سوشلستان: ’بسوں میں ذلیل ہونے سے بہتر ہے بائیک چلائیں‘

سوشلستان میں اس وقت پاکستان سُپر لیگ کا بخار چل رہا ہے اور روزانہ مختلف ٹیموں اور کھلاڑیوں کے نام ٹرینڈ کرتا رہتا ہے۔ اس کے علاوہ بنی گالا اور نواز شریف اور عمران خان کے حوالے سے ٹرینڈز آتے رہتے ہیں۔ مگر ہم آج بات کریں گے خواتین کے موٹر سائیکل چلانے پر بی بی سی اردو کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس پر آنے والی تنقید، تبصروں اور کمنٹس کا جن میں ہمارے قارئین نے اپنی رائے کا اظہار کیا۔

‘بائیک چلانے کی بجائے شادی کر لے’
بی بی سی اردو نے خواتین بائیکرز کے بارے میں خصوصی سیریز شروع کی جس میں پنجاب سے چار ایسی خواتین سے بات کی گئی جن کی زندگی میں نمایاں تبدیلی ان کے موٹر سائیکل یا بائیک چلانے سے آئی۔

اس سیریز کی رپورٹس اور ویڈیوز کو بڑی تعداد میں ہمارے قارئین نے پذیرائی بخشی اور مثبت کمنٹس سے نوازا جن میں ان خواتین کی بہادری کو سلام پیش کیا گیا اور ان کی جرات اور حوصلے کی تعریف کی گئی۔

مگر سارے کمنٹس ایسے نہیں تھے اور کچھ ایسے حضرات بھی تھے جن کے کمنٹس سے لگتا ہے شاید ان خواتین کے بائیک چلانے سے قیامت آجائے گی۔ ان میں سے درجنوں ایسے کمنٹس تھے جن میں ننگی گالیاں اور نامناسب اور اخلاق سے عاری باتیں لکھی گئی تھیں جنھیں پڑھنا اپنی ذات میں ایک صعوبت سے کم نہیں مگر یہاں کچھ ایسے کمنٹس شیئر کیے جار ہے ہیں تاکہ یہ بات واضح ہو سکے کہ چند مرد حضرات کے لیے چند بائیک چلاتی خواتین کو برداشت کرنا یا ان کو سراہنا عذاب سے کم نہیں۔

اس سے یہ بات بھی ثابت ہوتی ہے کہ ان خواتین کو ان کی اصل زندگی میں معاشرے کی جانب سے کتنا مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہو گا۔

احمد سیف نے لکھا کہ ‘غلط کام ہے، کیا اسلام اس کی اجازت دیتا ہے؟ نا محرم کو پیچھے بٹھا کر؟’ سیف الاسلام کا اشارہ بائیکر رفعت کی جانب تھا جو آن لائن ٹرانسپورٹ بکنگ کمپنی کے لیے رائیڈر کے طور پر کام کرتی ہیں۔

اسی قسم کی بات عرفان خان نے کی کہ ‘ اسلامی معاشرہ اس چیز کی اجازت نہیں دیتا کے اپ کسی نامحرم کے ساتھ عمرہ ادا کریں تو یہ سستے لبرلز یورپ میں ہی ایسی چیزیں رکھیں تو بہتر ہو گا۔’

یہ کمنٹ کافی پوسٹس میں کاپی پیسٹ کیا گیا جس سے شک ہوتا ہے کہ کسی نے منظم طور پر اس کمنٹ کو شیئر کرنے کی مہم چلا رکھی ہے۔

اظہر راجپوت بہت دور کی کوڑی لائے اور دعویٰ کیا کہ ’سعودی علماء کرام کے مطابق ایسے کنوار پن ختم ہو جاتا ہے۔‘

ارحم احمد نے اس پر طنز کرتے ہوئے لکھا کہ ’ہم عورتوں کو کوٹھا چلانے کی اجازت تو دیتے ہیں بائیک کی نہیں۔‘

راشد علی مانسہرہ سے لکھتے ہیں کہ ’پاکستان میں کسی نے عورت کو ڈرائیو کرنے سے نہیں روکا۔ سائیکل اور موٹر سائیکل بھی چلاتی ہیں بڑے شہروں میں۔ مگر اس کو خواہ مخواہ اتنا ہائی لائیٹ کرنا کہ گویا یہ آخری مسئلہ ہو۔ ایک چیز ضرورت کے مطابق استعمال ہو رہی ہے تو اسے ایک مہم کی صورت میں زبردستی نافذ کر کے کیوں متنازع بنایا جا رہا ہے؟‘

کوئٹہ سے زریاب خان کا خیل تھا کہ ان ’خواتین کو ان کے باپ بھائی تہذیب اور اخلاقیات سکھانے‘ میں ناکام رہے۔

محمد وسیم اور محمد رشید نے لکھا کہ ’اگر کوئی ذریعہ نہیں ہے تو شادی کریں یہ کوئی جواز نہیں اس طرح اپنا تعارف کروانے کا وسیم نے ٹھیک کہا کہ ریپ ہوا تو رونا نہیں۔‘

شبیر شاہ نے اس کے جواب میں لکھا کہ ’محنت مزدوری کے لیے اگر عورت گھر سے نکلے تو کوئی ریپ کیوں کرے گا؟ جنگل کا قانون ہے کیا؟ یا یہ انسانوں کا نہیں جانوروں کا ملک ہے؟‘

ایک اور لکھنے والے نے لکھا کہ ‘لاہور جیسے بے ہنگم ٹریفک میں موٹر سائیکل چلا کر کہیں یہ خاتون اپنی موت کو تو دعوت نہیں دے رہی؟ اس سے کہیں بہتر تھا کہ رفعت اپنے بچوں کو پالنے میں اور اپنی شوہر کی خدمت کرتی ۔ بجائے اس کے۔’

مگر عفت رباب کا کہنا تھا کہ ‘پبلک ٹرانسپورٹ میں دھکے کھانے اور ذلیل و بےعزت ہونے سے یہ کہیں بہتر ہے کہ پاکستانی عورتیں موٹر بائیک چلانا سیکھں اور اس پر سفر کریں۔سنا ہے پنجاب میں، خواتین باہر کے کاموں کے لیے سائیکل استعمال کرتی تھیں، نیکی کے زمانوں میں۔’

مرحا علی کو بہت سے دوسرے مرد حضرات کی طرح اس بات کے بارے میں شدید تشویش تھی کہ ‘بائیک ضرور چلائی اس میں کوئی برائی نہیں مگر خدا کے لیے اپنے دوپٹے اور قمیضوں کو سنبھال کر بیٹھیں۔’

ایک سوال کرنے والے نے اس پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھا کہ زمانہ قدیم سے ہماری مائیں بہنیں گھُڑ سواری اور اس کے بعد سائیکل سواری کرتی آ رہی ہیں مگر یہ عجیب زمانہ ہے کہ اب ان چیزوں پر مسئلہ شروع ہو رہا ہے۔ اس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ مسئلہ عورتوں کے باہر نکلنے یا سواری چلانے کا نہیں بلکہ ذہنیت اور عورت کو غلام بنا کر گھر میں بند رکھنے والی سوچ کا ہے۔’

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے