سزائے موت کی کال کوٹھری تهی ۔۔خوفناک سناٹا تها

سزائے موت کی کال کوٹھری تهی ۔۔خوفناک سناٹا تها

جیل کی سزائے موت کی کال کوٹھری تهی ۔۔خوفناک سناٹا تها ۔۔ زیرو واٹ کا بلب گهپ اندھیرے کو تھوڑا سا روشن بنا رها تها ۔۔پانچ مربع فٹ کا چهوٹا سا کمرہ اسے قبر سے بهی زیادہ تنگ لگ رہا تھا ۔۔”باہر شاید بارش ہورہی ہے” اس کے پتھرائے ہوئے دماغ میں خیال گزرا ۔۔کیونکہ بادلوں کی ہلکی ہلکی گرج خوفناک سناٹے کو چیر رہی تھی

۔لیکن وہ ان بادلوں کی چمک ۔۔ بارش کی ہلکی پھوار اور ٹھنڈی ہوا کے تازہ جھونکوں سے محروم تها ۔۔آج اسے محسوس ہوا کہ بارش کتنی بڑی نعمت ہے ۔۔کال کوٹھری کا کھانا بهی تو آج رات نہ آسکا ۔۔”کهانا نہیں ملے گا آج ۔۔ پتہ نہیں کیا ہوا ۔۔؟ شاید بارش کی وجہ سے گاڑی دیر سے پہنچے گی ۔۔”جیل کے سنتری نے فولادی دروازے کی چهوٹی سی کھڑکی کهول کر اسے بتایا اور کھڑکی بند کر دی ۔۔اسکو کهانا نہ ملنے کا کوئی غم نہیں تها ۔۔ لیکن پانچ دن بعد ایک انسانی آواز جو اس سے مخاطب تهی اسکے سننے کی خوشی تهی ۔۔ کیونکہ وارڈن بغیر کچھ بولے کھانا آہنی دروازے کے نیچے سے سرکا دیتا تها ۔۔”بهائی میری بات تو سنو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔” وہ تڑپ اٹھا “میرے سے دو باتیں تو کر لو ۔۔۔۔۔۔۔”لیکن کال کوٹھری کا سنتری کب کا جا چکا تھا۔۔پهر سے بس ۔۔۔۔۔۔ ایک وہ تها اور کوٹھڑی کی کالی قبرتھی۔آنسوؤں کی لڑی نجانے کب سے بہہ رہی تھی اور رکنے کا نام نہ لیتی تهی ۔۔”یا اللہ ۔۔ میں سزائے موت کا مجرم کیسے۔۔۔؟” اپنے رب سے اسکا بس ایک ہی سوال تها ۔۔”میں نے تو تیرے بندوں پر کبهی ظلم نہیں کیا تها ۔۔ چونسٹھ سال کا کمزور آدمی بھلا کیسے اور کس کا قاتل ہوسکتا ہے ۔۔؟ اے رب ذوالجلال تو جانتا ہے میں بے قصور ہوں ۔۔۔ بے گناہ ہوں ۔۔۔”اپنے رب سے باتیں کرتے نجانے کب وہ نیند کی وادیوں میں کهو گیا ۔۔خواب بهی تو اسکو ڈراونے آرہے تهے ۔۔کبهی اپنے آپ کو تختہ دار پر جھولتے دیکھتا اور کبهی جلاد کو اپنا چہرہ ڈھانپتے دیکهتا ۔۔خواب میں کیا دیکها کہ ہندوستان کی تقسیم ہو رہی ہے ۔۔۔ ہندوؤں کے قافلے بھارت جا رہے ہیں اور مسلمان پاکستان کو آ رہے ہیں ۔۔کشت و خون کی لڑائی جاری ہے ۔۔۔ لیکن اسے کوئی پرواہ نہیں ۔۔کڑیل جوان اور مضبوط جسم کا مالک روزانہ گهر سے نکل پڑتا ہے اور دیکهتا ہے کہ ہندوؤں کی چهوڑی ہوئی کسی چیز کو اچک لے ۔۔ اچانک اس کی سماعتوں سے ایک آواز ٹکراتی ہے۔“یہ تیری کمائی کے دن تهے ۔۔۔ تُوچور جو ٹھہرا اپنے علاقے کا ۔۔۔”وہ ہڑبڑا کر اٹھ بیٹھا ۔۔ یوں محسوس ہورها تها جیسے آواز بہت قریب سے آئی ہے ۔۔تقسیم ہند کے وقت وہ واقعی ایک چور تها ۔۔ لیکن بعد میں چوری سے تائب ہو کر کام شروع کردیا تھا ۔۔ اس کے ذہن میں خواب والی بات کے ساتھ ہی پرانے وقت کی یادیں گردش کرنے لگیں ۔۔ اسے وہ دن یاد آیا جب ایک ہندو قافلہ اپنی بهینس کو ایک درخت سے باندھ کر چھوڑ گیا تها ۔۔کیونکہ بهینس درد زہ کی وجہ سے بہت آہستہ چل رہی تهی اور قافلے والوں کو جان کا خطرہ تھا ۔۔ اس لئے بھینس کو درخت سے باندھ کر چھوڑ گئے ۔۔جب وہ اس درخت تک پہنچا تو بهینس کا بچہ پیدا ہوچکا تها اور چند ہی گھنٹوں کا تها ۔۔اس نے درخت سے بھینس کی رسی کھولی اور منڈی کی طرف چل پڑا ۔۔ بچہ بهی ماں کے ساتھ ساتھ ہو لیا ۔۔اس نے دیکها کہ بهینس بچے کی وجہ سے آہستہ آہستہ چل رہی ہے ۔۔ اور مڑ مڑ کر اس کے ساتھ ملنے کا انتظار کرتی ہے ۔اسے بهینس بیچنے کی جلدی تھی اور بچہ اس میں رکاوٹ تها ۔۔ اس نے بندوق نکالی اور بهینس کے بچے پر فائر کر دیا ۔۔ بچھڑا وہیں ماں کے سامنے ہی تڑپ تڑپ کر مر گیا ۔۔بهینس نے آسمان کی جانب سر اٹھایا ۔۔۔ اور پهر جهکا دیا ۔۔ اُس نے منڈی جا کر بهینس کو بیچ دیا اور اس رقم سے ایک زرعی زمین لے لی ۔۔کهیتی باڑی سے اس کے دن پهر گئے ۔۔ پھر شادی ہوگئی بچے ہو گئے ۔۔ وقت بہت اچها گزر رہا تها کہ اچانک گاؤں کا ایک بااثر آدمی قتل ہو گیا اور الزام اس پر آ گیا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ !کال کوٹھڑی کا فولادی دروازہ دلخراش چرچراہٹ کے ساتھ کهلا ۔۔اس کی سوچوں کا تسلسل یکایک ٹوٹ گیا ۔۔جیل سپرنٹنڈنٹ اس کی کوٹھڑی میں داخل ہوا ۔۔”میاں تاج دین ولد میاں رحمت دین ۔۔ کل تمہیں فجر کے بعد سورج طلوع ہونے سے پہلے پھانسی دے دی جائے گی ۔۔ اپنی آخری خواہش بتا دو ۔۔ آخری کھانا کیا کھانا چاہتے ہو وہ بهی بتا دو ۔۔ کل تہجد کے وقت وارڈن تمہیں گرم پانی کی بالٹی دے گا ۔۔ آخری غسل کر لینا اور وارڈن کو اپنے وارثوں کے نام بھی لکهوا دینا۔تاج دین ہکا بکا رہ گیا ۔۔ قدرت کے انتقام کی گهڑی آن پہنچی تهی ۔۔ اور اسے اس کے شکوے کا جواب بهی مل چکا تھا ۔۔کس طرح اس نے ایک کمزور بے کس کی جان لی تهی ۔۔ اور اسکی دکهی مظلوم ماں کے دل سے نکلنے والی “آہ” آج اسے تختہ دار پر لے آئی تھی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ پهر وہی خوفناک سناٹا تھا اور پانچ فٹ کی کالی قبر ۔۔۔۔۔۔۔ !بے شک قدرت اپنا حساب پورا ضرور کرتی ہے ۔۔اس کے ہاں دیر ہے ۔۔۔۔ اندھیر نہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کیونکہ یہ دُنیا مکافاتِ عمل ہے ۔۔

You May Also Like

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے