لاہور:نوجوان نے اپنی منگیتر کے چہرے پر تیزاب پھینک دیا

لاہور:نوجوان نے اپنی منگیتر کے چہرے پر تیزاب پھینک دیا

لاہور(ویب ڈیسک )لاہورکے علاقہ بھٹہ چوک کے قریب نوجوان نے لڑکی کے چہرے پر تیزاب پھینک دیا۔تیزاب سے جھلس جانے والی 25 سالہ بینش نے الزام لگاتے ہوئے کہا کہ وہ ایک نجی کمپنی میں ملازمت کے بعد گھر جا رہی تھی کہ اسکا منگیتر عصمت آیا اور اسکے چہرے پر تیزاب پھینک کرفرار ہوگیا۔بینش کو فوری طور پر جنرل اسپتال

منتقل کر دیا گیا۔پولیس نے واقعہ کی رپورٹ درج کرکے ملزم عصمت کی تلاش شروع کر دی۔پاکستان کی عدالتوں کو بہت کم لوگوں کا اعتماد حاصل ہے لیکن تیزاب پھینکنے کے واقعات کے خلاف مہم چلانے والوں کا کہنا ہے کہ سخت قوانین متعارف کرائے جانے کے بعد ان جرائم میں سزا پانے والے افراد کی تعداد میں تین گنا اضافہ ہوا ہے ۔پاکستان میں لوگوں پر تیزاب پھینکنے کا شمار بے رحمانہ گھریلو تشدد میں ہوتا ہے۔ ملک میں ہر سال درجنوں لوگوں، جن میں اکثریت خواتین کی ہے، کے چہرے تیزاب کے حملوں میں مسخ ہو جاتے ہیں۔موجودہ حکومت نے 2011 کے اواخر میں تیزاب پھینکنےوالوں کے خلاف سخت قوانین متعارف کرائے تھے جن کے تحت جرم ثابت ہونے پر چودہ سال قید اور دس لاکھ روپے جرمانہ ہو سکتا ہے۔پارلیمنٹ نے گزشتہ سال گھریلو تشدد کو خلافِ قانون قرار دیا تھا۔اگرچہ، ان قوانین پر مکمل عمل درآمد میں اب بھی مشکلات درپیش ہیں لیکن انسانی حقوق کی تنظیمیں انہیں متعارف کرانے پر موجودہ حکومت کی تعریف کرتی ہیں۔ایسڈ سروائیور فاؤنڈیشن کی پاکستانی شاخ سے وابستہ ولیرے خان یوسف زئی کے مطابق، قوانین میں ترامیم سے پہلے سزائیں دینے کا تناسب چھ فیصد تھا تاہم اب 2012 میں یہ اٹھارہ فیصد تک پہنچ گیا ہے۔وکیل سکندر نعیم کا کہنا ہے کہ اب سزا دینا بہت آسان ہو گیا ہے کیونکہ سپریم کورٹ نے بھی اس طرح کے معاملات میں دلچپسی لینا شروع کی ہے اور اب متاثرہ شخص کا بیان ہی ملزم کے خلاف ثبوت کے طور پر کافی ہوتا ہے۔

You May Also Like

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے