نمونیا سے بچاؤ میں مددگار شیمپو کی بوتل

‘انٹرن کے طور پر وہ میری پہلی رات تھی اور تین بچے میری آنکھوں کے سامنے دم توڑ چکے تھے۔ میں اس قدر مجبور محسوس کر رہا تھا کہ میرے آنسو بہنے لگے۔’

ڈاکٹر زبیر چشتی 1996 میں بنگلہ دیش کے سلہٹ میڈیکل کالج ہسپتال کے شعبہ اطفال میں کام کررہے تھے۔ اس رات انھوں نے عہد کیا کہ وہ ایسا کچھ کریں گے کہ بچے نمونیا سے نہ مریں۔

دنیا بھر میں تقریباً نو لاکھ 20 ہزار بچے ہر سال اس بیماری سے ہلاک ہوجاتے ہیں جن میں زیادہ تعداد جنوب ایشیا اور افریقی صحرائے اعظم کے جنوبی ممالک کے بچوں کی ہوتی ہے۔

دو سال کی تحقیق کے بعد اب ڈاکٹر چشتی نے ایک کم خرچ آلہ تیار کیا ہے جو بہت حد تک ہزاروں بچوں کی جان بچا سکتا ہے۔

قیمتی مشینیں

سٹرپٹوکوکس جیسے بیکٹیریا یا سانس سے پھیلنے والے وائرس (آر وی ایس) سے پھیپھڑوں میں انفیکشن ہو جاتا ہے اور یہ نمونیا کا سبب بنتے ہیں۔

ترقی یافتہ ممالک میں ہسپتالوں میں بچوں کو باآسانی سانس دلوانے کے لیے وینٹیلیٹرز کا استعمال ہوتا ہے لیکن ایسی ایک مشین کی قیمت 15 ہزار ڈالر ہے جسے تربیت یافتہ افراد ہی چلا سکتے ہیں۔

بنگلہ دیش جیسے ممالک میں یہ بہت مہنگی ثابت ہو سکتی ہے۔ عالمی ادارۂ صحت نے نمونیا کے علاج کے لیے کم خرچ متبادل ‘لو فلو آکسیجن’ کی تجویز دی ہے لیکن پھر بھی ہر سات میں سے ایک بچے کی موت واقع ہو جاتی ہے۔

ڈاکٹر چشتی جب آسٹریلیا کے شہر میلبرن میں تھے وہاں ایک مشین کو دیکھ کر ان کے ذہن میں ایک خیال آیا۔ اس مشین میں مسلسل مثبت ہوا کے راستے کا دباؤ (سی پی اے پی) رہتا ہے جس سے پھیپھڑے ناکارہ ہونے سے بچ جاتے ہیں اور جسم کو کافی آکسیجن جذب کرنے میں مدد ملتی ہے لیکن وہ مشین بھی مہنگی تھی۔

جب وہ بنگلہ دیش کے انٹرنیشنل سینٹر فار ڈائریا ڈیزیز ریسرچ میں کام کرنے کے لیے اپنے ملک واپس آئے تو انھوں نے سی پی اے پی کے آسان نمونے پر کام کرنا شروع کیا۔

انھوں نے اپنے ایک ساتھی کے ساتھ انتہائی نگہداشت کے شعبے (آئی سی یو) سے شیمپو کی ایک ختم شدہ بوتل لی، اسے پانی سے بھرا اور اس کے ایک سرے پر پلاسٹک کی نلی لگائی۔

ڈاکٹر چشتی بتاتے ہیں کہ ‘بچے ایک ٹینک سے سانس کے ذریعے آکسیجن لیتے ہیں اور ایک نلی کے ذریعے اسے چھوڑتے ہیں۔ یہ نلی اس بوتل سے جڑی ہوئی ہے جہاں پانی میں بلبلے بنتے ہیں

بلبلوں سے نکلنے والا دباؤ پھیپھڑوں میں ہوا کی چھوٹی تھیلیوں کو کھلا رکھتا ہے۔

انھوں نے کہا: ‘ہم نے بغیر کسی انتخاب کے یونہی چار پانچ مریضوں پر اس کا تجربہ کیا۔ چند گھنٹوں میں ہم نے اس کا مثبت نتیجہ دیکھا۔’

کامیاب تجربہ

جس بچی کا اس آلے سے علاج ہوا ان کی والدہ کوہ نور بیگم نے بتایا: ‘ڈاکٹروں نے بہت محنت کی۔ آکسیجن کے لیے ایک نلی لگائی اور پھر ایک گول سفید بوتل کو بلبلہ چھوڑتے ہوئے پانی سے منسلک کر دیا۔

‘علاج کے بعد جب میری بچی اچھی ہو گئی تو مجھے بہت خوشی ہوئی۔’

دو سال کی تحقیق کے بعد ڈاکٹر چشتی نے اپنے تجربات کے نتائج کو ‘دا لینسٹ’ نامی سائنسی جریدے میں شائع کروایا۔ اس میں یہ دکھایا گيا ہے کہ سی پی اے پی کے بلبلوں سے علاج کیے جانے والے بچوں میں لو فلو آکسیجن سے علاج کے مقابلے میں شرح اموات بہت کم ہے۔

اس آلے پر صرف سوا ڈالر خرچ آیا اور اس سے نمونیا سے مرنے والے بچوں کی موت کی شرح میں 75 فیصد کمی آئی ہے۔

اس آلے سے ہسپتال کا آکسیجن کا خرچ بھی بہت کم ہو گيا ہے اور یہ 30 ہزار ڈالر سالانہ سے یہ صرف چھ ہزار ڈالر رہ گیا ہے۔

الدین ویمن میڈیکل کالج میں بچوں کے امراض کے پروفیسر ڈاکٹر اے آر ایم لطف الکبیر نے کہا کہ اس کے متعلق ملک گیر پیمانے پر مطالعے کی ضرورت ہے لیکن نتائج امید افزا ہیں۔

ڈاکٹر کبیر نے کہا: ‘میرے خیال سے یہ ایجاد بڑے پیمانے پر شرح اموات میں کمی لا سکتی ہے کیونکہ کوئی بھی ہسپتال اس کا خرچ اٹھا سکتا ہے۔’

ابھی تک تقریبا 600 بچے اس کم خرچ جان بچانے والے آلے سے مستفید ہوئے ہیں۔

ڈاکٹر چشتی کو ترقی دے کر ان کے ہسپتال میں کلینیکل ریسرچ کا سربراہ بنا دیا گيا ہے لیکن تین بچوں کے والد کو وارڈ میں بچوں کے ساتھ کھیلنے کا موقع مل جاتا ہے۔

جب ان سے پوچھا گیا کہ 20 سال قبل جو انھوں نے عہد کیا تھا اس کو پورا ہوتا ہوا دیکھ کر انھیں کیسا محسوس ہوتا ہے تو انھوں نے کہا: ‘میری زبان اس کے اظہار سے قاصر ہے۔’

وہ چاہتے ہیں کہ تمام ترقی پزیر ممالک کے ہسپتالوں میں سی پی اے پی مشین دستیاب ہو۔ ‘اس دن ہم کہہ سکتے ہیں کہ نمونیا سے مرنے والوں کی تعداد تقریباً صفر ہے۔”

bbc

بی بی سی انو ویٹرز جنوبی ایشیا میں مختلف مسائل اور چیلینجز کو حل کرنے کے انوکھے ذرائع کے بارے میں سیریز ہے۔

کیا آپ نے کبھی ہندی زبان کا لفظ ‘جگاڑ’ سنا ہے؟ اس کا مطلب ہے سستا حل۔

You May Also Like

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے