سلطان محمود غزنوی

ایک دفعہ ملاقات کے درمیان محمود بادشاہ نے حضرت ابولحسن خرقانی رحمتہ اللہ علیہ سے کہا کہ حضرت! میں نے سومنات پر حملہ کا ارادہ کیا ہے جبکہ دشمن کی تعداد بہت زیادہ ہے اس لئے مقابلہ سخت ہے مہربانی فرما کر دعا فرما دیں کہ اللہ ہمیں کامیابی عطا فرمائے جب سلطان محمود غزنوی رحمتہ اللہ علیہ نے دعا کیلئے عرض کیا تو حضرت کے پاس ایک جبہ پڑا ہوا تھا

انہوں نے وہ اٹھا کر بادشاہ کو دے دیا اور فرمایاکہ اسے اپنے ساتھ لے جائیں اور جب آپ ضرورت محسوس کریں تو آپ اس جبہ کو سامنے رکھ کر دعا مانگنا کہ اے اللہ! اگر اس جبہ والے کا تیرے ہاں کوئی مقام ہے تو اس کی برکت سے میرے اس معاملہ کو حل فرما دے اس نے کہا بہت اچھا وہ جبہ لے کر چلا گیا.

واپسی پر سلطان محمود غزنوی رحمتہ اللہ علیہ نے تیاری کر کے سومنات پر حملہ کیا اس وقت ہندو اور دوسرے مذاہب کے لوگ سب مل کر مسلمانوں کیخلاف لڑتے تھے اس لئے کفار کی تعداد بہت زیادہ تھی‘

جب اس نے دیکھا کہ مسلمانوں کے لشکر میں کمزوری آرہی ہے تو اسے یاد آیا کہ حضرت نے تو مجھے ایک جبہ دیا تھا‘ چنانچہ اس نے اس آڑے وقت میں اس جبہ کو سامنے رکھا اور اللہ تعالیٰ سے دعا مانگنے بیٹھ گیا کہ اے مالک! اگر اس جبہ والے کا تیرے ہاں کچھ مقام ہے اور وہ تیرے دوستوں میں سے ہے تو اس کی برکت سے تو مجھے سومنات کافاتح بنا دے چنانچہ جنگ کا پانسہ پلٹا اور اللہ تعالیٰ نے اسے سومنات کا فاتح بنا دیا.

سومنات کی فتح کے کافی عرصہ بعد سلطان محمود غزنوی رحمتہ اللہ علیہ نے سوچا کہ میں حضرت کے پاس جا کر ان کا شکریہ ادا کروں اور ان کو خوشخبری بھی سناؤں چنانچہ وہ حضرت کو ملنے آیا اس نے حضرت کو سارا واقعہ سنایا. حضرت نے اس سے پوچھا کہ

آپ نے جبہ سامنے رکھ کر کیا دعا مانگی؟ بادشاہ نے کہا کہ حضرت! یہ دعا مانگی تھی کہاے اللہ اس جبہ والے کا تیرے یہاں کوئی مقام ہے اور وہ تیرے دوستوں میں سے ہے تو مجھے سومنات کا فاتح بنا دے. حضرت نے سن کر فرمایا: تو نے بہت سستا سودا کر لیا‘ اگر تو یہ دعا مانگتا کہ اے اللہ! اس کی برکت سے مجھے پوری دنیا کا فاتح بنا دے تو تجھے اللہ تعالیٰ پوری دنیا کا فاتح بنا دیتے. کیونکہ اللہ تعالیٰ اللہ والے کی زبان سے نکلے ہوئے الفاظ کی لاج رکھ لیا کرتے ہیں.

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے