پوراملک جگاڑ میں چل رہا ہے ۔۔۔۔۔ ڈونلڈ ٹرمپ کے پاکستان بھیجے گئے دو جا سوس افسران کا انوکھا واقعہ پڑھ کر آپ بے اختیار ہنس پڑیں گے

امریکہ کے نئے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے کچھ جاسوس اسلامی ممالک میں بھیجے تاکہ وہاں کے حالات کو سمجھا جاسکے۔۔دو قابل جاسوس پاکستان کی طرف روانہ کئے گئے۔وہ پی آئی اے کے جہاز پر پاکستان کا سفر کررہے تھے کہ اچانک جہاز خراب ہوگیا، پائلٹ نے اعلان کیا کہ جہاز کے

چاروں انجن فیل ہوچکے ہیںلیکن آپ کو گھبرانے کی ضرورت نہیں،کوئی نہ کوئی جگاڑ لگا لیا جائے گا۔جاسوس جوں ہی پاکستان پہنچے تو دہشت گردوں نے ایئرپورٹ پر حملہ کردیا،سیکورٹی کی طرف سے اعلان ہوا کہ آپ مت گھبرائیں، بلکہ زمین پر لیٹ جائیں،کوئی نہ کوئی جگاڑ لگارہے ہیں۔ ایئرپورٹ سے جان بچا کر گاڑی میں ہوٹل جارہے تھے کہ انجن خراب ہوگیا،ڈرائیور نے کہا کہ گھبرائیں نہیں کوئی جگاڑ لگا لیا جائے گا۔دونوں جاسوس بمشکل اپنے ہوٹل کی دسویں منزل پر پہنچے تو وہاں آگ لگ گئی،فائر بریگیڈلگ گئی،فائر بریگیڈ نے اعلان کیا کہ پانی کا پریشر آٹھویں منزل تک جارہا ہے، لیکن آپ فکر نہ کریں،کوئی نہ کوئی جگاڑ لگالیں گے۔دونوں امریکی جاسوس گھبرا کر دوسرے ہی دن واپس اپنے ملک چلے گئے اور صدر ٹرمپ کو رپورٹ دی کہ پورا پاکستان جگاڑ پر چل رہا ہے،اگر جگاڑ پر ہمارا قبضہ ہو جائے،تو پورا پاکستان قبضے میں آسکتا ہے۔صدر ٹرمپ نے وزیر اعظم کو فون کیا کہ،جگاڑ کا کتنا مانگتا ہے۔۔؟جگاڑ کا کتنا مانگتا ہے۔۔؟حکومت نے جواب دیا کہ،ہم آپ کو جگاڑ فروخت نہیں کرسکتے،یہاں خود حکمران نے قطری شہزادے کے خط کا جگاڑ لگایا ہوا ہے یہ بھی پڑھیے۔۔۔۔ ایک اشرفی کنویں میں پھینک دیتا ہوں یہ بھی پڑھیے۔۔۔پرانے

زمانے کی بات ہے ایک بادشاہ کا گزر ایک کھیت پرسے ہوا جہاں پر اس کی ملاقات ایک کسان سے ہوئی۔ کسان نے بقدرِ استطاعت بادشاہ کو کچھ کھانے پینے کو پیش کیا۔ بادشاہ کسان کی مہمان نوازی سے کافی متاثر ہوا اور اس سے باتیں کرنے لگا:۔بادشاہ:۔ کتنے پیسے کما لیتے ہو۔کسان:۔ عالیجاہ۔ چار اشرفیاں آمدن ہوجاتی ہے۔بادشاہ:۔ خرچ کیسے کرتے ہو؟کسان:۔جناب۔ ایک اشرفی خود پر خرچ کرتا ہوں۔ ایک اشرفی قرض دیتا ہوں، ایک اشرفی قرض کی واپسی میں دیتا ہوں اور ایک اشرفی کنویں میں پھینکتا ہوں۔ بادشاہ:۔ میں سمجھا نہیں۔کسان:۔عالیجاہ۔ایک اشرفی اپنے اور اپنی بیوی پر خرچ کرتا ہوں،ایک اشرفی اپنی اولاد پر خرچ کرتا ہوں[قرض دیتا ہوں] تاکہ جب میں اور میری بیوی بوڑھے ہوجائیں تو ہماری خدمت کریں،ایک اشرفی اپنے والدین پر خرچ کرتا ہوں [قرض کی واپسی] کیونکہ انہوں نے مجھے پالنے مجھے پال پوس کر بڑھا کیااور ایک اشرفی خیرات کرتا ہوں [کنویں میں پھینکتا ہوں] کیونکہ اس کا بدلہ اس دنیا میں نہیں چاہتا۔تاریخٰ واقعات ہمارے لیے سبق اموز ہوتے ہیں جن سے استفادہ حاصل کر کے ہم آںے والے سالوں اور لمحوں میں بہت کچھ سیکھ سکتے ہیں اور ان کا فائدہ اگر سوچا جائے تو کئی سالوں زندگی گزارنے سے بہتر ہوتا ہے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے