پاکستان کا ایسا مثالی گاؤں جہاں 3 سو سال سے شیعہ سنی ایک ہی مسجد میں نماز ادا کرتے ہیں

مریدکے (مانیٹرنگ ڈیسک) مریدکے کا انوکھا گاؤں جہاں تین سو سال سے شیعہ اور سنی ایک ہی مسجد میں مقررہ وقت پر اذان دیتے اور نماز ادا کرتے ہیں، تفصیل کے مطابق مرید کے شہر سے پانچ کلومیٹر شیخوپورہ روڈ پر واقع قدیم ترین گاؤں قلعہ بھٹیانوالہ مذہبی اعتبار سے دنیا بھر میں اپنی مثال قائم کیے ہوئے ہے ایک ہزار کے قریب آبادی والے اس گاؤں میں ایک ہی جامع مسجد ہے

جہاں ایک ہی لاؤڈ سپیکر پر اپنے مقررہ وقت پر شیعہ حضرات اذان دیتے ہیں اور نماز ادا کرتے ہیں، اسی طرح سنی حضرات بھی اپنے مقررہ وقت پر بارگاہ الہی میں سجدہ ریز ہوتے ہیں اس گاؤں میں آج تک مذہبی تناؤ پیدا نہیں ہوا یہاں فرقہ وارانہ بات کرنے والوں کو گاؤں سے نکال دیا جاتا ہے، اس گاؤں میں محرم کے موقع پر سنی چالیس دن تک لنگر کا انتظام کرتے ہیں جب سنیوں کے تہوار ہوتے ہیں تو سکیورٹی کے انتظامات اور لنگر کا سارا بندوبست شیعہ کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ پاکستان میں ایسا گاؤں بھی موجود ہے جس کے رہنے والے دوہری قومیت رکھتے ہیں،یہ پاکستان کے شہر گجرات کا گاؤں عالم پور ہے، جہاں کا ایک باشندہ جو بیرون ملک گیا اس نے اپنے گاؤں کے لوگوں کی طرز زندگی بدلنے کے لیے کوشش کی اور 70 کی دہائی میں اپنے گاؤں کے لوگوں کو یورپین ملکوں خصوصاً ناروے بھیجا۔ اس گاؤں میں 200 گھرانے ہیں اور ہر گھر کا کم از کم ایک شخص ڈبل نیشنلٹی کا حامل ہے۔ یہ گاؤں بھائی چارے کی بہترین مثال ہے کہ ایک شخص نے اپنے گاؤں کے دوسرے لوگوں کے بارے میں سوچا اور ان کی زندگی بدلنے میں اہم کردار ادا کیا۔اس کے علاوہ پاکستان کے ضلع فیصل آباد میں ایسا گاؤں بھی ہے جہاں پر سات سال سے سگریٹ نوشی پر پابندی ہے ضلع فیصل آباد میں واقع ماموں کانجن کا ایک نواحی گاؤں 493 گ ب میں گزشتہ سات سال سے چرس، افیون، ہیروئن تو دور کی بات ہے

کسی دکان پر سگریٹ تک فروخت نہیں ہوتے، تمام گاؤں والے امام مسجد کی بات مانتے ہیں اور انہی کے کہنے پر یہاں سگریٹ نوشی پر پابندی ہے، گاؤں کے تمام بوڑھے لوگوں کو اپنے اپنے گھروں میں حقہ پینے کی اجازت دی گئی ہے، امام مسجد مولانا محمد امین کے کہنے پر کسی کو شادی بیاہ یا دیگر خوشی کے مواقع پر ڈھول، گانے بجانے اور آتش بازی کی بھی اجازت نہیں ہے، گاؤں والے جب اپنے بچوں کی شادی کسی دوسرے شہر کرتے ہیں تو پہلے ان کو مذکورہ رسوم نہ کرنے کا بتا دیتے ہیں،

گاؤں میں ٹی ایم اے کے خاکروب نہیں ہیں اور گاؤں کے نوجوانوں نے اپنی مدد آپ کے تحت ہلال ویلفیئر سوسائٹی کے نام سے تنظیم بنا رکھی ہے جو تمام سماجی و فلاحی کام بہت اچھے طریقے سے انجام دے رہی ہے، لڑائی جھگڑے کے تمام معاملات گاؤں کی مسجد میں بیٹھ کر حل کیے جاتے ہیں، یہ گاؤں صفائی کے حوالے سے فیصل آباد کا مثالی گاؤں اور صفائی پر انعام بھی حاصل کر چکا ہے،

دس ہزارسے زائد کی آبادی کے گاؤں میں صرف ایک مرکزی مسجد ہے جہاں پر تمام لوگ نماز جمعہ اور عیدین کی نمازیں پڑھتے ہیں، باقی نمازیں گاؤں کی دوسری مساجد میں جو گاؤں والوں کے نزدیک ترین ہوتی ہیں وہاں پڑھتے ہیں لیکن ایک اور حیران کن بات یہ ہے کہ یہاں اذان صرف مرکزی مسجد میں دی جاتی ہے اور یہ اذان تمام مساجد کے لاؤڈ سپیکر سے سنائی دیتی ہے، اس گاؤں کے لوگ امام مسجد کی باتوں پر عمل کرتے ہیں، یہی وجہ ہے کہ یہاں پر سگریٹ نوشی پر پابندی ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے