‘زلزلے کے الارم کی آواز بہت دیر سے سنائی دی’

‘زلزلے کے الارم کی آواز بہت دیر سے سنائی دی’

اس شدید زلزلے کے نتیجے میں میکسیکو میں 200 سے زیادہ افراد ہلاک ہوئے جبکہ درجنوں عمارتیں منہدم ہو گئیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ مرنے والوں کی تعداد میں اضافہ ہو سکتا ہے۔

سوشل میڈیا پر پوسٹ ہونے والی کچھ ویڈیوز میں بہت سے لوگ یہ کہہ رہے ہیں کہ انھوں نے کھلی جگہ پر پہنچنے سے قبل زلزلے سے متعلق الرٹ کرنے والے الارم کی آواز سنی تھی۔

میکسیو زلزلہتصویر کے کاپی رائٹRONALDO SCHEMIDT / AFP / GETTY IMAGES

زلزلے کی شدت کو ریکارڈ کرنے والے ادارے سی آئی آر ای ایس کے ایک افسر کے مطابق ‘زلزلے کی وارننگ ریڈیو، ٹی وی اور لاؤڈ سپیکرز کے ذریعے بروقت دی گئی تھی۔’

بی بی سی نے پوچھا کہ مختتلف علاقوں میں یہ الارم جلدی یا دیر سے کیوں سنا گیا؟

اس کے جواب میں متعلقہ ادارے میں شعبہ ریسرچ کے رکن آرمینٹو کوائر مارٹینز نے بتایا کہ میکسیکو میں مختلف جگہوں پر مختلف قسم کی مٹی پائی جاتی ہے اس لیے کچھ لوگوں نے الارم کو تھوڑی دیر کے لیے سنا‘۔

میکسیکو زلزلہتصویر کے کاپی رائٹREUTERS / GINNETTE RIQUELME

روما کالونی جیسے علاقے کی مٹی نرم ہے اور دیگر علاقوں کی نسبت وہاں پہلے زلزلہ محسوس ہوا۔

آرمینٹو کوائر مارٹینز کہتے ہیں کہ ‘اگرچہ الارم کام کر رہا تھا، لیکن ان علاقوں میں رہنے والے لوگوں کو الارم سنائی دینے سے پہلے زمین کا اوپر اٹھنا محسوس ہوا جس کی وجہ لوگوں میں اچانک خوف پیدا ہوا۔ سخت زمین پر ایسا دیر سے ہوتا ہے۔’

میکسیکوتصویر کے کاپی رائٹYURI CORTEZ / AFP / GETTY IMAGES

ماہرین کا کہنا ہے کہ زلزلے کے وقت کچھ سیکنڈز زندگیاں بچانے کے لیے بہت اہم ہوتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ اس وقت الارم کے نظام پر بہت کچھ منحصر ہوتا ہے کہ لوگ خود کو تیار کر لیں۔

کوائر مارٹینز کہتے ہیں کہ آٹھ ستمبر کو زلزلہ آنے سے دو منٹ پہلے الارم سنائی دیا۔ وجہ یہ تھی کہ میکسیکو سے بہت دور زلزلہ آیا تھا لیکن اس مرتبہ آنے والے زلزلے کا مرکز فقط 170 سے 180 کلومیٹر کی دوری پر تھا۔

مختصراً یہ کہ اگر زلزلے کا مرکز کسی بھی جگہ موجود الارم سسٹم کے قریب ہے تو اسے محسوس کرنے کے لیے آپ کے پاس بھی کم وقت ہوگا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے