نہلے پہ دہلہ، امریکہ ہمارے ایف 16 طیاروں کی رقم کھا گیا وہ ہمارا یار نہیں یار مار ہے،جارحیت کی تو کیا حشر کریں گے؟ پاکستان نے بڑا اعلان کردیا

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) وزیر خارجہ خواجہ آصف نے کہا ہے کہ امریکہ ہمارے ایف 16 طیاروں کی رقم کھا گیا وہ ہمارا یار نہیں یار مار ہے۔ امریکی رویہ نہ اتحادی کا ہے اور نہ ہی دوست کا ہے امریکہ ہماری قربانیوں کی توہین کر رہا ہے امریکہ جارحیت کرے گا تو جواب دیا جائے گا پاک امریکہ تعلقات کا از سر نو جائزہ لینے کی ضرورت ہے نجی ٹی وی کو دیئے گئے انٹرویو میں خواجہ آصف نے امریکہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے الزامات کومسترد کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ سید پاور ہے اور اس کے پاس دنیا
کی سب سے جدید ٹیکنالوجی ہے وہ کھوئی ہوئی سوئی تلاش کرنے کا دعویٰ کرتا ہے۔ مگر امریکہ حقانی نیٹ ورک کو ڈھونڈنے میں ناکام رہا جو افغانستان میں بیٹھ کر پاکستان پر حملے کرتا ہے انہوں نے کہا کہ امریکہ حقانی نیٹ ورک کی پاکستان میں موجودگی کے ثبوت دے مگر امریکہ میں کوئی ثبوت نہیں دے سکا۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ 3 سالوں میں ڈرون حملے کم ہوئے ہیں جو اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ ہم نے دہشت گردوں کے ٹھکانے ختم کردیئے ہیں اگر پاکستان میں دہشت گردوں کے ٹھکانے ہوئے تو ڈرون حملے ابھی جاری ہوتے۔انہوں نے کہا کہ پاک فوج نے بے پناہ قربانیوں کے بعد دہشت گردوں کی پناہ گاہیں ختم کر دی ہیں ان کا مزید کہنا تھا کہ مک ماسٹر اور نک ہیری کے بیانات کے بعد امریکہ کا رویہ نہ تو اتحادی کا ہے اور نہ ہی دوست کا ہے امریکہ ہمارا یا نہیں بلکہ یارمار ہے اب وقت آگیا ہے پاک امریکہ تعلقات کا از سرنو جائزہ لیا جائے انہوں نے کہا کہ ہم امریکی امداد کے بغیر نہ صرف گزارہ کرسکتے ہیں بلکہ آگے بڑھ سکتے ہیں ہم دنیا کو بتانا چاہتے ہیں کہ امریکہ نے پاکستان کولینٹنسپورٹ فنڈ کی مد میں ابھی 9 ارب ڈالر دینے ہیں امریکہ ہمیں ہماری رقم دینے کی بجائے تاثر دینا چاہتا ہے کہ پاکستان امریکی امداد پر چلتا ہے۔ ہم نے کولیشن سپورٹ فنڈ اور سروسز کی رقم مانگی ہے ایک سوال یہ کہا کہ امریکہ کی یہ بھول ہے کہ پاکستان سفارتیتنہائی کا شکار ہوگا ہمارے مختلف ممالک کے سربراہان اور وزراء خارجہ سے رابطے ہیں۔ چین، روس، ایران، ترکی اور دیگر ممالک نے پاکستان کی حمایت کا یقین دلایا ہے انہوں نے کہا کہ ٹرمپ کا بیان پاگل پن ہے اگر امریکہ کوئی کارروائی کرے گا تو ہم اس کا بھرپور جواب دیں گے انہوں نے کہا کہ میری ذاتی کوئی حیثیت نہیں میں ایک عوامی نمائندہ اور وزیر خارجہ ہوں اس پوزیشن میں میرے کچھ بھی کہنے کی اہمیت ہو جاتی ہے انہوں نے کہا کہ 29 سال کی سیاسی زندگی میں نواز شریف میرا قائد ہےلیڈر شپ کی طرف سے جب تک 4159نع نہیں کیا جاتا میرے ٹوئٹس حکومتی بیان ہے انہوں نے کہا کہ انفرادی اور اداروں کے بیان میں فرق رکھا جائے پارلیمنٹ سے 4 موقف عوام کی رئے کا عکاس ہونا چاہیے پارلیمنٹ کی قرارداد عوام کی خواہشات کے مطابق ہونی چاہیے ٹرمپ کا بیان سیاسی نہیں ہمارا قومی مسئلہ ہے یہ ہمارے وقار کا معاملہ ہے انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستانی فوج نے بے شمار قربانیاں دی ہیں آج ہمارے شہر محفوظ ہیں ہماری سرحدیں محفوظ ہیںانہوں نے کہا کہ سوویت یونین ہمارا دشمن نہیں تھا افغانستان میں سوویت یونین کے خلاف جنگ کو ہم نے جہاد کا نام دیا امریکہ افغانستان میں اپنے اتحادیوں کے ساتھ کیوں بدنام نہیں کرسکا انہوں نے کہا کہ امریکہ ہمارے افسروں اور جوانوں کی قربانیوں کی توہین کر رہا ہے ہمارے کرنل، بریگیڈئیر اور میجر شہید ہوئے افغان جنگ میں ہم نے ان کا ساتھ ہوا ان کو فائدہ ہوا ہم نے اپنے ذمے تباہی ڈال لی۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ پاکستان کی ایف 16 طیاروں کی رقم بھی کھا گیا ہم نے امریکہ سے اپنی وفاداری نبھائی امریکہ نے کبھی ہمارا ساتھ نہیں دیا۔انہوں نے کہا کہ امریکہ سپر طاقت ہے تو ذمہ داری کا کردار ادا کرے امریکہ کو کیا ضرورت پڑی کہ اسرائیل کا دارالحکومت فلسطین کے شہر کو تسلیم کرے امریکہ کے وہاں کیا مفادات تھے کہ ا4146اری دنیا ایک طرف ہے اور امریکہ دوسری طرف ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم خوددار قوم ہیں ہم امریکہ کے بغیر زندہ رہ سکتے ہیں اس وقت امریکہ بھارت گٹھ جوڑ ہے خطے میں ان کے مفادات ہیں انہوں نے کہا کہ سی پیک کے مغربی دنیا تک پہنچنے کے امکانات پیدا ہو رہے ہیں ہمارا چین کے ساتھ جذباتی لگاؤ اور عوامی سطح پر رابطہ ہے بھارت اور امریکہ اقتصادی راہداری کے خلاف مشترکہ محاذ بنا رہے ہیں انہوں نے کہا کہ ہمیں یو این ایچ سی آر والے کیا دیتے ہیں افغان مہاجرین کو پرامن طور پر واپس جانا چاہئے جب مہاجرین کی واپسی کی بات کرتے ہیں تو امریکہ جواب نہیں دیتا امریکہ اور بھارت خطے میں امن نہیں چاہیے خطے میں عدم استحکام امریکہ اور بھارت کے مفاد میں ہے انہوں نے کہا کہ ہم پر شہداء کا قرض ہے میری قوم کی عزت و وقار کا تحفظ نظر آنا چاہیے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے