سندھ میں ہندو، سکھ کیوں بن رہے ہیں؟

گرو گرنتھ صاحب کی ڈولی کے سامنے کرشن سنگھ عقیدت کے ساتھ چمٹا بجارہے ہیں اور ساتھ میں ڈھول کی تھاپ بھی ہے جبکہ ایک درجن کے قریب افراد ‘ست نام واہگرو’ کا جاپ کر رہے ہیں۔

سیاہ دستار باندھے نظر آنے والے کرشن سنگھ، شری رام کے بھگت تھے لیکن کچھ سال پہلے ان میں تبدیلی آئی اور انھوں نے سکھ مذہب قبول کر لیا۔

کراچی کے مضافات میں واقع گاؤں کی آبادی ہندو تھی لیکن اب یہاں 40 کے قریب سکھ خاندان آباد ہیں جنہوں نے کرشن سنگھ کی طرح مذہب تبدیل کیا ہے۔ یہ آبادی زیادہ تر باگڑی قبیلے سے تعلق رکھتی ہے، جو تربوز کی فصل لگانے میں ماہر سمجھے جاتی تھے، زرعی پانی کی قلت اور اخراجات میں اضافے نے انھیں شہروں کی طرف دھکیل دیا۔

کرشن سنگھ کے چار بھائی، دو بیٹے اور دو بھتیجے سکھ مذہب اختیار کرچکے ہیں۔ بقول ان کے ‘سکھوں کو سردار کہا جاتا ہے’ اور ہندوؤں میں وہ عام آدمی ہوتے ہیں۔

’جب ہم شہر میں نکلتے ہیں پتہ نہیں کتنے لوگ لسّی کے گلاس لے کر آتے ہیں اور کہتے ہیں یہ کھاؤ سردار، یہ کھاؤ، ہمارے پاس بیٹھو اتنا پیار دیتے ہیں اس وجہ سے سکّھ بن گئے۔‘

ہندو گاؤں میں ایک وسیع گردوارہ بھی زیر تعمیر ہے جس کے لیے ملکی اور غیر ملکی سکھ جماعتیں مدد کر رہی ہیں، اس میں پانچ سو افراد کے بیٹھنے کی گنجائش ہے، جبکہ گاؤں میں دو چھوٹے مندر بھی واقع ہیں۔

درو سنگھ اس گردوارے کے نگران ہیں، ان کا کہنا ہے کہ ہندو کمیونٹی کے لوگ جتھوں کی صورت میں ننکانہ صاحب جاتے ہیں اور جب یہ لوگ وہاں اتنی بڑی تعداد میں لندن، فرانس، امریکہ اور دیگر بیرون ملک سے آنے والوں کی سنگت اور ان کا پیار دیکھتے ہیں تو سکھ مذہب میں شامل ہوجاتے ہیں۔

پاکستان، سکھ برادری
کراچی میں نصف درجن کے قریب گردوارے موجود تھے لیکن سکھوں کی اکثریت کی بھارت منتقلی کے بعد یہ ویران پڑے تھے

ہندو گوٹھ پر آس پاس کی آبادی سے پتھر پھینکے جاتے اور ایک بار حملہ کر کے مورتیوں کی بے حرمتی بھی کی گئی، لیکن اب ایسا نہیں ہوتا ہے۔

درو سنگھ اس تبدیلی کو گردوارے کی تعمیر کا اثر سمجھتے ہیں۔ گذشتہ دنوں گرو گوبند کی برسی کے موقعے پر حفاظت کے لیے چار پولیس اور دو رینجرز کی موبائل فراہم کی گئیں یہ سکیورٹی ہندو کمیونٹی کے تہواروں پر عام طور پر دستیاب نہیں ہوتی۔

کراچی وسطی شہر میں واقع آرام باغ گردوارہ 24 سال کی قانونی جنگ کے بعد دوبارہ کھول دیا گیا ہے، اس گردوارے سمیت قیام پاکستان سے قبل کراچی میں نصف درجن کے قریب گردوارے موجود تھے، لیکن سکھوں کی اکثریت کی بھارت منتقلی کے بعد یہ ویران ہوگئے یا ان پر قبضہ کر لیا گیا، لیکن اب صورتحال تبدیل ہو رہی ہے۔

بعض سکھ رہنماؤں کا خیال ہے کہ اگر قدیم گردوارے کھول دیے جائیں اور مذہبی آزادی ہو تو سکّھوں کی تعداد میں تیزی آئے گی، سردار ہیرا سنگھ ایڈووکیٹ کا دعویٰ ہے کہ گیارہ سو افراد ان کے ذریعے سکھ مذہب اپنا چکے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ ‘میں انھیں گردوارے میں بلاتا ہوں، گرو گرنتھ صاحب ترجمے کے ساتھ پڑھ کر بتاتا ہوں کہ گرو صاحب کا حکم کیا ہے، گرو کی کوئی سچی بات ان کے دماغ میں بیٹھ جاتی ہے اور وہ کہتے ہیں یہ سچ ہے۔ ایسے کرتے کرتے یہاں گیارہ سو سردار بن گئے اور یہ وہ غریب لوگ تھے جنھیں کوئی پوچھتا نہیں تھا اور ہندو بھائی گلاس میں پانی تک نہیں پلاتے تھے۔’

سندھ میں ہندو برادری کی اکثریت گرونانک کی پیروکار ہے انھیں نانک پنتھی کہا جاتا ہے، اکثر مندروں میں گروگرنتھ صاحب موجود ہوتی ہے، لیکن اب سکھ کمیونٹی الگ گردوارے بنا رہی ہے، جہاں اور کوئی پوجا نہیں ہوتی۔

سردار ہیرا سنگھ کا کہنا ہے کہ گرو نانک تو کہتے ہیں کہ بت پرستی نہیں کرنی، جب یہ گرو کی بات ہی نہیں مانتے تو پنتھ کیا۔ یہ تو ان کی تعلیمات کے برعکس کرتے ہیں پھر ہم انھیں قبول کیوں کریں گے۔

پاکستان ہندو کونسل کی رہنما منگلا شرما کے خیال میں تبدیلی مذہب کے پس پردہ سیاسی مقاصد ہیں۔ بقول ان کے 20 سے 25 سال پہلے یہاں سکھ نظر نہیں آتے تھے، قومی اسمبلی میں جو اقلیتوں کی نشستوں میں سکھوں کی نشست نہیں تھی۔

انھوں نے کہا کہ 2000 کے بعد کچھ سیاسی لوگوں نے مذہب کی تبدیلی پر توجہ دی، یہ وہ ہی ہندو کمیونٹیز تھیں جو معاشی طور پر کمزور تھیں جب وہ سکھ ہو گئیں تو اس کا سیاسی فائدہ بھی لیا گیا۔

پاکستان، سکھ برادری
سردار ہیرا سنگھ ایڈووکیٹ کا دعویٰ ہے کہ گیارہ سو افراد ان کے ذریعے سکھ مذہب اپنا چکے ہیں

‘جو ہندو پاکستان میں رہتے ہیں انھیں عالمی حمایت یا مدد حاصل نہیں انڈیا سے وہ مدد لینا نہیں چاہتے کیونکہ انڈیا سے مسئلے چلتے ہیں، اس کے برعکس عالمی سطح پر سکھوں کی قبولیت زیادہ ہے وہ معاشی طور پر مضبوط ہیں ان کی رابطہ کاری بہت اچھی ہے اور فنڈنگ اور دیگر چیزیں ہونے لگیں تو کچھ لوگوں نے مذہب تبدیل کردیا۔’

سندھ ہائی کورٹ میں دو مقدمات کی وجہ سے سکھوں کو زیادہ توجہ ملی، پہلی بار جب صوبے میں شراب پر بندش پر بعض سکھ رہنماؤں نے حمایت کی اور دوسرا جب مردم شماری میں سکھوں کا خانہ شمار نہیں کیا گیا، دونوں مقدمات میں انھیں کامیابی حاصل ہوئی۔

ریاست پاکستان کو عالمی سطح پر سکھ کمیونٹی اپنا دوست سمجھتی ہے، جس کی وجہ سے سکھ کمیونٹی کو یہاں سماجی، سیاسی اور مذہبی قبولیت زیادہ ہے۔

You May Also Like

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے