زیادہ بیویاں، زیادہ بیماریاں

‘زیادہ بیویاں، زیادہ بیماریاں’

زیادہ بیویاں، زیادہ بیماریاں. انسان کا دل چنچل ہوتا ہے۔ کبھی کسی پر آیا اور کبھی کسی دوسرے پر۔ بہت سے معاشروں میں ایک شادی کو تسلیم کیا جاتا ہے۔ لیکن بہتیرے مردوں اور عورتوں کی یہ خواہش رہتی ہے کہ وہ زندگی میں مختلف قسم کے تجربات سے لطف اندوز ہوں۔ یعنی مختلف رشتے بنائیں اور وقت گزاریں۔

بہت سے مذاہب اور دنیا کے بہت سے حصوں میں ایک سے زائد شادی کرنے کا رواج بھی ہے۔ تاہم، کئی مذاہب صرف ایک ہی شریک حیات پر زور دیتے ہیں۔ آج بھی ایک سے زائد شادیاں عام ہیں۔ امریکہ میں بھی دو چھوٹے شہر ہیں، جہاں لوگ کئی شادیوں کی پرانی روایت پر عمل پیرا ہیں۔ ان میں سے ایک یوٹا کک پروو شہر ہے جبکہ دوسرا شارٹ کریک قصبہ ہے۔ اور دونوں ایک دوسرے کے آس پاس آباد ہیں۔

مخصوص جینیاتی بیماریاں

یوٹا کے پروو شہر کے رہائشی ایک عجیب قسم کی بیماری کا شکار ہیں۔ یہاں عیسائیوں کا ایک ایسا فرقہ آباد ہے جو اس مذہب کی اولین ترین روایتوں پر عمل پیرا ہے۔

19ویں صدی میں یہاں کے لوگ پر چرچ آف جیزس کرائسٹ لیٹر ڈے سینٹس یعنی ایل ڈی ایس پر ایمان رکھتے تھے۔ یہ چرچ یہاں کے لوگوں کو کئی شادیوں کا حکم دیتا تھا۔ اس چرچ کے نگران برنگھم ینگ کی 55 بیویوں اور 59 بچے تھے۔ بہر حال بعد میں اس عمل پر پابندی لگا دی گئی۔ لیکن جب تک اس کی اجازت تھی لوگ اپنی خواہش کے حساب سے شادیاں کرتے رہے۔

19ویں صدی میں یہاں کے باشندوں کی ایک ساتھ کی جانے والی کئی شادیوں کا نتیجہ اب اس شہر میں نظر آرہا ہے۔ یہاں کے لوگ ایک خاص قسم کے جینیاتی مرض کا شکار ہوتے جا رہے ہیں۔ یہاں بچے جسمانی اور ذہنی طور پر معذور ہیں۔ عام طور پر یہ بیماری 40 لاکھ افراد میں سے ایک میں ہوتی ہے۔ لیکن پروو شہر میں یہ بیماری 20 ماہ سے تقریبا دو سال کی عمر کے تمام بچوں میں تھی۔ اسے فیومرز ڈیفیشیئنسی کہا جاتا ہے۔

چہرہ عجیب سا

یہ جینیاتی بیماری ہے یعنی ایک نسل سے دوسری نسل میں منتقل ہوتی ہے۔ اس بیماری میں جسم مکمل طور پر تیار نہیں ہو پاتا اور چہرے کی ساخت بھی عجیب ہوتی ہے۔ پیشانی باہر نکلتی آتی ہے۔ آنکھیں پھٹی پھٹی سی ہوتی ہیں۔ کچھ بچے تو بیٹھنے اور چلنے کے قابل بھی نہیں رہ جاتے۔

اس بیماری کی علامات یوٹا کی سرحد سے ملحق شارٹ کریک قصبے میں بھی پائي گئی ہیں۔ درحقیقت، یہ وہ علاقے ہیں جو 20ویں صدی میں ایل ڈی ایس فرقے سے علیحدہ ہو گئے تھے لیکن یہاں بھی لوگ میں متعدد شادیوں کا رواج تھا۔

زیادہ بیویاں، زیادہ بیماریاں

فیومرز کی کمی ایک خاص انزائم کی کمزوری کی وجہ سے ہوتی ہے۔ انزائم کسی بھی جاندار کے لیے انتہائی ضروری ہوتے ہیں اور یہ جسم میں توانائی کی سطح کو برقرار رکھتے ہیں۔

فیومرز کی کمی کے سبب جب انزائم کو توانائی نہیں ملتی تو دماغ کو بھی توانائی نہیں مل پاتی۔ نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ دماغ کام کرنا بند کر دیتا ہے اور جسم کی نشو و نما رک جاتی ہے۔ بعض لوگوں کی حالت اتنی خراب ہو جاتی ہے کہ انھیں عمر بھر کھانے کی نلیوں کی مدد سے رہنا پڑتا ہے۔ وہ جسم پر بیٹھی مکھی بھی نہیں اڑا سکتے۔

فیومرز کی کمی صرف اس صورت میں ہوتی ہے جب بچہ اپنی والدہ اور والد دونوں سے ایک ایک خراب جین حاصل کر لے۔ شارٹ کریک میں یہ بیماری کیوں پھیلی یہ جاننے کے لیے ہمیں تاریخ کے صفحات پلٹنا پڑیں گے۔

دراصل ‘زیادہ بیویاں، زیادہ بیماریاں’ کی وجہ سے پروو شہر اور شارٹ کریک میں ایک ہی خاندان کے بہت سے لوگ ہو گئے۔ نتیجے کے طور پر اکثر ایک ہی خاندان کے دو لوگوں میں شادیاں ہو جاتی ہیں جن میں اس بیماری کے جین ہیں۔ اس کی وجہ سے، یہاں بہت سے بچے فیومرز کی کمی کے ساتھ پیدا ہوتے ہیں۔

اب جو بچے یہاں ہیں وہ کسی نہ کسی طرح ایک دوسرے خاندان سے منسلک ہوتے ہیں۔ مثال کے طور پر شارٹ کریک دو خاندانی نام جیسوپ اور بارلو زیادہ ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ آج کی آبادی کا ایک بڑا حصہ جیمز یا بارلو سے آتا ہے۔

زیادہ-بیویاں،-زیادہ-بیماریاں

مؤرخ بنجامن بیسٹلائن کا کہنا ہے کہ شارٹ کریک میں 75 سے 80 فیصد آبادی ایک دوسرے کے ساتھ خون کا رشتہ رکھتے ہیں۔ پوری آبادی میں ہر دوسرے شخص کی جین میں کوئی نہ کوئی خرابی ہے۔ بہت سے بچے سن بلوغ تک پہنچنے سے پہلے مر جاتے ہیں۔

ماہرین کے مطابق، ایک صحت مند آبادی کے لیے یہ ضروری ہے کہ شادی مختلف برادریوں کے درمیان ہو تاکہ مختلف جین کے لوگوں سے مختلف قسم کی نئی نسل پیدا ہو۔ لیکن کئی بیویاں رکھنے کی وجہ سے شارٹ کریک کے لوگوں کا جین پول چھوٹا ہو گیا ہے۔ اس کی وجہ سے، شہر کے لوگ فیومرز کی کمی کا شکار ہو رہے ہیں۔

افریقہ میں بھی ‘زیادہ بیویاں، زیادہ بیماریاں’ کا رواج عام ہے۔ کینیا کی پارلیمنٹ نے سنہ 2014 میں ایک بل منظور کیا تھا اور اس کے لیے ایک قانون نافذ کیا ہے۔ مغربی افریقی ممالک میں تو کئی شادیوں کا رواج ہزاروں سالوں سے برقرار ہے اور یہاں کے لوگوں میں بھی جین کی خرابی پائی گئی ہے۔ قصہ مختصر یہ کہ بہتر یہی ہے کہ جہاں تک ممکن ہو، ایک ہی خاتون کے ساتھ نباہ کر لیں ورنہ آپ کی آنے والی نسل کسی سنگین بیماری کا شکار ہو سکتی ہے۔

You May Also Like

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے