کراچی کے ڈھابوں او رہوٹلز میں مرغی کی جگہ کچھوے کے انڈے کے آملیٹ کھلائے جانے کا نکشاف

کراچی کے ڈھابوں او رہوٹلز میں مرغی کی جگہ کچھوے کے انڈے کے آملیٹ کھلائے جانے کا نکشاف

کراچی کے ڈھابوں او رہوٹلز میں مرغی کی جگہ کچھوے کے انڈے کے آملیٹ کھلائے جانے کا نکشاف ہوا ہے ۔ تفصیلات کے وائلڈ لائف کے اہلکار اور مضافاتی علاقوں میں موجود کچھوا فارمز کے مالکان اکثر شہر کے ہوٹلوں کو کچھووں کے انڈے فراہم کرتے ہیں ۔یہ انڈے زیادہ تر آملیٹ کی صورت میں گاہکوں کو پیش کئیے

جاتے ہیں ۔ذرائع کے مطابق زیادہ تر انڈے کوٹوال چائے کے ہوٹلوں اور کراچی کے پوش علاقوں میں کھلنے والے ڈھابوں پر آملیٹ اور انڈہ پراٹھا کی شکل میں فروخت کیے جاتے ہیں ۔‎‎کیاکچھوے کاانڈاحلال ہے یاحرام ؟ اس سوال کو ہنسی، دل لگی مت سمجھنا۔ ادھر سندھ میں اس مسئلہ نے اتنی گمبھیر صورت اختیار کر لی ہے کہ سندھ اسمبلی میں اس کی گونج سنائی دی۔ اصل میں تو وہاں پرندوں کے مسائل زیر بحث تھے۔ یہ مسائل اگر اسمبلی میں زیر بحث آئے تو یہ اچھا ہی ہوا‘ برا نہ ہوا۔ آپ دیکھتے نہیں کہ تھرپارکر کے مور پچھلے دنوں کس مشکل میں گرفتار رہے ہیں۔ اس حسین و جمیل پرندے کو کوئی ایسی بیماری لگ گئی کہ ناچتے ناچتے چکر کھایا اور چکرا کر گر پڑا۔ بس اسی میں اس کا طائر روح قفس عنصری سے پرواز کر گیا۔ اور وہاں گدھ۔ وہ تو لگتا ہے کہ پورے برصغیر میں عنقا بن جائے گا۔ دلی کے پھیرے میں ہم آتے جاتے لودھی گارڈنز کے بیچ کھڑے بلند و بالا گنبدوں پر نظر دوڑاتے تو دیکھتے کہ ہر گنبد پہ گدھ بیٹھے سستا رہے ہیں۔ لیکن اب کئی ایک برسوں سے یہ نقشہ ہے کہ دلی کے کسی ٹھئے پر کسی گنبد پر بیٹھے نظر نہیں آتے۔ اور یہ گدھ جنھیں کل تک بڑی حقارت سے دیکھا جاتا تھا، اب عنقا ہو گئے تو یاروں پر کھلا کہ ارے ارے یہ تو بڑے کام کا پرندہ تھا۔ سب سے بڑھ کر یہ کہ مردوں کو ٹھکانے لگانے کا فریضہ انجام دیتا تھا۔ گلی سڑی لاشوں تک کو کھا پی کر ٹھکانے لگا دیتا تھا۔ اب وہ نظر نہیں آتا تو سوال اٹھ رہا ہے کہ گدھ کہاں گئے۔ بس ان میں مری پھیل گئی۔ سندھ اسمبلی میں یہ مسئلہ زیر بحث تھا۔ موروں کی بیماری کے بارے میں سوالات اٹھائے۔ موروں کی موت پر تشویش اور افسوس کا اظہار کیا جا رہا تھا کہ ایک رکن اسمبلی نے اس سے بھی بڑھ کر ایک اہم سوال کھڑا کر دیا کہ کچھوے کے انڈے حلال ہیں یا حرام ہیں۔ لیجیے ساری بحثیں پس منظر میں چلی گئیں سندھ اسمبلی میں اس مسئلہ نے مرکزی حیثیت اختیار کر لی۔ اسمبلی کے اسپیکر صاحب نے اپنی دانست میں یہ کہہ کر بات ختم کر دی کہ انڈا بہر حال انڈا ہوتا ہے۔ مطلب یہ تھا کہ انڈا تو بہر حال کھانے کے لیے ہوتا ہے۔ اس کے بارے میں یہ سوال اٹھانا کہ حلال ہے یا حرام ہے وقت کا زیاں ہے۔ انڈا کوئی بھی ہو‘ کسی بھی پرندے کا ہو بے چون و چرا کھائو اور موٹے ہو جائو۔مگر حلال حرام کا مسئلہ بجائے خود اتنا اہم مسئلہ ہے کہ وہ مسلمانوں کی تاریخ میں ہمیشہ زیر بحث رہا ہے تو اس سے قطع نظر کہ وہ جانوروں کے گوشت کے حلال و حرام پر ہے یا پرندوں کے انڈوں کے بارے میں ہے وہ مسئلہ آسانی سے نبٹایا نہیں جا سکتا۔ ملا کا فتویٰ ہی اس بیچ شاید فیصلہ کر سکے۔ مگر بسا اوقات خود ملا کا فتویٰ متنازع فیہ بن جاتا ہے اور مُلا کی مُلائی حیثیت کے بارے میں سوال اٹھنے لگتے ہیں۔ شاید وہ کوئی مُلا ہی تھا‘ سوداؔ کے زمانے کا مُلا جس نے یہ فتویٰ دیا تھا کہ کوّا حلال پرندہ ہے۔ اس پر شور مچ گیا کہ ارے یہ کون مسخرا ہے جس نے کوے کو حلال قرار دیدیا۔ سوداؔؔ کو ایسا موقعہ خدا دے۔ فوراً ایک ہجویہ نظم لکھئے ڈالی۔ ملا حظہ کیجیے بگڑا ہے آج مجتہدوں بیچ کیا یہ نیل مُلا لطیف بولے کہ کھانا روا ہے چیل کہتا ہے چاند خاں کیا کِن نے حرام فیل حِلّت پہ مینڈکی کی میاں جی کی سو دلیل اک مسخرا یہ کہتا ہے کوا حلال ہے دیکھا آپ نے ایک کوے کو حلال قرار دیدینے سے بات کہاں تک پہنچی ہے۔ چیل‘ مینڈکی‘ ہاتھی سب ہی کی حلت و حرمت کے بارے میں سوال اٹھ کھڑے ہوئے۔ اب اس باورچی کی سنو جو کوے کے گوشت کی ہنڈیا پکا رہا تھا؎ تیار جس گھڑی کہ وہ کرتا تھا ماحضر کوے کی حلت اس سے جو پوچھے تھا آن کر جھنجھلا کے یہ جواب اسے دیوے تھا نفر جانے مرا فلانا‘ مجھے ہے یہ کیا خبر اک مسخرا یہ کہتا ہے کوا حلال ہے آخر میں باورچی زچ ہو کر یوں کہتا ہے؎ پکوا کے اج کوّا انھوں نے یہ کی ہے دُھوم کل یوں کہیں گے واسطے میرے پکائو بُوم یہ نوکری تو وہ کرے ایسا ہی جو ہو شوم تنخواہ اپنی لے کے یہ کہئے علی العموم اک مسخرا یہ کہتا ہے کوا حلال ہے تو صاحبو یہ حلال و حرام کا سوال ایسا ہے کہ ایک دفعہ اٹھ کھڑا ہو تو آسانی سے اسے بٹھایا نہیں جا سکتا بلکہ بحثا بحثی میں مسلمہ طور پر حلال جانور بھی حرام قرار پاتے ہیں۔ ارے اپنے گھر کی مرغی ہی کو لے لو۔ کتنی آسانی سے یار لوگ یہ سمجھ کر کہ گھر کی مرغی ہے اس کے گلے پہ چھری پھیر دیتے ہیں۔ مگر یہی مرغی جب دو ملائوں کے بیچ میں آ کر کڑکڑاتی ہے تو حرام ہو جاتی ہے۔ آپ نے مثل نہیں سنی کہ دو ملائوں کے بیچ میں مرغی حرام۔ مگر ایک مرغی پہ کیا موقوف ہے کوئی بھی شے دو ملائوں کے بیچ آ جائے تو سمجھ لو کہ اب وہ چکی کے دو پاٹوں کے بیچ آ گئی۔ پھر اسے حرام ہونا ہی ہے۔ تو ایک تو پاکستان ویسے ہی سو طرح کے مسائل کے ساتھ الجھا ہوا ہے۔ وہ مسائل کم تھے کہ سندھ اسمبلی کے ایک ستم ظریف نے ایک نیا بکھیڑا شروع کر دیا۔ یہ کہ کچھوے کا انڈا حلال ہے یا حرام ہے۔ ارے کب سے مرغی کے انڈوں کے نام پر قسم قسم کے انڈے بک رہے تھے بطخ کے انڈے‘ کبوتری کے انڈے‘ کچھوے کے انڈے اور انڈے کھانے والوں نے کبھی یہ نہیں سوچا کہ مرغی کے انڈے کے نام پر کس کس جناور کا انڈا ہمیں کھلایا جا رہا ہے۔ یاروں کو انڈا کھانے سے مطلب ہے انڈے گننے سے نہیں۔ انڈوں کا معاملہ یہ ہے کہ آم اور انڈا دونوں کو کھانے سے مطلب رکھو۔ گننے کے جھنجھٹ میں مت پڑو۔ اب جیسے کویل کا معاملہ ہے۔ اس کے ساتھ کوا کوی کیا ہاتھ کرتے ہیں۔ کویل کو غافل پا کر اپنے انڈے اس کے گھونسلے میں رکھ کر اڑنچھو ہو جاتے ہیں۔ کویل کُوکنے میں اتنی مست ہوتی ہے کہ یہ دیکھتی ہی نہیں کہ جو انڈے وہ سہہ رہی ہے وہ اس کے انڈے ہیں یا کسی غیر کے۔ اس کی آنکھیں تو اس وقت کھلتی ہیں جب انڈوں سے بچے نکلتے ہیں۔ وہ دیکھتی ہے کہ یہ بچے تو میرے نہیں ہیں۔ کمبخت کوی کے ہیں۔ پھر وہ انھیں چونچیں مارتی ہے۔ مگر یہ تو مار پیچھے پکار کی بات ہے۔ کوے ایسی ہی واردات فاختہ کے ساتھ کرتے ہیں جب ہی تو مثل مشہور ہے کہ دکھ بھریں بی فاختہ اور انڈے کوے کھائیں۔ لیجیے ان انڈوں کے چکر میں غریب مصیبت زدہ پرندوں کا مسئلہ بیچ ہی میں رہ گیا۔ خاص طور پر موروں کا مسئلہ۔ تھرپارکر کے مور پچھلے دنوں بہت مصیبت میں تھے۔ ایسی بیماری کی زد میں آ گئے تھے کہ مرتے چلے جا رہے تھے۔ اب کونسا مسئلہ ان کے سلسلہ میں درپیش تھا کہ اسمبلی تک یہ معاملہ پہنچا۔ مگر جس وزیر سے موروں کو پالا پڑا ہے وہ بتایا گیا ہے کہ کبھی اسمبلی میں آ کر صورت ہی نہیں دکھاتے کہ انھیں جواب دہی کرنی پڑے۔ اس اجلاس میں بھی وہ آ کر نہیں جھانکے۔ حزب اختلاف کے ممبر حضرات چیخ پکار کرتے رہے۔ وزیر موصوف اجلاس سے غائب تھے۔ کہیں بیٹھے ہوں گے کانوں میں روئی ٹھونسے ہوئے۔ ہوتے بھی تو انھیں کیا جواب دینا تھا۔ ایک کان سنتے دوسرے کان اڑا دیتے۔ انھیں اپنی وزارت سے مطلب ہے نہ کہ ان معاملات سے جو اس واردات کے واسطے سے انھیں تفویض ہوئے ہیں۔

You May Also Like

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے