عاصمہ جہانگیربھارتی ایجنٹ کیساتھ پکڑ ی گئی

عاصمہ جہانگیربھارتی ایجنٹ کیساتھ پکڑ ی گئی

جنیوا(ویب ڈیسک ) عاصمہ جہانگیر بھارتی ایجنٹ احمر مستی خان کےساتھ خوشگوار موڈمیں، اس ملعون نےتربت میں درجنوں مزدوروں کےقتل عام کو ‘ضروری’ قراردیاتھا۔عاصمہ جہانگیر کا شمار ان لوگوں میں ہوتا ہے جو پاکستان کے آئین سے اسلامی شقوں باالخصوص قادیانیوں کے حوالے سے متفقہ ترامیم کو ختم کرکے ایک مرتبہ پھر قادیانیوں

کو مسلمان قرار دلانے کی کوشش کررہے ہیں۔ عاصمہ جہانگیر حدود قوانین، توہین رسالت قوانین، قصاص قوانین، قرار داد مقاصد اور دیگر اسلامی قوانین کا خاتمہ چاہتی ہیں، وہ ان قوانین اور ترامیم کو بنیادی انسانی حقوق کے خلاف تصور کرتی ہیں۔ الیکشن میں کامیابی کے بعد ان کا پہلا بیان بھی مبینہ انتہا پسندی کے خلاف کام کرنے کا عزم پر مبنی تھا۔ محترمہ کے نزدیک اسلام پسندی دراصل انتہا پسندی ہے۔ اگرچہ کہنے والے یہاں تک بھی کہتے ہیں کہ پاکستان کے آئین کے مطابق غیر مسلم قرار دیے گئے ایک گروہ سے ان کا گہرا تعلق ہے۔ سپریم کورٹ بار پاکستان کے وکلاءکی سب سے بڑی اور موثر ترین تنظیم ہے۔ اس موثر ادارے کی صدارت کے لیے اس طرح کی خاتون کا انتخاب انتہائی قابل افسوس و باعث تشویش ہے اور مستقبل میں خوفناک ثابت ہوسکتا ہے ممکن ہے کہ آیندہ چل کر محترمہ کے اقدام ملک میں نئے تنازعات کا سبب بنیں، ویسے بھی مبصرین کا کہنا ہے کہ عاصمہ جہانگیر کے انتخاب سے بار اور کورٹ کے درمیان فاصلے بڑھیں گے۔ کیونکہ محترمہ کا شمار ان لوگوں میں ہوتا ہے جو موجودہ آزاد عدلیہ کے بعض اقدام کو نہ صرف ناپسند کرتے ہیں بلکہ اکثر اوقات برملا اس کا اظہار بھی کرتے ہیں۔اسی لیے عاصمہ جہانگیر کی کامیابی کو اسلام پسندوں، آزاد عدلیہ کے حامیوں اور اپوزیشن کی ناکامی جبکہ اسلام مخالف قوتوں، حکومت اور موجودہ عدلیہ کے مخالف عناصر کی کامیابی قرار دیا جارہا ہے اور حالات کے حساب سے یہ درست بھی معلوم ہوتا ہے۔ عاصمہ جہانگیر کے انتخاب سے اسلام پسندوں، آزاد عدلیہ کے حامیوں اور مغرب مخالف قوتوں کو مستقبل میں مسائل پیش آسکتے ہیں۔ بعض مبصرین کا کہنا ہے کہ عاصمہ جہانگیر اپنے دور میں کوشش کریں گی کہ آئین اور قانون سے اسلامی شقوں اور قوانین کو ختم نہیں تو کم از کم ان پر عمل درآمد کو کسی حد تک روکا جاسکے۔ اس ضمن میں تمام محب اسلام اور پاکستان قوتوں کو چاہیے کہ وہ دینی نظریاتی سرحدوں کی حفاظت کے لیے بھر پور طریقے سے قانونی راستے پر عمل کرتے ہوئے اپنے نظریات کے دفاع کی بھر پور تیاری کریں۔ موصوفہ ایک طرف مذہب پر عمل درآمد کو انتہا پسندی قرار دیتی ہیں لیکن چند سال قبل انہوں نے جب انتہا پسند ہندو راہنما بال ٹھاکرے سے ملاقات کی تو ان کو خوش کرنے کے لیے ان کی تنظیم کے جھنڈے کے رنگوں کا لباس زیب تن فرمایا۔ ان کی یہ تصویر آج بھی انٹرنیٹ پر دستیاب ہے۔ دراصل ان کے نزدیک صرف اسلامی احکام پر عمل کرنا انتہا پسندی ہے باقی کچھ بھی نہیں ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے