پاکستان کاوہ علاقہ جہاں کسی کی موت پرجشن منایاجاتاہے

اس قدر ترقی یافتہ ہونے کے باوجود انسان بہت سے رازوں سے پردہ اٹھانے سے آج بھی قاصر ہے اور شاید ہمیشہ رہے۔ انہی چند رازوں میں سے ایک کچھ اقوام کی بھی ہے جو شائد ازل تک ایک سربستہ راز ہی رہے۔ انہی رازوں میں ایک چند وہاقوام جن کے ارتقا ء کے بارے میں ہمارا علم آج بھی ناقص ہے ان میں روسی، پروشیائی، کاسک/قازق، پارسی، خانہ

بدوش اور کیلاشی قبائل سرفہرست ہیں۔کیلاشکیلاش پاکستان کے انتہائی شمال مغربی حصے میں واقع ایک ایسا انتہائی خوبصورت علاقہ ہے جو تین بڑی وادیوں بمبوریت، رمبور اور بریرپر مشتمل ہے۔ کیلاش وادی کی تاریخ ہزاروں سال قدیم ہے اورآج بھی کیلاش کی تہذیب اور ثقافت کے لاتعداد صفحات ایسے ہیں جو باقی دنیا سے پوشیدہیں ۔ سیاح چترال سے تقریباً تین گھنٹوں کی دشوار مسافت طے کر کے کیلاش پہنچ سکتے ہیں۔ راستہ تھوڑا پرخطر اور سنسا ن ہے جو آپ پر ایسی کیفیت طاری کر دیتا ہے جو الفاظ میں بیان کرنا ناممکن ہو جاتا ہے۔مذہبی عقائد اور رسوماتوادی کیلاش کے زیادہ تر لوگ آج بھی اپنی صدیوں پرانی ثقافت ، تہذیب اور روایات کے مطابق زندگی بسر کر رہے ہیں۔ وادی کیلاش کی خوبصورتی کے علاوہ کیلاشی قبائل کی صدیوں پرانی ثقافت، تہذیب اور روایاتپوری دنیا کے سیاحوں کو کیلاش کی طرف اپنی توجہ مبذول کرواتی ہے۔ یہ وادی اپنی خوبصورتی کے علاوہ تاریخی پس منظر اور حیثیت رکھتی ہے کہ وادی کے لوگ مختلف ادوار میں مختلف مذاہباختیار کرتے رہے ہیں جن میں بدھ مت اور ہندومت زیادہ قابل ذکر ہیں۔ اگرچہ اب کیلاش قبیلے کی ایک بہت

بڑی تعداد مسلمان ھو چکی ہے۔

:تہوار
چلم جوش یا چلم جوشٹ

کیلاش کے مختلف تہواروں میں سے چلم جوش جسے مقامی لوگ “چلم جوشٹ” بھی پکارتے ہیںسب سے اہم اور خوبصورت ہوتا ہے جس کو دیکھنے کے لیے نہ صرف پاکستان بلکہ پوری دنیا سے لوگ کیلاش کا سفر کرتے ہیں۔ موسم بہار کے آغاز سے پہلے ہی چلم جوش کی تیاریاں شروع ہو جاتی ہیں۔ تہوار کے آخری تین دنوں میں جبتمام کیلاشی بمبوریت میں اکٹھے ہوتے ہیں اور جشن منایا جاتا ہے۔
اچل
یہ تہوار کیلاش میں گندم اور جو کی کٹائ کے موسم میں ہوتا ہے۔ ان دنوں میں خصوصی طور پر رقص اور کھانے پینے کی محافل کا انتظام کیا جاتا ہے۔

چاؤ ماؤس
چاؤ ماؤس کیلاشی قبائل کا سب سے بڑا تہوار ہوتا ہے جو کہ نئے سال کی آمد کی خوشی میں منایا جاتا ہے۔ چاؤ ماؤس کی تقریبات کا آغاز دسمبر کے آخری ہفتے میں ہو جاتا ہے۔

کیلاشی قبائل میں خواتین کا کردار
کیلاشی قبائل میں خواتینبہت اہم اور منفرد مقام رکھتی ہیں۔ کیلاشی خواتین روزمرہ کے گھریلو کاموں کے علاوہکاشتکاری، مویشیوں کی دیکھ بھالکرنے میں بھیپیش پیش ہوتی ہیں۔ عمومی طور پر خواتین کالا لباس، مخصوص قسم کے ہار اور ٹوپیاں پہنتی ہیں جو مقامی طور پر ہی تیار کی جاتی ہیں۔چلم جوش کے آخری دن لڑکے اور لڑکیاں اپنا جیون ساتھی منتخب کرتے ہیں۔ اور موقع پر ہی ان کی شادی کی رسومات ادا کر دی جاتی ہیں۔
موت کا جشن
وادی کیلاش دنیا بھر میں منفرد مقام اس لیے بھی رکھتی ہے کہ یہ دنیا کا وہ واحد خطہ ہے جہاں مقامی اپنے عزیزواقارب کی اموات پر جشن مناتے ہیں۔ یہ جشن مرد حضرات کی اموات پر 3 دن تک منایا جاتا ہے جبکہ خواتین کی وفات کی صورت میں یہ جشن 1 دن منایا جاتا ہے۔ مقامی روایات کے مطابق یہ جشن اس لیے منایا جاتا ہے کہ مرنے والے کو اس دنیا سے خوشی خوشی رخصت کیا جائے۔
کیلاش قبیلے میں شادی بیاہ کایہ رواج ہے کہ اگرکوئی لڑکاکسی لڑکی کوپسندکرتاہے تواسے اس لڑکی کوگھرسے بھگاکرلےجاناہوتاہے اورلڑکے کے خاندان والے یہ بات پورے گائوں کوبتاتے ہیں جبکہ گائوں والے اس بات کی تصدیق کرتے ہیں کہ لڑکی کے ساتھ زبردستی تونہیں کی گئی اگرلڑکی اپنی خوشی سے بھاگ کرلڑکے کے ساتھ جائے توان کی شادی کردی جاتی ہے یہاں تک کہ اگرکوئی لڑکاکسی شادی شدہ لڑکی یاخاتون کوپسندکرے تووہ اسے بھی بھگاکرلے جاسکتاہے اوراس کے شوہرکواعتراض کاحق بھی نہیں ہوتا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے