لاہور کے داخلی و خارجی راستوں پر چیکنگ کا غیر منظم نظام

صوبائی دارالحکومت لاہورکے داخلی و خارجی راستوں پر متعدد مرتبہ سیکیورٹی کے فول پروف انتظامات کیے جانے کی باتیں ہوئیں، سی سی ٹی وی کیمرے اور سکینرز نصب کرنے کے چرچے بھی ہوئے لیکن سب کچھ ہواؤں میں ہی رہا۔ نہ تو کیمرے نصب کیے جا سکے اور نہ ہی ایکسپلوژیو سکینرز نصب ہو سکے۔ نتیجہ یہ ہوا کہ شہر میں بارود سے بھرا ٹرک آن کھڑا ہوا، جسے دہشت گردی کے لیے استعمال کیا جانا تھا۔ ذرائع کے مطابق ٹرک میں کم از کم 100 کلو سے زائد بارود نصب کیا گیا تھا۔

ذرائع کے مطابق 2014ء میں شہر کے داخلی و خارجی راتوں پر سکینرز لگانے کی منظوری ہوئی اور ان کی خریداری کے لیے اربوں روپے کا بجٹ بھی منظور ہوا لیکن منصوبہ کھٹائی میں پڑ گیا۔ ڈی جی پنجاب فرانزک سائنس ایجنسی کے مطابق پاکستان میں سب سے زیادہ دہشت گردی کا ناسور موجود ہے۔ اس صورتحال میں سکینرز لگانے سے کافی حد تک کارروائیوں کو روکا جا سکتا تھا لیکن ایسا نہ ہو سکا۔ فرانزک ماہرین کے مطابق داخلی، خارجی راستوں، ہائی ویز پر سکینر نصب کر دیے جائیں اور نمبر پلٹیں نمونے کے مطابق گاڑیوں پر لگائی جائیں تو بہت حد تک دہشت گردی کے واقعات میں کمی لائی جا سکتی ہے

6 thoughts on “لاہور کے داخلی و خارجی راستوں پر چیکنگ کا غیر منظم نظام

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے