سفارت کاری اس وقت تک جاری رہے گی جب تک ‘پہلا بم نہیں گرتا’: ٹلرسن

امریکی وزیر خارجہ ریکس ٹلرسن نے کہا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ شمالی کوریا کے ساتھ تنازعے کو سفارت کاری کے ذریعے حل کرنا چاہتے ہیں۔

انھوں نے ٹی وی چینل سی این این کو بتایا کہ سفارت کاری اس وقت تک جاری رہے گی جب تک کہ ‘پہلا بم نہیں گرتا۔’

انھوں نے کہا کہ پابندیوں اور سفارت کاری نے شمالی کوریا کے جوہری پروگرام کے خلاف پہلی بار بین الاقوامی سطح پر اس قدر اتفاق رائے پیدا کی ہے۔

گذشتہ ماہ صدر ٹرمپ نے ریکس ٹلرسن سے کہا تھا کہ شمالی کوریائی رہنما کم جونگ ان کے ساتھ بات چیت کی چاہ میں زیادہ وقت ضائع نہ کریں۔

وزیر خارجہ کا بیان اس وقت آيا ہے جب کوریائی جزیرہ نما کے گرد پانیوں میں امریکہ جنوبی کوریا کے ساتھ مشترکہ فوجی مشق کا آغاز کر رہا ہے جس میں جنگی طیارے، طیارہ شکن ہتھیار اور طیارہ بردار جہاز شامل ہوں گے۔

اس قسم کی جنگی مشق پر شمالی کوریا اشتعال کا اظہار کرتا رہا ہے اور ماضی میں پیانگ یانگ نے اسے ‘جنگ کی مشق’ سے تعبیر کرتے ہوئے اس کی مذمت کی ہے۔

ٹیلرسنتصویر کے کاپی رائٹREUTERS
Image captionوزیر خارجہ ٹلرسن کا کہنا ہے کہ صدر ٹرمپ شمالی کوریا کے تنازعے کو سفارتکاری سے حل کرنے کے حق میں ہیں

اتوار کے دیے جانے والے اپنے انٹرویو میں ریکس ٹلرسن نے ایک بار پھر اس بات پر کچھ کہنے سے انکار کیا کہ آیا انھوں نے جولائی میں پینٹاگون میں ہونے والی میٹنگ میں صدر ٹرمپ کو ‘کم عقل’ کہا تھا۔

انھوں نے جواب دیا: ‘ہم اس چھوٹی بات پر کچھ نہیں کہیں گے‘۔ اس کے ساتھ انھوں نے یہ بھی کہا کہ وہ اس سوال کا جواب دے کر سوال کی اہمیت میں اضافہ نہیں کرنا چاہتے ۔

اس کے جواب میں امریکی صدر نے وزیر خارجہ کو آئی کیو ٹیسٹ کے لیے چیلنج کیا تھا لیکن بعد میں ایک ترجمان نے اسے مذاق قرار دیا تھا۔

حالیہ مہینوں کے دوران شمالی کوریا نے بین الاقوامی آرا کو نظر انداز کرتے ہوئے چھ جوہری تجربات کیے ہیں اور دو میزائل جاپان کی سرزمین کے اوپر سے داغے ہیں

تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ رازداری برتنے والا کمیونسٹ ملک اقوام متحدہ کی پابندیوں کے باوجود واضح طور پر جوہری ہتھیار لے جانے والے میزائل تیار کر رہا ہے جو کہ امریکہ کے لیے خطرہ ہو سکتا ہے۔

گذشتہ ماہ کے آخر میں ریکس ٹلرسن نے بتایا تھا کہ امریکہ شمالی کوریا کے ساتھ براہِ راست رابطے میں رہا ہے اور مذاکرات کے امکان پر غور کر رہا ہے

کئی ماہ کی بیان بازیوں کے بعد دونوں ممالک کے درمیان بات چیت کا راستہ بعض لوگوں کے لیے حیرت کا باعث تھا۔

تاہم امریکی وزیرِ خارجہ کے اس بیان کے اگلے ہی دن صدر ٹرمپ نے ٹویٹ کے ذریعے کہا تھا کہ: ‘اپنی قوت بچا کر رکھیں ریکس، جو ہمیں کرنا چاہیے ہم وہی کریں گے ۔’

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے