مقبوضہ کشمیر میں مسلم کشی عروج پر

سری نگر(ویب ڈیسک) مقبوضہ کشمیر میں بھارتی جارحیت کے خلاف آج دوسرے روز بھی مکمل ہڑتال کی جارہی ہے جب کہ جنوبی حصوں میں کرفیو نافذ کردیا گیا ہے۔مقبوضہ کشمیر میں بھارتی سیکیورٹی فورسز کے ہاتھوں 17 نوجوانوں کی شہادت پر کشمیری سراپا احتجاج ہیں اور وادی بھر میں ہڑتال کی

جارہی ہے۔وادی میں اسکول، کالجز اور دیگر تعلیمی ادارے بند ہیں جب کہ قابض انتظامیہ نے سری نگر سمیت جنوبی حصوں میں کرفیو نافذ کردیا۔مشترکہ مزاحمتی قیادت سید علی گیلانی، میر واعظ عمر فاروق اور یاسین ملک گھروں میں بدستور نظر بند ہیں۔یاد رہے کہ یکم اپریل کو بھارتی سیکیورٹی فورسز نے شوپیاں اور اسلام آباد کے اضلاع میں سرچ آپریشن کے نام پر بربریت کا مظاہرہ کیا جس کے نتیجے میں 17 نوجوان شہید اور 100 سے زائد زخمی ہوگئے تھے۔ یاد رہے مقبوضہ کشمیر میں قابض بھارتی فورسز نے سرچ آپریشن کے نام پر 17 کشمیری نوجوانوں کو شہید کردیا۔کشمیر میڈیا سروس کے مطابق قابض بھارتی فورسز نے اسلام آباد اور شوپیاں کے اضلاع میں سرچ آپریشن کے نام پر بربریت کا مظاہرہ کیا اور فائرنگ کے نتیجے میں 16 کشمیری نوجوان شہید اور 100 سے زائد زخمی ہوئے۔بھارتی فوج کی فائرنگ سے زخمی ہونے والا ایک اور کشمیری نوجوان اقبال بھٹ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے چل بسا جس کے بعد شہداء کی تعداد 17 ہوگئی۔ڈائریکٹر جنرل پولیس ایس پی وید نے دعویٰ کیا ہے کہ جنوبی کشمیری اضلاع میں بھارتی سیکیورٹی فورسز سے مقابلے کے 2 مختلف واقعات میں 12 نوجوان ہلاک ہوئے جن میں ایک

پاکستان کی خفیہ ایجنسیوں کا اسامہ بن لادن اور اس کی جماعت کے ساتھ کیا تعلق تھا؟ وفاقی وزیر احسن اقبال نے خاموشی توڑ تے ہوئے بڑا انکشاف کر ڈالا

یکساں نمازو اذان سے متعلق حکومت اور علماء آمنے سامنے ، حکومت کے خلاف علماء کا ردِ عمل جان کر پوری قوم حیرت میں مبتلا ہو گئی

کمانڈر بھی شامل ہے۔ سرچ آپریشن کے دوران بھارتی فورسز کے 3 اہلکاروں کے زخمی ہونے کا بھی دعویٰ کیا گیا ہے جب کہ علاقے میں انٹرنیٹ اور ٹرین سروس بھی معطل کردی گئی ہے۔دوسری جانب کشمیری نوجوانوں کے قتل پر حریت قیادت نے 2 روزہ ہڑتال کا اعلان کیا ہے جب کہ کشمیر یونیورسٹی کے طالبعلموں نے شدید احتجاج کرتے ہوئے آزادی کے حق میں اور بھارت مخالف نعرے بھی لگائے۔ آخر کب تک اپنا پیدائشی حق مانگنے کی پاداش میں کشمیریوں کو چن چن کر مارا جائے گا اور دنیا خاموشی سے دیکھتے رہے گی۔حریت رہنما میر واعظ عمر فاروق نے بھی اپنی ٹوئٹ میں کشمیری نوجوانوں کی شہادت پر غم و غصے کا اظہار کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ جنوبی کشمیر میں بھارتی افواج نے ایک بار پھر خون کی ہولی کھیلی اور 17 نوجوانوں کو شہید کردیا ، جن میں سے 12 کا تعلق شوپیاں ضلع سے ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ آخر کب تک اپنا پیدائشی حق مانگنے کی پاداش میں کشمیریوں کو چن چن کر مارا جائے گا اور دنیا خاموشی سے دیکھتے رہے گی۔(ذ،ک)

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے