کوئٹہ میں بم دھماکا، متعدد افراد زخمی

صوبہ بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں قائم چرچ میں بم دھماکے اور فائرنگ کے نتیجے میں متعدد افراد زخمی ہوگئے۔

سیکیورٹی حکام نے تصدیق کی کہ بم دھماکا کوئٹہ کے امداد چوک پر قائم ایک چرچ میں ہوا جس کے بعد مبینہ دہشت گردوں نے فائرنگ بھی کی اور واقعے میں متعدد افراد زخمی ہوگئے۔

سیکیورٹی حکام نے بتایا کہ دھماکے کے وقت چرچ میں دعائیہ تقریب جاری تھی، اس موقع پر لوگوں کی بڑی تعداد چرچ میں موجود تھی۔

ریسکیو ذرائع کے مطابق زخمیوں کو فوری طور پر کوئٹہ سول ہسپتال منتقل کیا جارہا ہے تاہم جائے وقوع پر سیکیورٹی اہلکاروں اور مبینہ دہشت گردوں کے درمیان فائرنگ کے تبادلے کے باعث امدادی سرگرمیوں میں مشکلات کا سامنا ہے۔

سرکاری حکام کے مطابق دھماکے کے بعد کوئٹہ بھر کے ہسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کردی گئی۔

سیکیورٹی اہلکاروں نے جائے وقوع پر پہنچ کر علاقے کو گھیرے میں لے لیا اور غیر متعلقہ افراد کو جائے وقوع کی جانب جانے کی اجازت نہیں دی گئی۔

حکام کے مطابق متاثرہ علاقے کے قریب کوئٹہ کا ریلوے اسٹیشن جبکہ اہم سرکاری عمارتیں بھی موجود ہیں جبکہ اس سے قبل ہی چرچ پر حملہ کیا گیا تھا جس کے بعد اس کی سیکیورٹی انتہائی سخت کردی گئی تھی۔

سرکاری حکام کے مطابق وزیراعلیٰ بلوچستان نواب ثناء اللہ زہری نے دھماکے کی مذمت کرتے ہوئے تمام متعلقہ اداروں کو پر ممکن اقدامات کرنے کی ہدایت کی۔

وزیر داخلہ بلوچستان سرفراز بگٹی نے ڈان نیوز سے بات چیت کرتے ہوئے حملے کی تصدیق کی اور بتایا کہ دھماکے کے بعد فائرنگ کی گئی جس میں متعدد افراد زخمی ہوئے۔

انہوں نے کہا کہ یہ ابتدائی معلومات ہیں جبکہ سیکیورٹی اہلکار موقع پر پہنچ چکے ہیں جہاں ایف سی اور پولیس اہلکاروں کا مبینہ دہشت گردوں سے مقابلہ جاری ہے۔

یاد رہے کہ کوئٹہ میں اقلیتوں، مذہبی رہنماؤں سمیت پولیس اور سیکیورٹی اہلکاروں کو نشانہ بنایا جاتا رہا ہے اور پولیس کے سینیئر افسران کو قتل کیا جاچکا ہے۔

اس سے قبل 25 نومبر 2017 کو بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں دھماکے میں 6 افراد جاں بحق جبکہ 19 زخمی ہوگئے تھے۔

کوئٹہ کے علاقے نواں کلی میں رواں ماہ 15 نومبر کو مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں قائم مقام ایس پی انوسٹی گیشن محمد الیاس، ان کی اہلیہ اور بیٹے سمیت خاندان کے چار افراد ہلاک ہوئے تھ

اس سے ایک ہفتہ قبل (9 نومبر کو) کوئٹہ کے حساس علاقے چمن روڈ پر قاتلانہ حملے میں ایڈیشنل انسپکٹر جنرل (اے آئی جی) بلوچستان پولیس حامد شکیل جاں بحق ہوگئے تھے۔

خیال رہے کہ گزشتہ کچھ برسوں میں سیکیورٹی اداروں نے امن عامہ کی صورت حال کو بہتر کرنے کے لیے کئی اقدامات کیے ہیں، تاہم شرپسند عناصر تخریبی کارروائیوں کی کوشش میں کامیاب ہو جاتے ہیں، پاک چین اقتصادی راہداری (سی-پیک) میں بلوچستان کے اہم کردار کی وجہ سے حکام دیگر ممالک کے خفیہ اداروں پر حالات خراب کرنے کے الزامات عائد کرتے رہے ہیں۔

اس حوالے سے صوبائی حکومت متعدد مرتبہ یہ دعویٰ کرچکی ہے کہ بھارت کی خفیہ ایجنسی ’را‘، افغانستان کی خفیہ ایجنسی ’این ڈی ایس‘ کے ساتھ مل کر پاکستان کو غیر مستحکم کرنے کی سرگرمیوں میں ملوث ہے۔

نوٹ: یہ ابتدائی خبر ہے جس میں تفصیلات شامل کی جا رہی ہیں۔ بعض اوقات میڈیا کو ملنے والی ابتدائی معلومات درست نہیں ہوتی ہیں۔ لہٰذا ہماری کوشش ہے کہ ہم متعلقہ اداروں، حکام اور اپنے رپورٹرز سے بات کرکے باوثوق معلومات آپ تک پہنچائیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے