہیں کہ یہ مواد گاڑیوں کے دروازوں، فینڈرز اور بونٹ میں استعمال کیا جا سکتا ہے۔ ان کے مطابق تحقیق کار اس مواد کی تیاری کے لیے جاپانی حکومت، کارساز اداروں اور صنعتکاروں کے ساتھ مل کر کام کر رہے ہیں۔

لکڑی، گاڑیاں، پرزےتصویر کے کاپی رائٹGETTY IMAGES
Image captionجاپان میں تحقیکار گاڑی کے پرزوں کے لیے مخصوص پلاسکٹ کی تیاری پر بھی کام کر رہے ہیں

لیکن فراسٹ اینڈ سلیوان نامی مشاورتی ادارے کے نائب صدر ویوک وائدیا کو اس پر شبہ ہے۔ وہ یہ سمجھتے ہیں کہ انجن کے علاوہ گاڑی کے ایسے پرزے جو ’غیر کارگر‘ ہوں یعنی ٹرنشمیشن اور پہیے وغیرہ وہ لکڑی کے گودے سے بنائے گئے مواد سے بنائے جا سکتے ہیں لیکن پرزہ جات بنانے والوں کو کارساز اداروں کی پیداوار کی مناسبت سے اپنی پیداوار بڑھانی پڑے گی۔

ان کا کہنا ہے کہ ‘کئی پرزے ضرورت پڑنے پر فراہم کیے جاتے ہیں تو چاہے لکڑی ہو یا پھر نامیاتی مواد، کیا وقت پڑنے پر فوراً فراہم کیا جا سکتا ہے؟ یہ ایک سوالیہ نشان ہے’۔

اس کے علاوہ جاپان میں ہی تحقیق کار گاڑی کے پرزوں کے لیے مخصوص پلاسکٹ کی تیاری پر بھی کام کر رہے ہیں۔

جاپان ایڈوانس انسٹیٹیوٹ آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کے پروفیسر تاتسو کانیکو حیاتیاتی مالیکیولز کے ذریعے پلاسٹک بنا رہے ہیں۔

لکڑی، گاڑیاں، پرزےتصویر کے کاپی رائٹGETTY IMAGES
Image captionجاپان ایڈوانس انسٹیٹیوٹ آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کے پروفیسر تاتسو کانیکو حیاتیاتی مالیکیولز کے زریعے پلاسٹک بنا رہے ہیں

تحقیق کاروں کا دعویٰ ہے کہ یہ نیا مادہ بھی سٹیل سے زیادہ ہلکا ہے اور 300 ڈگری سینٹی گریڈ تک درجہ حرارت کو برداشت کر سکتا ہے۔

پروفیسر کانیکوکہتے ہیں ‘پلاسٹک گاڑیوں کے پرزوں میں استعمال نہیں ہوا کیونکہ انھیں انجن بلاک میں حدت سے مزاحمت کی زیادہ ضوروت ہوتی ہے اور وہ اس حدت کو برداشت کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتے۔ لیکن میں نے جو بایو پلاسٹک بنائی ہے وہ شدید حدت کو برداشت کر سکتی ہے’۔

وہ اپنی تحقیق کے دوران جاپان میں کئی کار ساز اداروں، پرزہ جات بنانے والے اور غیر ملکی اداروں کے ساتھ مل کر کام کر رہے ہیں۔

وہ اپنے بنائے ہوئے مواد کا سب سے بڑا فائدہ یہ سمجھتے ہیں کہ اس سے گاڑیوں کے وزن میں کمی آئے گی یہ آئندہ پانچ سالوں کے دوران سٹیل کا قبل عمل نعم البدل بن جائے گا۔

You May Also Like

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے