مسلم لیگ کو پھر سربراہی کا سوال درپیش

سپریم کورٹ کی طرف سے الیکشن قوانین میں ترامیم کے بل کو کالعدم قرار دینے کے فیصلے کے بعد نواز شریف کو ایک مرتبہ پھر یہ مشکل درپیش ہے کہ اب کس کو اپنی جگہ مسلم لیگ ن سربراہ بنایا جائے۔

عام انتخاب سے چند ماہ قبل جماعت کی سربراہی کس نئے شخص کو سونپا اور وہ بھی ایک ایسی جماعت کی سربراہی جو نہ صرف اپنے نام سے بلکہ اپنی تنظیم کے اعتبار سے بھی صرف ایک شخصیت کے گرد گھومتی ہو اس کا سربراہ کسی اورکو مقرر کرنا کوئی آسان فیصلہ نہیں ہے۔

نواز شریف کے لیے یہ فیصلہ کرنا اس لیے بھی انتہائی کٹھن ہو گیا ہے کیونکہ جماعت اپنی زندگی کے ایسے دوہرائے پر پہنچ رہی ہے جب اس کی باگ دوڑ سنبھالنے کے لیے شریف خاندان کی نئی نسل مشتاق اور بے قرار دکھائی دیتی ہے۔

نواز شریف کی جماعت کی سربراہی ختم ہوتے ہیں مقامی ذرائع ابلاغ میں مسلم لیگ کے آئندہ صدر کے ناموں کے بارے میں قیاس آرائیاں اور ذرائع کے حوالے سے خبریں آنا شروع ہو گئی ہیں۔

انگریزی زبان کے مقتدر اخبار ڈان نے مسلم لیگ کے ذرائع کے حوالے سے دعویٰ کیا ہے کہ مسلم لیگ کی سربراہی لندن میں زیر علاج نواز شریف کی شریک حیات کلثوم نواز کو سونپی جا رہی ہے۔

جبکہ ملک کے ایک اور بڑے اخبار جنگ نے کہا ہے کہ یہ ذمہ داریاں پنجاب کے وزیر اعلیٰ شہباز شریف کو دی جا رہی ہیں۔

یاد رہے کہ میاں نواز شریف نے سپریم کورٹ سے نااہلی کے بعد بھی میاں شہباز شریف کو پارٹی کا صدر بنانے کا اعلان کیا تھا لیکن بعد میں یہ فیصلہ بدل دیا گیااور پارٹی کا صدر یعقوب خان ناصر کو بنا دیا گیا تھا۔

سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ شہباز شریف کو پارٹی کے سربراہ بنانے کی سب سے زیادہ مخالفت شریف خاندان کے اندر سے ہی ہو رہی ہے اور یہی وجہ ہے کے اُن کو اس سے قبل بھی پارٹی کا سربراہ بنانے کا اعلان کرنے کے بعد فیصلہ تبدیل کر دیا گیا تھا۔
مسلم لیگ نون کی حالیہ عوامی مہم کے دوران شہباز شریف زیادہ متحرک نظر نہیں آتے
سپریم کورٹ کی جانب سے نااہل قرار دیے جانے کے بعد نواز شریف کی جانب سے عوامی رابطہ مہم کا آغاز اور اس کے دوران سابق وزیرِاعظم اور ان کی بیٹی مریم نواز کی جانب سے عدلیہ پر تنقید کے حوالے سے اپنائی جانے والی حکمتِ عملی پر بھی شریف خاندان کے اختلافات کھل کر سامنے آئے ہیں۔

عوامی جلسوں میں نواز شریف اور مریم نواز مسلسل عدلیہ کو ہدفِ تنقید بنائے ہوئے ہیں اس کے برعکس پنجاب کے وزیرِاعلی شہباز شریف اور پنجاب کی سیاست میں متحرک ان کے فرزند حمزہ شہباز کی جانب سے قومی اداروں کے خلاف کوئی بیان سامنے نہیں آیا۔

شریف خاندان کے اندرونی اختلافات اس وقت سرخیوں کی زینت بنے جب نواز شریف کی نااہلی کے باعث خالی ہونے والی حلقہ این اے 120کی قومی اسمبلی کی نشست پر جب کلثوم نواز نے الیکشن لڑا تو ان کی انتخابی مہم میں حمزہ شہباز کہیں دیکھائی نہیں دیے۔ اگرچہ مسلم لیگ نون نے یہ ضمنی انتخاب جیت لیا لیکن ان کے ووٹوں میں خاطرخواہ کمی دیکھنے میں آئی جس کی ایک وجہ حمزہ شہباز کی غیرموجودگی بھی بتائی جاتی ہے۔

یاد رہے کلثوم نواز بیماری کی وجہ سے ابھی تک قومی اسمبلی کی رکنیت کا حلف نہیں اٹھاسکیں۔

تـجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ بیماری کی حالت میں کلثوم نواز کے لیے پارٹی کی صدارت سنبھالنے کے بعد فعل کردار ادا کرنا تقریباً ناممکن ہوگا۔ لیکن اگر اس کے باوجود ان کو صدر بنایا جاتا ہے تو شریف خاندان کے اختلافات کی خبروں کو مزید تقویت ملے گی۔

مقامی ذرائع ابلاغ کے مطابق ن لیگی رہنماؤں کی اکثریت نے شہبازشریف کو صدر بنانے کا مشورہ دے دیا اور کہا ہے کہ شہبازشریف بااثراورغیر متنازع شخصیت ہیں جبکہ شہبازشریف کو صدر بنانے سے اداروں میں جاری کشیدگی میں بھی کمی آئے گی۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ پارٹی صدارت کا حتمی فیصلہ نواز شریف کریں گے، جس کی مرکزی مجلس عاملہ سے توثیق کرائی جائے گی تاہم سابق وزیراعظم نواز شریف عوامی رابطہ مہم جاری رکھیں گے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے