’چٹھی نہ کوئی سندیس، جانے وہ کون سا دیس، جہاں تم چلے گئے‘

غالب کی شاعری کو نئی نسل میں مقبول بنانے والے غزل گائیک جگجیت سنگھ کو مداحوں سے بچھڑے 6 سال بیت گئے ہیں۔

وہ اپنی غزلوں کے ذریعے آج بھی مداحوں کے دلوں میں زندہ ہیں۔

جگجیت سنگھ ہندوستانی ریاست راجستھان میں پیدا ہوئے، پیدائش کے وقت ان کا نام جگموہن رکھا گیا تھا لیکن جوتشی کے کہنے پروالدین نے جگموہن کو جگجیت میں تبدیل کردیا۔

کئی نقاد نے ایسا بھی کہا کہ جگجیت کو غلام علی یا مہدی حسن کی طرح غزل پر تکنیکی مہارت نہیں تھی لیکن یہ کہنا غلط نہیں ہوگا کہ جگجیت سنگھ نے ہی غزل کو ادبی محفلوں سے نکال کر نئی نسل تک پہنچایا۔

جگجیت نے اپنی اہلیہ چترا اور معروف خاتون گلوکار لتا منگیشکر کے ساتھ کئی لازوال غزلیں گائیں۔

مرزا غالب کی زندگی پر بننے والے نغمہ نگار اور شاعر گلزار احمد کے ڈرامہ سیریل میں جگجیت نے غالب کی غزلیں اس طرح گائیں کہ وہ ہر کسی کو یاد ہوگئیں۔

ان کو سال 2003 میں ہندوستانی حکومت کی جانب سے پدما بھوشن ایوارڈ سے بھی نوازا گیا تھا جبکہ سال 2012 میں ریاست راجستھان نے ان کی خدمات کے اعتراف میں ریاست کا سب سے بڑا ایوارڈ "راجستھان رتنا” دیا گیا۔

بظاہر ایک کامیاب فنکار نظرآنے والے جگجیت سنگھ کے دل میں ان کے بیٹے کی حادثاتی موت پھانس کی طرح چبھی رہی اور بیٹے کی موت پر انہوں نے چٹھی نہ کوئی سندیس، جانے وہ کون سا دیس، جہاں تم چلے گئے غزل گائی تھی۔

یہ غزل بولی وڈ کی 1998 میں ریلیز ہوئی کامیاب فلم ’دشمن‘ میں بھی شامل کی گئی۔

انہوں نے کئی ہندی فلموں کے لیے بھی گلوکاری کی جن میں 1982 کی فلم ’ساتھ ساتھ‘، 1983 کی فلم ’ارتھ‘ اور 2001 کی فلم ’تم بن‘ وغیرہ شامل ہیں۔

مشہور ہیندوستانی غزل گائیک کو 24 ستمبر 2011 کو برین ہیمبرج ہوا اور 10 اکتوبر 2011 کو 70 برس کی عمر میں وہ اس جہان فانی سے کوچ کر گئے۔

You May Also Like

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے