مصر میں مذاکرات کے بعد حماس اور الفتح میں 10 سال بعد ’صلح ہو گئی‘

فلسطینی گروپ حماس کا کہنا ہے کہ اس نے اپنے حریف گروپ الفتح سے معاہدہ کر لیا ہے جس کے بعد ایک دہائی سے جاری تنازع ختم ہو جائے گا۔

حماس کا کہنا ہے کہ معاہدے کی تفصیلات کو جمعرات کو جاری کی جائیں گی تاہم الفتح نے اس پر کوئی بیان نہیں دیا۔

مصر نے دونوں گروپوں کے درمیان قاہرہ میں مصالحتی مذاکرات کرانے میں کردار ادا کیا ہے۔

سنہ 2007 میں فلسطینی گروپ حماس اور الفتح کے درمیان ہونے والی پر تشدد جھڑپوں کے بعد سے غزہ پر حماس اور مغربی کنارے پر الفتح کا کنٹرول قائم ہے۔

حماس، الفتح، فلسطین، مغربی کنارےتصویر کے کاپی رائٹEPA
Image captionحماس کے رہنما مصر اور دوسرے عرب ممالک سے بہتر تعلقات کے خواں ہیں

حماس کے حمایت یافتہ معلوماتی سینٹر نے معاہدے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ معاہدے کی تفصیلات قاہرہ میں جمعرات کو ایک نیوز کانفرنس میں بتائی جائیں گی۔

بدھ کے روز حماس کے ترجمان سمی ابو ظہری نے بتایا تھا کہ قاہرہ میں ہونے والی بات چیت ‘سنجیدہ’ ہے۔

گذشتہ ماہ حماس غزہ پر حکمرانی کرنے والی کمیٹی کو تحلیل کرنے پر رضامند ہو گئی تھی جو فلسطینی صدر محمود عباس کا اہم مطالبہ تھا۔ محمود عباس کی حمایت یافتہ الفتح مغربی کنارے پر حکمرانی کرتی ہے۔

حماس، الفتح، فلسطین، مغربی کنارےتصویر کے کاپی رائٹAFP
Image captionفلسطینی وزیراعظم رامی حماداللہ نے حال ہی میں غزہ کا غیر معمولی دورہ کیا ہے

اس کے بعد فلسطینی وزیراعظم رامی حماداللہ نے غزہ کا غیر معمولی دورہ کیا تھا۔

انھوں نے کہا تھا کہ فلسطینی اتھارٹی غزہ کا انتظامی اور سکیورٹی معاملات کا کنٹرول حاصل کرنا شروع کر رہی ہے۔

حماس اور بلخصوص اس کے عسکری دھڑے کو اسرائیل، امریکہ، یورپی اتحاد اور برطانیہ سمیت دیگر طاقتوں نے دہشت گرد گروپ قرار دے رکھا ہے۔

You May Also Like

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے