عطاالحق قاسمی کو 27 کروڑ کیسے دئیے؟

عطاالحق قاسمی کو 27 کروڑ کیسے دئیے؟ پھر کہتے ہیں عدلیہ متحرک نہ ہو:چیف جسٹس عطاالحق قاسمی کو 27 کروڑ کیسے دئیے؟ پھر کہتے ہیں عدلیہ متحرک نہ ہو:چیف جسٹس

اسلام آباد(ویب ڈیسک) سپریم کورٹ نے ایم ڈی پی ٹی وی تقرری کیس میں سابق وزیر اطلاعات پرویز رشید اور وزیر اعظم کے پرنسپل سیکرٹری فواد حسن اور دیگر فریقین کو نوٹس جاری کرتے ہوئے آبزرویشن دی کہ اگر تقرری غیر قانونی ہے توکیوں نہ تقرری کرنے والے سابق وزیر اعظم کو طلب کر کے ان سے تفتیش کی جائے۔

چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں جسٹس اعجاز الاحسن پر مشتمل دو رکنی بنچ نے مینجنگ ڈائریکٹر پی ٹی وی کی عدم تقرری کے بارے میں از خود نوٹس کیس کی سماعت کی۔ سیکرٹری اطلاعات احمد نواز سکھیرا نے عدالت کو بتایا کہ ایم ڈی پی ٹی وی ک ایڈہاک چارج عطا الحق قاسمی کے پاس ہے۔ چیف جسٹس نے کہا ایڈہاک ازم مسائل کا حل نہیں،26 فروری2016 سے پوسٹ خالی ہے، کون ذمہ دار ہے جس نے ایک سال سات ماہ تک سمری نہیں بھیجی۔عدالت کے استفار پر سیکرٹری اطلاعات نے تسلیم کیا کہ عطا الحق قاسمی کا چارج سنبھالنا نا مناسب تھا جس پر چیف جسٹس نے کہا نامناسب نہیں غیر قانونی ہے،

ہم ان سے ریکوری کریں گے۔ سیکرٹری اطلاعات نے کہا کہ بطور چیئرمین ان کی تنخواہ15 لاکھ مقرر ہوئی اور دوسال میں 27 کرورڑ80 لاکھ کی ادائیگی ہوئی۔چیف جسٹس نے کہا 27 کروڑ روپے تنخواہ و مراعات کس قانون کے تحت دی گئیں، پھر کہتے ہیں عدلیہ متحرک نہ ہو، اگر سابق وزیر اعظم نے غلط بیانی کی تو یہ رقم ان ہی سے وصول کی جائے ، اگر یہ ثابت ہو گیا کہ عطاالحق قاسمی نے تنخواہ اور مراعات غلط حاصل کی ہیں تو انہیں یہ رقم واپس کرنا ہو گی، غیرب ملک ہے، ٹیکس ادا کرنے والوں کا پیسہ اس طرح کیسے بانٹا گیا۔

چیف جسٹس نے کہا عطا الحق قاسمی کو کس خصوصیت پر چیئر مین بنانے کی سفارش کی گئی، سیکرٹری اطلاعات نے جواب دیا کہ وہ مشہور رائٹر اور ڈرامہ نگار ہیں جس پر چیف جسٹس نے کہا مجھے تو یہ سارا ڈرامہ ہی لگتا ہے، یہ سارا کام فواد حسن نے کہا ہو گا اسے بھی بلا لیتے ہیں،سمری پر دستخط نواز شریف نے کئے انہیں بھی بلا سکتے ہیں۔عدالت نے حکم دیا کہ سابق سیکرٹری انفارمیشن صبا محسن اپنے ساتھ وہ سمری بھی لے کر آئیں جس میں عطا الحق قاسمی کی تعیناتی کی سفارش کی گئی تھی۔ بعد ازاں سماعت 12 فروری تک ملتوی کر دی گئی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے