نئے میزائل بنا رہا ہے

پاکستان کم اور زیادہ فاصلے تک مار کرنے والے نئے میزائل بنا رہا ہے – امریکہ پاکستان کم اور زیادہ فاصلے تک مار کرنے والے نئے میزائل بنا رہا ہے – امریکہ

پاکستان سے کئی گنا بڑا ملک ہونے کے باوجود بھارت کی حالت یہ ہے کہ ہمہ وقت اس کے سر پر پاکستان کا خوف سوار رہتا ہے اور اپنے غریب عوام کو بھول کر اس کی ساری توجہ اربوں ڈالر کے ہتھیار خریدنے پر رہتی ہے۔

ڈرے ہوئے بھارت کو امریکی انٹیلی جنس ایجنسی کے سربراہ نے یہ کہہ کر اور بھی ڈرا دیا ہے کہ پاکستان شارٹ رینج پر مار کرنے والے نئی قسم کے ایٹمی ہتھیار بنا رہا ہے۔
اکنامک ٹائمز کے مطابق امریکی ادارے نیشنل انٹیلی جنس کے ڈائریکٹر ڈین کوٹس نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ پاکستان نئی قسم کے ایٹمی ہتھیار تیار کررہا ہے، جن میں شارٹ رینج ٹیکٹیکل ہتھیار بھی شامل ہیں، جن کی وجہ سے خطے کے لئے نئے خطرات پیدا ہوسکتے ہیں۔

وہ امریکی سینیٹ کی کمیٹی برائے انٹیلی جنس کے تحت منعقد ہونے والی نشست میں کانگرس کو عالمی خطرات سے آگاہ کررہے تھے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان کے نئی قسم کے ایٹمی ہتھیاروں میں شارٹ رینج ٹیکٹیکل ہتھیار، سمندر سے چلائے جانے والے کروز میزائل، فضا سے داغے جانے والے کروز میزائل ، اور لانگ رینج بیلسٹک میزائل بھی شامل ہیں۔

یاد رہے پاکستان نیوی کو اس وقت آبدوزوں اور فریگیٹس سے فائر ہونے والے لانگ رینج سپر سانک کروز میزائلوں کی اشد ضرورت ہے جو کہ ایٹمی ہتھیاروں سے لیس ہوں، اور بھارت کا ہر شہر ان میزائلوں کی زد میں ہوں۔پاک نیوی کا بابر تھری میزائل بھی اسی ضرورت کے تحت تیار کیا گیا، مگر بابر تھری کروز میزائل کی رینج 450 کلومیٹر ہے، یعنی پاک نیوی سمندر سے بھارت کے تقریبا 450 کلومیٹر اندر تک ایٹمی حملہ کرسکتی ہے۔

بابر تھری میزائل آبدوز سے فائر کیا جاتا ہے جبکہ پاک نیوی نے اسی میزائل کا ایک دوسرا ویرینٹ بھی تیار کیا جو کہ فریگیٹ سے فائر کیا جاسکتا ہے اور نا صرف سمندر سے سمندر میں مار کرتا ہے بلکہ سمندر سے خشکی پر بھی مار کر سکتا ہے، اس میزائل کا نام حربہ رکھا گیا ہے، یہ میزائل بھی ایٹمی ہتھیار لے جا سکتا ہے، تاہم اس میزائل کی رینج کے حوالے سے پاکستان نیوی نے تفصیلات مہیا کرنے سے گریز کیا ہے۔

امید کی جاسکتی ہے کہ پاکستان ایسے ہی لانگ رینج کروز میزائل تیار کر رہا ہے جو بھارت کے کسی بھی شہر کو نشانہ بنا سکیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے