سعودی عرب ہندو خواتین کے لیے ’سنہری جیل‘

سعودیتصویر کے کاپی رائٹAFP

’میں انڈیا میں ڈرائیونگ کرتی تھی، لیکن گذشتہ 22 برسوں میں سعودی عرب میں ڈرائیونگ نہیں کی، میں خوش ہوں کہ اب میں کہیں بھی جا سکتی ہوں۔ روزانہ کی زندگی آسان ہو گی۔‘

سعودی عرب میں رہنے والی آستھا (فرضی نام) نے چہکتی آواز میں اپنی خوشی بیان کی۔ سعودی شاہ سلمان کے جانب سے خواتین کی ڈرائیونگ پر پابندی ختم کرنے کے فیصلے پر نہ صرف عرب خواتین کی بلکہ ہندوستان کی آستھا بھی خوش ہیں۔

وہ اب اس دن کا انتظار کر رہی ہے جب ان کا ہاتھ سٹیئرنگ پر اور دونوں پاؤں کلچ اور بریک ہوں گے۔ انڈین ریاست پنجاب میں جنم لینے والی آستھا 22 سال پہلے اپنے شوہر کے ساتھ سعودی عرب آئی تھیں۔ وہ اب سکول میں بچوں کی کونسلنگ کرتی ہیں۔

مردوں پر انحصار

آستھا نے بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ‘ہر ضرورت کے لیے مردوں پر انحصار کرنا پڑتا ہے، ابتدا میں بہت ساری مشکلات تھیں، گھر کے اندر بند ہونا پڑتا تھا، ہر کام کے لیے شوہر کا انتظار کرنا پڑتا ہے لیکن اب آہستہ آہستہ یہ عادت بن گئی ہے۔’

بنگلور کی پرینکا (فرضی نام)، جو آستھا کے ساتھ اسی سکول میں پڑھاتی ہیں، اس فیصلے سے بہت خوش ہیں، وہ بھی ڈرائیورنگ کے لائسنس حاصل کرنے کی منتظر ہیں۔

پرینکا نے بی بی سی کو بتایا: ‘انڈیا میں، آپ کہیں بھی آسانی سے باہر آ جا سکتے ہیں، یہاں یہ معاملہ نہیں ہے، خواتین کو ایسی آزادی نہیں ہے، کہیں جانے کے لیے مقامی پرمٹ کے ساتھ جانے کی ضرورت ہوتی ہے اور شناختی کارڈ ہمیشہ رکھنا پڑتا ہے۔’

عبایاتصویر کے کاپی رائٹGETTY IMAGES

ہندو خواتین بھی عبایا پہنتی ہیں

پرینکا 15 سال سے سعودی عرب میں رہ رہی ہیں اور انھیں یقین ہے کہ ڈرائیونگ کی اجازت ملنے سے خواتین کی زندگی بہت آسان ہو جائے گی۔

نہ صرف ڈرائیونگ، سعودی عرب میں خواتین پر بہت سی پابندیاں ہیں، جو مقامی خواتین اور دوسرے ممالک کی عورتیں بھی پر لاگو ہیں۔

یہاں خواتین کے لیے یہ ضروری ہے کہ وہ عبایا پہنیں خواہ وہ ہندو خواتین ہی کیوں نہ ہوں۔

آستھا کا کہنا ہے کہ ‘وہ جب سے وہاں گئی ہیں برقعے کا استعمال کر رہی ہیں۔ جب انڈیا چھوڑ کر آئی تو مجھے بالکل اچھا نہیں لگا۔ یہاں آپ کو برقع پہننا ہوتا ہے۔ یہاں خواتین سڑکوں پر بہت کم نظر آتی ہیں اور جو نظر آتی ہیں وہ برقعے میں ہوتی ہیں۔’

سعودی فیشن

آستھا مزید کہتی ہیں کہ ‘لیکن بہت آہستہ آہستہ تبدیلیاں آ رہی ہیں، اب ہم سر کھول کر تھوڑا گھوم سکتے ہیں اور بہترین تبدیلی کو دیکھ سکتے ہیں، یہاں ڈیزائنرز کے رنگ برنگے نقاب دستیاب ہیں، مہنگے مہنگے، کچھ نقاب تو گاؤن جیسے خوبصورت ہوتے ہیں۔’

انھوں نے کہا کہ ’کچھ برقعے عام طور پر بازار جانے کے لیے رکھتے ہیں اور کچھ خاص تقریبات یا پارٹیوں کے لیے۔’

شروع شروع میں پرینکا کے لیے نقاب کرنا کسی جھٹکے سے کم نہیں تھا لیکن اب انھیں اس کی عادت ہوگئی ہے۔ وہ انڈیا کے فیشن کو بہت یاد کرتی ہیں۔

آستھا کہتی ہیں کہ ‘یہاں پارلر بھی ہے، آپ اچھے کپڑے خرید سکتے ہیں، لیکن آپ سب کو پہننے کے بعد برقع پہننا ہوتا ہے لیکن خواتین کی پارٹی، جہاں کوئی مرد نہ ہوں، آپ فلمی ہیروئین جیسے لباس پہن سکتے ہیں۔’

عبایاتصویر کے کاپی رائٹGETTY IMAGES

پیسے تو ہیں لیکن آزادی؟

بھارتی خواتین تہوار کے دوران ہندوستانی لباس پہنتی ہیں لیکن تقریب میں نقاب پہن کر جانا پڑتا ہے۔ اندر داخل ہونے کے بعد برقع اتار دیا جاتا ہے۔

ایک اور انڈین خاتون نے سعودی عرب کو سنہری جیل کے طور پر بیان کیا ہے۔ وہ کہتی ہیں کہ یہاں بہت سارے پیسے ہیں لیکن جو بھی آپ چاہتے ہیں وہ گھر کی دہلیز کے اندر مکمل کرنا ہوتا ہے۔’

وہ کہتی ہیں: ‘یہاں ہم گھر کے دروازے یا کھڑکیاں نہیں کھولتے ہیں۔ ہم سارا وقت اے سی کمروں میں رہتے ہیں۔ یہاں گھروں کی دیواریں بلند ہیں، تاکہ باہر سے لوگ نہ دیکھ سکیں۔’

انھوں نے بتایا:’ہر چھوٹی ضرورت کے لیے شوہر کو فون کرنا پڑتا ہے، وہ دفتر چھوڑتا ہے، شوہر کے بغیر کوئی ہنگامی حالت میں بھی نہیں نکل سکتا، اس لیے ہم لوگ ایسی جگہ گھر لیتے ہیں جہاں انڈین شہری رہتے ہیں اور دفتر سے فاصلہ کم ہو۔’

مقامی لوگوں کے ساتھ تعلقات

سعودی عرب میں مقامی لوگ عربی میں بات کرتے ہیں، جو ہندوؤں کے لیے مشکلات پیدا کرتی ہے۔ اس کی وجہ سے، وہ مقامی لوگوں کے ساتھ کسی قسم کا تعلق نہیں رکھ سکتے۔

پرینکا کا کہنا ہے کہ ‘ہم انڈین کمیونٹی کے لوگوں سے تعلقات رکھتے ہیں، اب تک مقامی لوگ دوست نہیں بن سکے۔‘

آستھا کے مطابق مقامی خواتین انگریزی نہیں سمجھتیں، لہٰذا وہاں پریشانی ہے۔ بات چیت کرنے کے لیے یا ہمیں عربی سیکھنا ہو گی یا انھیں انگریزی ۔’

گاڑیتصویر کے کاپی رائٹGETTY IMAGES

پابندیاں ضرور ہیں لیکن …

آستھا نے کہا کہ ‘جب سے میں یہاں آئی تھی تو خواتین ورکرز کو بہت کم دیکھا لیکن اب خواتین مال، ہسپتالوں سمیت ہر جگہ کام کر رہی ہیں۔ یہ اچھا لگتا ہے۔’

آستھا کا کہنا ہے کہ سعودی عرب میں پابندیاں ضرور ہیں لیکن کوئی کسی خاتون کو غلط نگاہ سے نہیں دیکھتا۔ یہاں خواتین محفوظ ہیں۔ کام کے مقام پر کسی بھی شخص سے کبھی بھی قابل اعتراض پیغامات وصول نہیں ہوتے۔.مجھے یہ بات بہت پسند ہے۔’

سعودی عرب میں رہنے والی انڈین خواتین تبدیلی کے اس ماحول سے بہت خوش ہیں۔ وہ امید رکھتی ہیں کہ سعودی عرب کے شاہ سلمان خواتین کی آزادی اور ان کے حق میں بہت سے فیصلے کریں گے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے