کیا امداد بند کرنے سے امریکہ کا مقصد پورا ہو گا؟

امریکہ کی جانب سے پاکستان کی عسکری امداد بند کیے جانے پر ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ محض امریکہ کی جانب سے پاکستان پر دباؤ بنانے کا حربہ ہے اور پاکستان امداد کے بغیر بھی دہشت گردی کے خلاف اپنی جنگ جاری رکھ سکتا
مسلم لیگ نون کے رہنما لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ عبدالقیوم کا کہنا ہے کہ اگر امریکہ محض پاکستان پر دباؤ ڈالنا چاہتا ہے تو شاید وہ کسی حد تک کامیاب ہو جائے گا کیونکہ ہمارے دفاعی نظام کا زیادہ تر دارو مدار امریکہ پر رہا ہے، لیکن امریکہ کی جانب سے ماضی میں پابندیوں کے بعد پاکستان نے خود انحصاری پر توجہ دی۔
’اب ہماری دفاعی پیداوار بڑی حد تک ہماری ضرورتیں پوری کر دیتی ہیں۔ بلکہ ہم نے ان کا رخ بدلتے ہوئے چین سے نہ صرف ہتھیار بلکہ ان کو تیار کرنے کی ٹیکنالوجی بھی حاصل کی ہے۔ اب پاکستان جے ایف 17 تھنڈر، الخالد ٹینک، بحری جہاز اور آبدوزیں ہم خود بنا رہے ہیں۔‘

’تاہم اب بھی کچھ پرانے عسکری آلات کے پرزہ جات کے لیے ہمارا انحصار امریکہ پر ہی ہے اور ہم نہیں چاہتے کہ اتنے اہم ملک کے ساتھ ہمارا اختلاف ہو۔‘

دفاعی تجزیہ کار لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ طلعت مسعود کا اس حوالے سے کہنا تھا کہ ’امریکہ کو خدشہ ہے کہ پاکستان اب بھی ان کے مفادات کے مخالف پالیسیسز بنا رہا ہے، لیکن پاکستان کو شاید ایسا لگتا ہے کہ امریکی مطالبات سے ایسا تاثر ملتا ہے کہ افغانستان کی جنگ بھی پاکستان لڑے اور اسی بات پر اختلافات ہیں۔‘

’پاکستان کا موقف یہ ہے کہ حقانی نیٹ ورک اور افغان طالبان کے پاس خود افغاستان میں اتنی جگہ موجود ہے کہ انہیں پاکستان میں رہنے کی ضرورت نہیں اور امریکہ خود تسلیم کر چکا ہے کہ 13 فیصد افغان علاقہ ان کے کنڑول میں ہے اور 30 فیصد علاقے پر کسی کا بھی اختیار نہیں۔‘

لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ طلعت مسعود کے بقول ’اب دیکھنا یہ ہے کہ کیا پاکستان ایسی پالیسیز بنائے گا جو محض امریکہ کو ہی خوش کریں؟‘

ماہرین اس بات سے اتفاق کرتے ہیں کہ یقیناً اگر کولیشن سپورٹ فنڈ بھی بند ہو جاتا ہے تو پاکستان کی دہشت گردی کے خلاف جنگ متاثر ضرور ہو گی۔

جنرل (ر) عبدالقیوم کا کہنا ہے کہ ’پاکستان چونکہ کوئی امیر ملک نہیں ہے اس لیے اس کا زیادہ انحصار اسی کولیشن سپورٹ فنڈ پر تھا۔ تاہم خود امریکہ نے افغانستان میں اسی فنڈ کی مد میں 700 ارب ڈالر خرچ کیے اور آج بھی وہ ناکام ہے اور 43 فیصد افغانستان پر ان کا کنٹرول نہیں ہے۔ جبکہ پاکستان 17 سے 18 ارب میں اس جنگ میں کامیاب ہوا ہے۔ کہاں 700 ارب اور کہاں 17 بلین۔ اس میں سے بھی ابھی آٹھ یا نو ارب امریکہ نے دینے ہیں۔‘

جنرل (ر) عبدالقیوم کے مطابق امریکہ کی یہ خفگی شاید پاکستان کے عدم تعاون سے زیادہ اس کے خطے میں مفادات کا تحفظ نہ ہونے پر ہے۔

لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ طلعت مسعود کے مطابق ’پاکستان کو یہ بات سمجھ جانا چاہیے کہ امریکی امداد اب ماضی کا قصہ ہے۔ اب اسے اپنے وسائل خود سے تخلیق کرنے پر دھیان دینا ہو گا۔‘

ان کا مزید کہنا تھا کہ ’پاکستان کو اپنا دفاع کرنے کے لیے دوسروں پر انحصار کرنا چھوڑنا ہوگا۔ تاہم پاکستان امریکہ کی افغانستان کے لیے فوجی رسد پر سوال اٹھاتے ہوئے اس کے لیے معاوضہ وصول کر سکتا ہے۔ ‘

لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ طلعت مسعود کے بقول پاکستان کے پاس جوابی دباؤ کے لیے بیشتر آپشن موجود ہیں۔
جنرل (ر) عبدالقیوم کے مطابق ’ایک ایسا ملک جس پر آپ کا انحصار رہا ہو اس کا تعاون کھونے سے برا اثر تو پڑے گا، لیکن امید ہے کہ پاکستان اس پر قابو پا لے گا اور امریکہ کو قائل کرے گا کہ وہ اس پر دوبارہ غور کرے۔‘

’پاکستان کو چین کا تعاون حاصل ہے اور فضائی دفاعی نظام کے لیے روس سے بھی بات چیت ہو رہی ہے، اس کے علاوہ بھی دنیا میں پاکستان کے دوست ممالک ہیں لیکن بہرحال پاکستان چاہے گا کہ امریکہ جیسی اقتصادی اور فوجی قوت کے ساتھ بھی اس کے تعلقات خراب نہ ہوں۔‘

اپنی ناکامیاں چھپانے کے لیے پاکستان پر الزام تراشیاں امریکہ کے لیے ناگزیر ہیں۔ ’افغانستان میں انتظامی امور بدحال ہیں، منشیات کا کاروبار پھر سے عروج پر ہے اور سیاسی قیادت عبداللہ عبداللہ اور اشرف غنی میں بھی اختلافات ہیں اور جنگجو مضبوط ہوتے جا رہے ہیں۔‘

’ایسے میں پاکستان کو مزید شفاف ہونے کی ضرورت ہے تاکہ ان پر کوئی الزام نہ عائد کر سکے۔‘

لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ طلعت مسعود کے بقول ’اس پابندی سے کمزور اقتصادی صورتحال میں پاکستان پر دباؤ تو کافی ہو گا، لیکن یہ ایک اعتبار سے باعث رحمت بھی ہو سکتا ہے کیونکہ پاکستان خود انحصاری پر توجہ دے گا۔‘

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے