شادی شدہ ہونا دماغی صحت کے لیے فائدہ مند

اگر تو آپ اپنی شادی شدہ زندگی سے خوش نہیں، تو شکایات کرنا چھوڑیں، کیونکہ زندگی بھر کا یہ تعلق آپ کو دماغی طور پر ہمیشہ صحت مند رکھنے میں مددگار ثابت ہوتا ہے۔یہ دعویٰ برطانیہ میں ہونے والی ایک طبی تحقیق میں سامنے آیا۔لندن کالج یونیورسٹی کی تحقیق کے مطابق شادی کے بعد کی زندگی شوہر/ بیوی کے اندر دماغی تنزلی کے مرض ڈیمینشیا کاخطرہ کم کرتی ہے۔

آٹھ لاکھ سے زائد افراد پر ہونے والی تحقیق میں یہ بات سامنے اائی کہ تنہا زندگی گزارنا الزائمر یا ڈیمینشیا کی دیگر اقسام کا خطرہ 40 فیصد تک بڑھا دیتا ہے۔اسی طرح شریک حیات کے انتقال کا اثر بھی ذہنی صحت پر پڑتا ہے اور امراض کا خطرہ 20 فیصد تک بڑھ جاتا ہے۔تحقیق کے مطابق شادی کے متعدد طبی فوائد پہلے ہی سامنے آچکے ہیں،

مگر دماغی صحت کے حوالے سے اس کے اثرات نے دنگ کردیا ہے۔تحقیق کے مطابق یہ وجہ سامنے نہیں آسکی کہ شادی دماغی امراض سے بچانے میں کس طرح مددگار ثابت ہوتی ہے تاہم امکان ہے کہ شریک حیات کے ساتھ رہنا، طرز اور طرز زندگی کے عناصر اس خطرے کو کم کرتے ہیں۔محققین کا کہنا تھا کہ شادی کا تعلق جسم کے ساتھ ساتھ دماغ کے لیے بھی براہ راست فائدہ مند ہوتا ہے جو کہ ذہنی تناؤ کا باعث بننے والے واقعات میں پرسکون رہنے میں مدد دیتی ہے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے