سعودی عرب میں’زندگی کی ناقابلِ فراموش راتوں میں سے ایک‘، لبنانی گلوکارہ

جب لبنانی گلوکارہ حبا تواجی نے سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض کے کنگ فہد ثقافتی مرکز پر اپنی پرفارمنس شروع کی تو صرف خواتین پر مبنی شائقین کی جانب سے ان کی زبردست پذیرائی ہوئی۔

اس کنسرٹ سے یہ ظاہر ہوا کہ سعودی عرب اپنے معاشرے میں خواتین پر لگی پابندیاں آہستہ آہستہ اٹھا رہا ہے۔

سعودی عرب میں حالیہ عرصے میں ملک میں تفریح کے مواقعے فراہم کرنے کے لیے مختلف بین الاقوامی فنکاروں کے کنسرٹس منعقد کیے گئے ہیں اور حبا تواجی کا کنسرٹ بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔

سعودی عرب میں سماجی تبدیلیوں کے بارے میں جاننے کے لیے مزید پڑھیے
سعودی عرب میں’ ہزاروں خواتین ڈرائیور بھرتی ہو سکیں

سعودی عرب کے دارالحکومت سے تقریباً ایک ہزار کلومیٹر دور جنوبی صوبے جزان سے تعلق رکھنے والی یونیورسٹی کی طالبہ نفیس اواد نے کہا کہ ‘میں جزان سے خاص طور پر یہ کنسرٹ دیکھنے آئی ہوں۔’

نفیس نے کہا: ‘ہم لوگ بے حد خوش ہیں اس کنسرٹ کے ہونے سے، یہ پہلی بار ایسا ہو رہا ہے۔’

گلوکارہ حبا تواجی نے بھی کنسرٹ کے بعد ٹویٹ کی کہ ’یہ میری زندگی کی ناقابلِ فراموش راتوں میں سے ایک ہے اور یہ احساس دلاتا ہے کہ میں کیوں گانا گاتی ہوں اور کیوں موسیقی لوگوں کے لیے ایک پیغام ہے۔‘

سعودی عرب میں ہونے والے اس کنسرٹ سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ ملک کے سماجی راویات میں تبدیلی آ رہی ہے اور خواتین پر لاگو سختیاں آہستہ آہستہ کم ہو رہی ہیں۔

ملک کے نظام کے تحت خاندان کے مرد جو کہ عمومی طور پر باپ، بھائی یا شوہر ہی صرف خواتین کو اجازت دے سکتے ہیں اگر وہ پڑھائی کرنا چاہیں یا سفر کرنا چاہیں یا کوئی اور کام کرنا شروع کریں۔

لیکن سعودی عرب میں آنے والی تبدیلیوں کے بعد خواتین کو اگلے سال جون تک گاڑی چلانے کی اجازت مل جائے گی اور اگلے سال سے ہی خواتین کو کھیلوں کے میدان میں جانے کی بھی اجازت مل جائے گی۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی سے بات کرتے ہوئے طالبہ سلمیٰ نے کہا کہ ‘یہ اچھی بات ہے کہ عورتوں کی موجودگی کا اعتراف کیا جا رہا ہ
حالیہ مہینوں میں سعودی عرب میں مختلف کنسرٹس منعقد ہوئے ہیں
یاد رہے کہ حالیہ مہینوں میں سعودی عرب میں مختلف کنسرٹس منعقد ہوئے ہیں اور ساتھ ایک مشہور ثقافتی میلہ ‘کامک کون’ کا بھی انعقاد ہوا ہے۔

اس کے علاوہ ملک کا قومی دن منانے کی تقریب کو مخلوط رکھا گیا تھا جس میں پہلی دفعہ سعودی عرب کی سڑکوں پر لوگوں نے الیکٹرانک طرز کی موسیقی پر سڑکوں پر رقص کیا تھا۔

پچھلے ہفتے معروف یونانی موسیقار یانی نے بھی ریاض میں اپنے فن کا مظاہرہ کیا تھا جہاں تقریب میں مخلوط ماحول تھا اور گانے گانے والوں میں خواتین بھی شامل تھیں۔

یہ سماجی تبدیلیاں ملک کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کے ‘ویژن 2030’ کا حصہ ہیں جس کا مقصد ملک کی معیشت کا انحصار تیل سے ہٹا کر دوسری چیزوں پر کرنا ہے۔

سعودی عوام ہر سال اربوں ڈالر خرچ کر کے اپنے قریبی ممالک بحرین اور دبئی جاتے ہیں تاکہ وہاں وہ تفریح مواقعوں سے فائدہ اٹھا سکیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے