پاکستان ٹرمپ کے ’دشمن‘ سے ’دوست‘ کیسے بنا؟

 

پاکستان کے متعلق امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کا رویہ نرم ہوتا نظر آ رہا ہے۔ ایسا کم از کم ان کے حالیہ ٹویٹ سے تو نظر آ رہا ہے۔

ٹرمپ نے ہفتے کے روز ٹویٹ کیا: ‘ پاکستان اور اس کے رہنماؤں کے ساتھ ہم بہت بہتر تعلقات کو فروغ دینے کی ابتدا کر رہے ہیں۔ میں مختلف محاذوں پر ان کے تعاون کے لیے ان کا شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں۔’

اس ٹویٹ پر ساڑھے سات ہزار سے زیادہ کمنٹس آئے ہیں اور اس 12 ہزار بار سے زیادہ ری ٹویٹ کیا گيا ہے جبکہ 60 ہزار سے زیادہ لوگوں نے اسے پسند کیا ہے۔

شاید ٹرمپ کی اس نرمی کی وجہ حقانی نیٹ ورک کی حراست میں رہنے والے امریکی-کینیڈین خاندان کی رہائی ہے جس میں پاکستان کی خاطر خواہ کوشش نظر آئی ہے۔

امریکی خفیہ ایجنسیوں کی مدد سے پاکستانی فوج نے امریکی شہری کیٹلن کولمین، ان کے کینیڈین نژاد شوہر جوشوا بوئل اور تین بچوں کو حال ہی میں حقانی نیٹ ورک سے رہا کروایا ہے۔

ٹویٹتصویر کے کاپی رائٹTWITTER

صدر ٹرمپ نے کہا: ‘میں نے کھل کر کہا ہے کہ پاکستان نے برسوں تک ہمارا بہت فائدہ اٹھایا ہے۔ لیکن اب ہم پاکستان کے ساتھ حقیقی تعلقات کا آغاز کر رہے ہیں۔ پاکستان امریکہ کا پھر سے احترام کر رہا ہے۔’

پاکستان کے متعلق ٹرمپ کے تلخ و شیریں رویے

گذشتہ چند سالوں میں شاید یہ پہلی موقع ہے جب ڈونلڈ ٹرمپ نے پاکستان کے متعلق شیریں لہجے کا اظہار کیا ہے۔ اس سے پہلے پاکستان کے متعلق صدر ٹرمپ کا موقف سخت نظر آیا ہے۔

ماضی میں پاکستان کے متعلق صدر ٹرمپ کے بعض بیانات درج ذیل ہیں۔

کراچی کے لوگتصویر کے کاپی رائٹGETTY IMAGES
Image captionکراچی میں لوگ ٹی وی پر صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی حلف برداری کی تقریب دیکھ رہےہیں

اگست 2017

صدر ٹرمپ نے اپنے ایک بیان میں کہا تھا: ‘دہشت گرد تنظیموں کے لیے پاکستان محفوظ پناہ گاہ بنا ہوا ہے۔ امریکہ اس پر خاموش نہیں رہے گا۔ ہم سالوں سے پاکستان کی اربوں ڈالر سے مدد کر رہے ہیں اور وہ لوگ ان دہشت گردوں کو شہ دے رہے ہیں جن سے ہم بر سر پیکار ہیں۔ اسے فوری طور پر بدلنا چاہیے۔

دسمبر 2011

ڈونلڈ ٹرمپ نے ٹویٹ کیا تھا: ‘سیدھی بات ہے۔ پاکستان ہمارا دوست نہیں ہے۔ جب ہماری بہادر نیوی سیلز کی ٹیم اسامہ بن لادن کو پکڑنے گئی اس وقت انھوں نے کچھ نہیں کیا۔‘

ٹویٹتصویر کے کاپی رائٹTWITTER

جنوری 2012

ٹرمپ نے ٹویٹ کیا؛ ‘پاکستان ہمارا دوست نہیں ہے۔ ہم انھیں کروڑوں اربوں ڈالر دے رہے ہیں اور اس کے بدلے ہمیں کیا ملا؟ دھوکہ اور بے عزتی اور اس سے بھی بدتر۔

جولائی 2012

ٹرم نے اپنے ٹویٹ میں پاکستان کے بارے میں لکھا: ‘چھ سال تک اسامہ بن لادن کو چھپانے کے لیے پاکستان ہم سے کب معافی مانگے گا؟

ٹویٹتصویر کے کاپی رائٹTWITTER

جولائی 2013

ٹرمپ نے پاکستانی خفیہ ایجنسیوں پر نشانہ لگاتے ہوئے کہا: ’پاکستانی انٹیلی جنس کو اسامہ بن لادن کے پاکستان میں چھپے ہونے کی مکمل خبر تھی۔ پاکستان نے اسامہ کو پناہ دے رکھی تھی۔‘

گذشتہ سال پاکستان میں ہونے والے شدت پسندانہ حملے کے بعد بھی ڈونلڈ ٹرمپ نے ٹویٹ کیا تھا۔

ٹویٹتصویر کے کاپی رائٹTWITTER

اس ٹویٹ میں ڈونلڈ ٹرمپ نے لکھا: ‘ایک اور شدت پسند اسلامی حملہ۔ اس بار پاکستان میں مسیحی خواتین کو شکار بنایا گیا۔67 لوگوں کی موت، 400 زخمی۔ میں تنہا ہی اس (مسئلے کو) کو حل کر سکتا ہوں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے