چین نے معاہدے کے باوجود برہم پتر دریا کی معلومات نہیں دیں: انڈیا

چین نے معاہدے کے باوجود برہم پتر دریا کی معلومات نہیں دیں: انڈیا

چین اور انڈیا نے اگرچہ ممکنہ طور پر سرحد پر تصادم کو روک لیا ہو لیکن دونوں ممالک ایک بار پھر آمنے سامنے کھڑے ہو گئے ہیں اور اس بار تنازع پانی کا ہے۔

انڈیا کا کہنا ہے کہ چین نے موجودہ مون سون میں دریائے برہم پتر دریا کے ہائیڈرولوجیکلز یعنی پانی کے بہاؤ، تقسیم اور معیار کے بارے میں سائنسی تجزیات نہیں دیے۔

واضح رہے کہ انڈیا اور چین کے درمیان معاہدہ ہے جس کے تحت چین ہر سال برہم پتر کے ہائیڈرولوجیکلز انڈیا کو دینے کا پابند ہے۔

’چین نے دریائے برہم پتر کے ایک معاون دریا کا پانی روک دیا‘

برہم پتر دریا تبت سے شروع ہوتا ہے اور انڈیا سے گزرتا ہوا بنگلہ دیش میں جاتا ہے جہاں اس کا پانی خلیج بنگال میں گرتا ہے۔

تاہم چین کا کہنا ہے کہ برہم پتر کے پرہائیڈرولوجیکلز کو اپ گریڈ کیا جا رہا ہے اور اس وجہ سے وہ انڈیا کے ساتھ اعداد و شمار شیئر نہیں کر سکتا۔

لیکن بی بی سی کو معلوم ہوا ہے کہ چین نے بنگلہ دیش کو برہم پتر دریا کی مذکورہ معلومات دی ہیں۔

انڈیا اور چین کے درمیان برہم پتر دریا کی معلومات کو شیئر کرنے کا تنازع ایسے وقت آیا ہے جب کچھ ہی عرصہ قبل دونوں ممالک کی فوجیں ہمالیہ میں متنازع علاقے پر آمنے سامنے آ گئی تھیں۔

یہ کشیدگی ڈوکلام کے علاقے میں چین کی جانب سے نئی سڑک کی تعمیر پر پیدا ہوئی۔ چین کو سڑک کی تعمیر سے روکنے کے لیے انڈیا نے فوجیں بھیجی تھی۔ اس علاقے پر بھوٹان اور چین دونوں اپنا دعویٰ کرتے ہیں۔

یہ علاقہ انڈیا کے شمال مشرقی صوبے سکم اور پڑوسی ملک بھوٹان کی سرحد سے ملتا ہے اور اس علاقے پر چین اور بھوٹان کا تنازع جاری ہے جس میں انڈیا بھوٹان کی حمایت کر رہا ہے۔

براہم پتر دریا میں مون سون میں شدید سیلاب ہوتا ہے جس کے باعث انڈیا اور بنگلہ دیش میں کافی نقصان ہوتا ہے۔

ڈوکلام

انڈیا اور بنگلہ دیش کے چین کے ساتھ معاہدے ہیں جن کے تحت مون سون سیزن کے دوران چین کو براہم پتر دریا کے ہائیڈرولوجیکل دونوں ممالک سے شیئر کرنا لازم ہے۔

انڈیا کی وزارت خارجہ کی ترجمان نے گذشتہ مہینے ایک پریس بریفنگ میں کہا تھا ‘اس سال ۔۔۔ 15 مئی سے شروع ہونے والے مون سون سیزن پر چین نے ہمارے ساتھ برہم پتر دریا کے ہائیڈرولوجیکل شیئر نہیں کیے۔’

انھوں نے مزید کہا ‘معلومات شیئر نہ کرنے کے پیچھے تکنیکی وجوہات کیا ہیں اس کے بارے میں ہمیں علم نہیں لیکن دونوں ملکوں کے درمیان ایک نظام ہے جس کے تحت چین کو ہائیڈرولوجیکل شیئر کرنا لازمی ہے۔’

تاہم گذشتہ ہفتے چینی وزارت خارجہ نے کہا تھا کہ تکنیکی وجوہات کی بنا پر معلومات شیئر نہیں کی گئیں۔

‘گذشتہ سال سیلاب کے باعث ہائیڈرولوجیکل نظام کو نقصان پہنچا تھا۔ اس نظام کو مرمت کی ضرورت ہے۔ اسی وجہ سے چین کے پاس ہائیڈرولوجیکل معلومات نہیں ہیں۔’

لیکن بنگلہ دیش کے حکام کا کہنا ہے کہ ان کو چین کی جانب سے براہم پترا دریا میں پانی کی صورتحال کے حوالے سے معلومات موصول ہو رہی ہیں۔

بنگلہ دیش کے ایک اعلیٰ اہلکار موفضل حسین نے بی بی سی کو بتایا ‘ہمیں چند روز قبل ہی چین کی جانب سے برہم پتر دریا میں پانی کی سطح کے حوالے سے معلومات موصول ہوئی تھیں۔’

انھوں نے مزید کہا ‘ہمیں 2002 سے تبت میں قائم تین ہائیڈرولوجیکل سٹیشنز سے معلومات موصول ہوتی ہیں اور اس مون سون سیزن میں بھی چین نے معلومات شیئر کی ہیں۔’

One thought on “چین نے معاہدے کے باوجود برہم پتر دریا کی معلومات نہیں دیں: انڈیا

  1. I’m amazed, I must say. Seldom do I come across a blog that’s equally
    educative and engaging, and without a doubt,
    you have hit the nail on the head. The issue is something
    too few people are speaking intelligently about.
    I’m very happy that I found this during my search for something concerning this.

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے