سپریم کورٹ کا فیصلہ جانبدارانہ تھا

2
0
اسلام آباد: پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئرمین عمران خان اور سیکریٹری جنرل جہانگیر ترین کی نااہلی کیس پر سپریم کورٹ نے فیصلہ سناتے ہوئے عمران خان کی نا اہلی کی درخواست کو مسترد قرار دے دیا جبکہ جہانگیر ترین کو نا اہل قرار دے دیا ہے۔

سپریم کورٹ فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ عمران خان کو اپنی آف شور کمپنی نیازی سروسز لمیٹڈ کو ظاہر کرنا ضروری نہیں تھا۔

چیف جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے ایک سال سے زائد چلنے والے اس کیس کا فیصلہ سناتے ہوئے ۔

حنیف عباسی کی جانب سے دائر کی گئی پی ٹی آئی غیر ملکی فنڈنگ کیس کی استدعا سپریم کورٹ نے مسترد کرتے ہوئے کیس کو الیکشن کمیشن کو بھجوادیا اور ہدایت کی کہ الیکشن کمیشن معاملے کو باریک بینی سے جائزہ لے۔

سپریم کورٹ کے فیصلے پر سیاستدانوں کا ردعمل
مسلم لیگ (ن) کے رہنماء Fahad Arif کا سپریم کورٹ کے فیصلے پر کہنا تھا کہ مجھے یہ فیصلہ سن کر حیرت ہوئی کہ تین ججز، پانچ ججز کا فیصلہ مسترد کیسے کرسکتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ عمران خان نے اپنے گوشواروں میں اثاثے ظاہر نہیں کیے تو وہ نا اہل کیسے نہیں ہوسکتے۔

انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ نے اپنے گلے سے غیر ملکی فنڈنگ کی مصیبت اتار کر الیکشن کمیشن کے گلے میں ڈال دیا ہے اور سپریم کورٹ کا یہ فیصلہ جانبدارانہ تھا۔۔

انہوں نے مزید کہا کہ جہانگیر ترین نے تو اعترافی بیان دے چکے ہیں ان کے خلاف تو یہ فیصلہ آنا ہی تھا۔

سپریم کورٹ کے باہر تحریک انصاف کے رہنماء نے پوری قوم کو مبارک باد پیش کرتے ہوئے کہا کہ عمران خان کی کرپشن کے خلاف جہاد کو اب کوئی نہیں روک سکتا۔

ان کا کہنا تھا کہ اب عمران خان کا یہ کام منطقی انجام تک پہنچے گا۔

تحریک انصاف کے رہنما نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ جہانگیر ترین کے خلاف تین الزامات تھے میں سے دو الزامات کو مسترد کردیا گیا ہے تاہم ایک پر آرٹیکل 62 کے تحت انہیں نا اہل قرار دیا گیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ کے جہانگیر ترین کے خلاف فیصلے پر ہم دوبارہ نظر ثانی کی درخواست دائر کریں گے۔

انہوں نے کہا کہ ٹیکنیکل بنیادوں پر جہانگیر ترین کو نا اہل قرار دیا گیا ہے۔

مراد سعید کا کہنا تھا کہ پورے پاکستان میں کسی سے آپ دیانت کا سوال کرتے ہیں تو پورا پاکستان اس کی گواہی دے گا۔

انہوں نے پاکستان کے نوجوانوں کو مبارک باد پیش کرتے ہوئے کہا کہ آپ کا وزیر اعظم وہ آرہا ہے جس کا وزارت عظمیٰ کا عہدہ سنبھالنے سے پہلے ایک ایک روپے کا حساب ہوگیا ہے۔

واضح رہے کہ سپریم کورٹ نے دونوں رہنماؤں کے خلاف نااہلی کیس کا فیصلہ 14 نومبر کو محفوظ کیا تھا۔

خیال رہے کہ پاکستان مسلم لیگ (ن) کے رہنما حنیف عباسی نے پی ٹی آئی کے سربراہ عمران خان اور سیکریٹری جنرل جہانگیر ترین پر اثاثے چھپانے اور آف شور کمپنیاں رکھنے کا الزام عائد کرتے ہوئے انھیں نااہل قرار دینے کی علیحدہ علیحدہ درخواستیں سپریم کورٹ میں دائر کر رکھی ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے