پانچ ماہ میں چار حملے، کیا اسلام آباد صحافیوں کے لیے غیر محفوظ

پاکستان کا دارالحکومت صحافیوں کے لیے ایک غیر محفوظ شہر بنتا جا رہا ہے جس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ اسلام آباد میں گزشتہ پانچ ماہ میں کم از کم چار صحافیوں پر حملے ہو چکے ہیں۔

صحافی احمد نورانی پر 27 اکتوبر کو ہونے والے حملے کے علاوہ کم و بیش اسی طرز پر مخلتف اداروں کے لیے کام کرنے والے صحافیوں کو ہراساں کیا گیا یا تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ ان حملوں کا نشانہ مقامی میڈیا کے علاوہ بین الاقوامی ذرائع ابلاغ کے لیے کام کرنے والے صحافی

لائن

صحافی مطیع اللہ جان کی گاڑی پر حملہ

مقامی ٹی وی چینل وقت نیوز سے وابستہ سینئر صحافی مطیع اللہ جان چوبیس ستمبر کو اتوار کے دن اسلام آباد میں بارہ کہو کے مقام پر اپنی گاڑی میں تھے جب ایک موٹر سائیکل پر دو سوار آئے۔ ان میں سے پیچھے بیٹھے شخص نے ونڈ سکرین پر اینٹ دے ماری جس سے ڈرائیونگ سائڈ کی ونڈ سکرین ٹوٹ گئی۔ گاڑی میں اس وقت مطیع اللہ جان کے بچے بھی موجود تھے۔

اسلام آباد میں صحافیوں کا احتجاجتصویر کے کاپی رائٹGETTY IMAGES
Image captionوفاقی دارالحکومت میں صحافیوں پر جسمانی حملے زیادہ تر اسی طرز پر کیے گئے

صحافی ذیشان علی پر تشدد

یکم جون کو ایرانی نیوز ایجنسی ارنا کے لیے کام کرنے والے نوجوان صحافی زیشان علی کو دو مسلح افراد نے تشدد کا نشانہ بنایا ۔ ذیشان رمضان کے سلسلے میں کوریج کے بعد اپنی موٹر سائیکل پر جی سِکس سیکٹر میں واقع دفتر واپس آ رہے تھے جب موٹر سائیکل پر سوار دو افراد نے ان کا راستہ روکا اور تشدد کا نشانہ بنایا ۔ ارنا کے بیورو چیف کے مطابق حملہ آور سادہ لباس میں تھے، ان کے پاس پستول اور چاقو تھے۔ انہوں نے زیشان علی سے کیمرہ چھینا اور مار پیٹ کی۔

صحافی اعزاز سید کو اغوا کرنے کی کوشش

جون ہی کے پہلے ہفتے میں جیو نیوز سے وابستہ صحافی اعزاز سید کو ایک کار اور ایک موٹر سائیکل پر سوار نا معلوم افراد نے اغوا کرنے کی کوشش کی۔ بنی گالا پولیس سٹیشن کے قریب پارک روڈ پر ان کی گاڑی کو روک کر انہیں باہر آنے کو کہا گیا لیکن وہ گاڑی روکے بغیر شہزاد ٹاؤن کے تھانے میں پہنچنے میں کامیاب ہو گئے۔

فوج پر تنقید کرنے میں احتیاط

دو اکتوبر کو اسلام آباد میں احتساب عدالت میں وفاقی وزیر احسن اقبال کو رینجرز کی جانب سے عدالت میں داخلے سے روکا گیا۔ اس دن مبینہ طور پر صحافیوں نے فوج کے ایک افسر کی ویڈیو ریکارڈ کر لی جس میں صحافی ان سے سوال کر رہے ہیں کہ آیا وہ جج سے ملاقات کر کے آرہے ہیں جس پر جواب دینے سے گریز کیا جا رہا ہے۔ ویڈ یو سوشل میڈیا پر آنے کے بعد ویڈیو بنانے والے صحافی کے ساتھیوں کا کہنا ہے کہ وہ انتہائی دباؤ میں تھے اور اب وہ اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹس بند یا ڈی ایکٹیویٹ کر چکے ہیں۔ جیو نیوز میں کام کرنے والے صحافیوں کا کہنا ہے کہ ادارے کی جانب سے انہیں فوج پر براہ راست تنقید یا سوال کرنے پر محتاط رہنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

سینیئر صحافی مطیع اللہ جان کا کہنا ہے کہ ان پر حملے کے واقعے سے قبل بھی انہیں اس طرح کے اشارے مل رہے تھے۔ ان کا کہنا ہے کہ ایسے واقعات صحافیوں پر دباؤ ڈالنے کے لیے ہیں اور یہ کسی بڑے منصوبے کا حصہ ہیں۔

وفاقی دارالحکومت میں صحافیوں پر جسمانی حملے زیادہ تر اسی طرز پر کیے گئے جیسا احمد نورانی کے معاملے میں کیا گیا جس میں موٹر سائیکل سوارملوث تھے، تاہم زبانی طور پر دھمکانے اور ہراسگی کے واقعات الگ ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے