سعودی عرب میں ’اشتعال انگیز‘ ویڈیو نشر کرنے کے الزام میں 22 گرفتار

سعودی عرب کے سرکاری خبررساں ادارے ایس پی اے نے سکیورٹی حکام کے حوالے سے خبر دی ہے کہ سوشل میڈیا پر ‘اشتعال انگیز’ مواد پر مبنی ویڈیو مواد نشر کرنے کے الزام میں 22 افراد کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔

سعودی پریس ایجنسی نے ایک بیان میں کہا ہے کہ انفارمیشن کرائم لا کے حکام نے سوشل نیٹ ورکس پر ایسے ویڈیو مواد کی نگرانی کی جس کے ذریعے لوگوں کو امنِ عامہ میں خلل ڈالنے پر اکسایا جا رہا تھا، یا ایسے معاملات کے بارے میں لوگوں کے جذبات ابھارے جا رہے تھے جو ابھی زیرِ غور ہیں یا جو لوگوں کی ضروریات کے منافی ہیں۔

ادارے نے کہا ہے کہ گرفتار شدہ افراد میں سے ایک قطری ہے جب کہ بقیہ افراد کا تعلق سعودی عرب سے ہے۔

بیان کے مطابق یہ گرفتاریاں اس مواد کو بالواسطہ یا بلاواسطہ غیرقانونی مقاصد کے لیے استعمال کیے جانے کو روکنے کے لیے عمل میں لائی گئی ہیں، اور ان لوگوں کے محرکات اور ویڈیوز سے ان کے تعلق کے بارے میں تفتیش جاری ہے۔

بیان میں قومی سلامتی کے ادارے کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ ایسے اقدامات برداشت نہیں کیے جائیں گے، اور ان سے سختی سے نمٹا جائے گا۔

سعودی عرب میں سوشل میڈیا اور انٹرنیٹ پر کئی طرح کی پابندیاں عائد ہیں۔ حکومت نے گذشتہ ماہ خواتین کو ڈرائیونگ کی اجازت دینے کے فیصلے کے بعد سے کئی قدامت پسند علما کو اس فیصلے کی مخالفت کے الزام کے تحت حراست میں لے لیا تھا۔

You May Also Like

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے