فرعون کی ’ملکہ‘ کا مقبرہ دریافت

مصر میں ماہرینِ آثار قدیمہ نے ایک غیر معروف ملکہ کا مقبرہ دریافت کیا ہے۔

یہ مقبرہ جنوب مغربی قاہرہ میں ابو سِر کے مقام پر دریافت ہوا جس کے متعلق کہا جا رہا ہے کہ وہ 4,500 سال پہلے کے دور کے فرعون نیفریفری کی ماں یا بیوی کا ہو سکتا ہے۔

مصر کے نوادرات کے وزیر ممدوح الدماتی کہتے ہیں کہ اس ملکہ کا نام کھیمتکاویس اور یہ اس کے مقبرے کی دیوار پر لکھا پایا گیا ہے۔

دماتی کا کہنا ہے کہ اس سے لگتا ہے کہ وہ کھیمتکاویس سوئم ہیں۔

یہ مقبرہ فرعون نیفریفری کے مقبرے کے کمپلیکس میں دریافت ہوا ہے۔

چیک انسٹیٹوٹ آف ایجپٹولوجی مشن کے سربراہ میروسلاو بارتا جنھوں نے یہ دریافت کی کہتے ہیں کہ ملکہ کے مقبرے کی جگہ دیکھ کر لگتا ہے وہ فرعون کی بیوی تھیں۔

اس مقبرے سے تیس چونے اور تانبے کے برتن ملے ہیں
میروسلاو کو اس مقبرے سے چونے کے پتھر اور تانبے کے 30 برتن بھی ملے ہیں۔

دماتی کہتے ہیں کہ اس مقبرے کی دریافت سے ففتھ ڈائنیسٹی یا پانچویں شاہی گھرانے کے بعض نامعلوم پہلوؤں پر نظر پڑتی ہے جس نے فورتھ ڈائنیسٹی کے ساتھ مل کر پہلے اہرامِ مصر کی تعمیر دیکھی تھی۔

ابو سِر قدیم مصر کے دارالحکومت میمفیس کا پرانا شاہی قبرستان ہوا کرتا تھا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے