سر جی: یہ شخص قبرستان سے آدھے گھنٹے کی چھٹی لے کر ووٹ ڈالنے آیا ہے

لاہور) پاکستان کی انتخابی تاریخ میں سب سے بڑا فراڈ مشرف کا ریفرینڈم تھا – یہ ریفرینڈم 30 اپریل 2002 کو منعقد ھؤا – بیلٹ پیپر پر ایک ھی سوال درج تھا کہ کیا آپ جنرل مشرف کو آئندہ پانچ سال کے لیے پاکستان کا صدر منتخب کرناچاھتے ھیں – چار کروڑ لوگوں نے اس سوال کا جواب “ھاں“ میں دیانامور اور بزرگ شخصیت پروفیسر منور علی ملک اپنے ایک خصوصی تبصرے میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔(سب فراڈ، ایک ایک آدمی سے دس دس مرتبہ ووٹ ڈلوایا گیا) – پھر بھی تقریبا 8 لاکھ لوگوں نے مشرف کے خلاف ووٹ دیا —- سرکاری اعلان کے مطابق 97.97 فی صد لوگوں نے مشرف کے حق میں ووٹ دیا – میں اس ڈرامے میں بلوخیل (میانوالی ) پولنگ سٹیشن کا پریزائیڈنگ آفیسر تھا – بہت کم لوگ پولنگ سٹیشن پر آئے ، مگر سرکار کے پولنگ ایجنٹس نے موجود لوگوں سے بار بار ووٹ ڈلوا کر اور خود بھی بار بار ووٹ ڈال کر سرکاری ٹوٹل پورا کر دیا – یوں بھی ھؤا کہ ایک آدمی ووٹ دینے آیا تو میرے ایک اسسٹنٹ نے کہا “ جس آدمی کے نام کی پرچی یہ مانگ رھا ھے وہ تو کب کا مرگیا – میں ذاتی طور پر اس کو جانتا ھوں “بزرگ پولنگ ایجنٹ حاجی محمد اسلم خان نے ھنس کر کہا “ لا لا ، ادھے گھنٹے دی چھٹی گھن کے آیا اے ، ووٹ ڈے کے قبرستان ول ویسی “ – یہ سن کر اسسٹنٹ نے ھنس کر اس آدمی کو بیلٹ پیپر جاری کردیا- پانچ بجے کے قریب ایک مقامی ایم پی اے صاحب نے آکر اعلان کیا کہ پولنگ کا وقت رات آٹھ بجے تک بڑھا دیا گیا ھے – میرے سر میں شدید درد تھا ، میں نے کام اپنے اسسٹنٹ کے سپرد کیا اور کہا “ میں جا رھا ھوں ، سرکار کا کوئی آدمی پوچھے تو کہنا پریزائیڈنگ آفیسر یہ کہہ کر گیا ھے کہ جو بم مجھ پہ گرانا ھے ، گرا دو-

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے