پیراڈائز پیپرز: امرا کی آف شور کمپنیوں میں چھپائی گئی دولت کا انکشاف

نئی مالیاتی دستاویزات کے افشا ہونے سے پتہ چلا ہے کہ طاقتور اور انتہائی امیر شخصیات جن میں برطانیہ کی ملکہ الزبتھ بھی شامل ہیں کس طرح ٹیکس بچانے کے لیے خفیہ طریقے سے بیرون ملک آف شور کمپنیوں میں سرمایہ کاری کرتی ہیں۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے وزیر تجارت کے بارے میں کہا گیا ہے کہ ان کے اس کمپنی میں مفادات ہیں جو اُن روسیوں کے ساتھ کام کر رہی ہے جن پر امریکہ نے پابندی لگائی ہوئی ہے۔

ان لیکس میں، جنھیں پیراڈائز پیپرز کا نام دیا گیا ہے، 13.4 ملین دستاویزات شامل ہیں جن میں زیادہ تر ایک صف اول کی آف شور کمپنی کی ہیں۔


بی بی سی پینوراما اُن تقریباً 100 میڈیا گروپوں میں شامل ہے جو اِن دستاویزات پر تحقیق کر رہا ہے۔

گزشتہ برس کی طرح اِس مرتبہ بھی یہ دستاویزات جرمنی کے اخبار سویڈیوچے زیٹونگ نےحاصل کیے جس نے تحقیقاتی صحافیوں کے عالمی کنسورشیم کو تحقیقات کی نگرانی کے لیے طلب کیا۔

پاناما پیپرز کے بعد کیا ہوا

ان دستاویزات میں زیادہ تر کہانیوں کا مرکز وہ سیاستدان، ملٹی نیشنل کمپنیاں، مشہور اور امیر شخصیات ہیں جنہوں نے ٹرسٹ، فاؤنڈیشن اور شیل کمپنیوں کے پیچیدہ نظام کو استعمال کیا تا کہ اپنے سرمائے کو ٹیکس وصول کرنے والے اہلکاروں سے بچایا جائے یا اپنی کاروباری سرگرمیوں کو پردے میں رکھا جا سکے۔

اِن کاروباری سرگرمیوں میں سے زیادہ تر قانونی طور پر غلط نہیں ہیں۔

پیراڈائز پیپرز کے حوالے سے اہم خبریں جو اتوار کو اخبارات کی زینت بنی ہیں ان میں کینیڈا کے وزیراعظم جسٹس ٹروڈو کے مشیر کی آف شور کمپنیوں کے ذریعے ٹیکس بچانے کی خبر وزیراعظم کے لیے شرمندگی کا باعث بن سکتی ہے۔

کینیڈا کے وزیراعظم جسٹن ٹروڈو نے اپنی انتخابی مہم میں ٹیکس چھپانے کے لیے آف شور کمپنیوں کے استعمال کے خلاف مہم چلائی تھی۔

برطانیہ کی حکمران کنزرویٹو پارٹی کے سابق ڈپٹی چیئرمین لارڈ ایشکرافٹ کی خبر بھی نمایاں ہو گی۔ پیراڈائز پیپرز کے مطابق کنزرویٹو پارٹی کے ڈپٹی چیئرمین لارڈ ایشکرافٹ نے شاید ٹیکس بچانے کے لیے قوانین کی پروا نہ کی ہو۔

ملکہ اس میں کس طرح ملوث ہیں؟

پیراڈائز پیپرز ظاہر کرتے ہیں کہ ملکہ کی ایک کروڑ پاؤنڈ کی ذاتی رقم آف شور کمپنیوں میں لگی ہوئی تھی۔

یہ رقم ڈچز آف لنکاسٹر نے کیمن جزائز اور برمودا میں موجود فنڈز میں لگا رکھی تھی جس سے ملکہ برطانیہ کو آمدن ہوتی تھی۔

یہ ان کی پچاس کروڑ پاؤنڈ کی مالیت کی ذاتی جائیداد سے ہونے والی سرمایہ کاری کی دیکھ بھال کی ذمہ دار ہے۔

برائٹ ہاؤستصویر کے کاپی رائٹALAMY
Image captionبرائٹ ہاؤس کمپنی ایک کروڑ پچھتہر لاکھ پاونڈ ٹیکس ادا نہ کر سکنے کی وجہ سے دیوالیہ ہو گئی اور اس بنا پر چھ ہزار ملازمیں بے روز گار ہو گئے ہیں

یہ سرمایہ کاری قطعاً غیر قانونی نہیں ہے نہ ہی اس میں ایسا کوئی اشارہ ملتا ہے کہ ملکہ ٹیکس ادا نہیں کر رہی تھیں اس کے باوجود یہ سوال اپنی جگہ موجود رہیں گے کہ کیا ملکہ کو آف شور کمپنیوں میں قائم فنڈز یا کمپنیوں میں سرمایہ کاری کرنی چاہیے۔

اس میں کچھ سرمایہ برائٹ ہاؤس کمپنی میں بھی لگایا گیا تھا۔ اس کمپنی پر غریبوں کا استحصال کرنے کا الزام عائد کیا جاتا ہے جو کہ حال ہی میں ایک کروڑ 75 لاکھ پاونڈ ٹیکس ادا نہ کرنے سکنے کی وجہ سے دیوالیہ ہو گئی اور اس بنا پر چھ ہزار ملازمین بے روزگار ہو گئے ہیں۔

ڈچی آف لنکاسٹر کا کہنا ہے کہ وہ ان فنڈز کی طرف سے کی جانے والی سرمایہ کاری کے فیصلوں میں کسی طرح شامل نہیں تھی اور اس کو ان فنڈز کی طرف سے کیے جانے والے سرمایہ کاری کے فیصلوں کا علم بھی نہیں تھا۔

راس اور ٹرمپ کے لیے شرمندگی کا باعث

ولبر راس نے انیس سو نوے کی دہائی میں ڈونلڈ ٹرمپ کو دیوالیہ ہونے سے بچایا تھا اور بعد میں انھیں ٹرمپ انتظامیہ میں کامرس یا تجارت کا وزیر لگایا گیا۔

ان دستاویزات سے یہ ظاہر ہوا ہے کہ راس ولبر کے مالی مفاد ایک شپنگ کمپنی سے وابستہ تھے جو توانائی کی ایک روسی کمپنی سے تیل اور گیس کی نقل و حمل میں کروڑوں ڈالر کما رہی تھی۔

اس کمپنی میں روس کے صدر ولادیمیر پوتن کے داماد اور دو ایسے اشخاص شیئر رکھتے ہیں جن پر امریکہ کی طرف سے پابندیاں عائد ہیں۔

ولبر راس

یہ لیکس کہاں سے آئی ہیں؟

زیادہ تر اعدادوشمار ایپل بی نامی ادارے سے حاصل کیے گئے ہیں جو کہ برمودا میں قائم قانونی خدمات فراہم کرنے والا ادارہ ہے اور آف شور صنعت میں خاصا معروف ہے۔ یہ ادارہ اپنے صارفین کے لیے بیرون ملک کم یا بغیر ٹیکسوں کی سرمایہ کاری کرنے کی خدمات فراہم کرتا ہے۔

اس سے متعلق دستاویزات اور دیگر چیزیں خصوصاً کیریبین حدود کی کارپوریٹ رجسٹریز، زیدوئچے سائتونگ نامی جرمن اخبار نے حاصل کیے تھے جس نے اب تک اپنے ذرائع ظاہر نہیں کیے۔

میڈیا پارٹنرز کا کہناہے کہ تحقیقات عوامی مفاد میں ہیں کیونکہ آف شور دنیا سے افشا ہونے والے اعدادوشمار سے متواتر غلطیاں بے نقاب ہوئی ہیں۔

لیکس پر ردِعمل ظاہر کرتے ہوئے ایپل بی کا کہنا ہے کہ وہ ‘مطمئن ہے کہ کوئی غلطی نہیں ہوئی ہے، نہ ہی ہم سے اور نہ ہی ہمارے صارفین سے۔ ہم غیر قانونی طرز عمل برداشت نہیں کرتے’۔

اپنی رقم کیسے چھپائیں؟

آف شور کے دفاع میں کیا ہے؟

آف شور مالیاتی مراکز کا کہنا ہے کہ اگر وہ موجود نہیں ہوتے تو ٹیکسوں پر کوئی رکاوٹ نہیں ہوتی جو حکومتیں لگا سکتی ہیں۔ انکا کہنا ہے کہ وہ نقد رقم کے ذخیرے پر نہیں بیٹھے ہوتے بلکہ ایک ایسے ایجنٹ کے طور پر کام کرتے ہیں جو دنیا بھر میں رقم کے پھیلاؤ میں مدد کر تے ہیں۔

باب رچرڈز برمودا کے وزیر خزانہ تھے جب پینوراما نے اپنے پروگرام کے لیے ان کا انٹرویو کیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ ان پر منحصر نہیں کہ وہ دیگر ملکوں کے لیے ٹیکس وصول کریں، انھیں اپنے معاملات خود حل کرنے چاہییں۔

ہوارڈ کوئیل، آئیل آف مین کے وزیر اعلی ہیں۔ پینوراما کو انٹرویو کے دوران ان کا اور باب رچرڈز کا کہنا تھا کہ ان کے علاقے کو ٹیکس چوروں کی جنت نہیں کہا جا سکتا کیونکہ وہ بہترین انداز میں منظم ہیں اور مکمل طور پر بین الاقوامی مالیاتی رپورٹنگ کے قوانین کے مطابق ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے