سابق وزیراعظم برس پڑے

سلام آباد(ویب ڈیسک) سابق وزیر اعظم نواز شریف نے کہا ہے کہ احتجاج سب کا حق ہے سب کے یکساں حقوق ہیں کسی کی زبان بند نہیں کرسکتے۔سابق وزیر اعظم نواز شریف نے کمرہ عدالت میں میڈیا سے غیر رسمی گفتگو کرتے ہوئے کہا زباں بندی، ٹی وی بندی اور اخبار بندی بند ہونی چاہیے، ایسے فیصلے اب صرف پاکستان میں آتے ہیں، میں آئین، قانون اور

ووٹ کو عزت دینے کی بات کرتا رہا، میں 22 کروڑ عوام کے حق کی بات کرتا رہا، آپ کس طرح عوام کے حق کو مجروح کر سکتے ہیں؟سابق وزیر اعظم نے کہا یہ ملک سب کا ہے اور سب کے یکساں حقوق ہیں، احتجاج سب کا حق ہے کسی کی زبان بند نہیں کر سکتے، یہ ملک پہلے ہی انتشار کا شکار ہے، صورتحال کا کوئی حل نکالنا چاہیے، احتجاج کرنا بنیادی حق ہے، مہذب معاشرے میں اسے روکنا بالکل جائز نہیں۔سابق وزیراعظم نوازشریف کا کہنا ہے قانونی حدود میں رہتے ہوئے احتجاج سب کا حق ہے ، جو بھی انسانی حقوق اور ظلم کے خلاف بات کر رہا ہے ہم اس کے ساتھ متفق ہیں۔نواز شریف نے کہا ہم نے ملک کے لئے درگزر کیا، چاہتے ہیں سب ملکر چلیں اور ابھی بھی سبق سیکھیں ، کسی سے ڈکٹیشن نہیں لیں گے۔ سابق وزیراعظم نے کہا ایٹمی دھماکوں کا فیصلہ سویلین حکومت کا تھا ، چائنیز پاکستان کی محبت میں آئے ہیں لیکن انہیں یہاں کے حالات پر تحفظات ہیں۔مریم نواز نے ٹویٹ میں کہا کہ نوازشریف کی تاریخی تقریر کو 25 سال مکمل ہوگئے ، اْس تقریر نے سیاسی تاریخ اور رویے بدل دیئے۔ صحافیوں سے غیر رسمی گفتگو میں مریم نواز کا کہنا تھا مسلم لیگ ن کا

ووٹ بنک اپنا ہے کسی فصلی بٹیرے کا نہیں، ایسا نہیں کہ جو پارٹی چھوڑ کر جائے وہ ووٹ بنک بھی ساتھ لیکر جائے۔واضح رہے کہ گزشتہ روز لاہور ہائیکورٹ نے نواز شریف، مریم نواز اور وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی سمیت 16ارکان اسمبلی کی عدلیہ مخالف تقاریر نشر کرنے پر 15 روز کیلئے عبوری پابندی عائد کردی ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے