پاسدارانِ انقلاب پر پابندی کا منہ توڑ جواب دیں گے: ایران

ایران نے امریکہ کو خبردار کیا ہے کہ اگر ایرانی سکیورٹی فورس پاسدارانِ انقلاب کو دہشت گرد گروہوں کی فہرست میں شامل کیا گیا تو ایران اس کا منہ توڑ جواب دے گا۔

ایران کی جانب سے یہ بیان ایک ایسے موقعے پر سامنے آیا ہے جب اس بات کا امکان ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ رواں ماہ ایران کے جوہری معاہدے کی توثیق نہیں کریں گے تاہم امریکہ اس معاہدے سے علیحدہ نہیں ہو گا۔

جوہری معاہدے کی توثیق نہ کیے جانے پر امریکی کانگریس ایران پر پابندیاں عائد کر سکتی ہے۔

اس بات کا بھی امکان ہے کہ صدر ٹرمپ ایران کے خلاف سخت پالیسی اپناتے ہوئے ایران کی طاقتور ترین سکیورٹی فورس پاسدارانِ انقلاب کو دہشت گرد تنظیم قرار دے دیں۔

یاد رہے کہ امریکی صدر ٹرمپ نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے اپنے پہلے خطاب میں ایران پر کڑی تنقید کی تھی اور ‘جوہری معاہدے کو امریکہ کا بدترین اور یکطرفہ معاہدہ قرار دیا تھا۔’

ایران کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان بارہم قاسمی نے کہا کہ ‘ہمیں امید ہے کہ امریکہ یہ سٹریٹیجک غلطی نہیں کرے گا۔’

ڈونلڈ ٹرمپ

ایران کی سرکاری خبر رساں ایجنسی کے مطابق ترجمان نے کہا کہ ‘امریکہ نے اگر ایسا کیا، تو ایران کا ردعمل بھی فیصلہ کن، مستحکم اور منہ توڑ ہو گا اور امریکہ کو تمام نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا۔’

یاد رہے کہ پاسداران انقلاب سے وابستہ مختلف افراد اور کمپنیاں پہلے ہی امریکہ کی غیر ملکی دہشت گردوں کی فہرست میں شامل ہیں۔

پاسدارانِ انقلاب کے کمانڈر محمد علی جعفری نے کہا کہ ‘اگر امریکہ کی پاسدارانِ انقلاب کو دہشت گرد قرار دینے کی احمقانہ اقدام کی خبر درست ہے تو پھر دنیا بھر میں امریکی افواج بھی شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ کی طرح ہے۔’

انھوں نے کہا کہ ایران پر مزید پابندیاں عائد کرنے سے مستقبل میں امریکہ سے مذاکرات کا راستہ بند ہو جائے گا اور خطے میں امریکہ کو عسکری اڈے ایران کی میزائلوں کی پہنچ سے باہر بنانے ہوں گے۔’

دوسری جانب مغربی ممالک کا کہنا ہے کہ امریکہ کی پاسدارانِ انقلاب پر پابندی سے عراق اور شام میں شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ کے خلاف تہران اور واشنگٹن کی مشترکہ کارروائی میں کمی آئے گی۔

ایران، پاسدرانِ انقلابتصویر کے کاپی رائٹAFP

فرانس کا کہنا ہے کہ پاسدارانِ انقلاب پر پابندی سے خطے میں دہشت گردی میں اضافہ ہو گا جبکہ جرمنی کا کہنا ہے کہ امریکہ کے اس اقدام سے مشرقِ وسطیٰ کی سکیورٹی صورتحال مزید خراب ہو سکتی ہے۔

یاد رہے کہ ایران اور مغربی ممالک کے مابین طے والے جوہری معاہدے کے تحت ایران اپنے جوہری پروگرام کو 2025 تک منجمد کرنے پر متفق ہوا تھا۔

جوہری توانائی سے متعلق اقوام متحدہ کے نگران ادارے نے کہا ہے کہ ایران معاہدے کی شرائط کی پاسداری کر رہا ہے۔

You May Also Like

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے