دنیا میں چین کی وجہ سے گدھوں کی آبادی کو شدید خطرہ

گدھے کے جیلاٹین سے بننے والی یہ فوری پڈنگ چینیوں میں بہت مقبول ہے

دنیا بھر میں گدھوں کی آبادی کو شدید خطرہ لاحق ہے۔ اس کی وجہ چین میں ان کے چمڑے کی زبردست مانگ ہے جس کا وہ کھانے بنانے اور روایتی ادویات تیار کرنے میں استعمال کر رہے ہیں۔

گدھوں کا گوشت بھی چین میں مقبول ہیں لیکن چین میں ان کی تعداد کم ہو گئی ہے اور سپلائرز اس کی تلاش میں دوسری جگہوں کا رخ کر رہے ہیں۔ ان کی تعداد میں کمی کا ایک سبب ان کی افزائش نسل میں کمی بھی ہے۔

خیبر پختونخوا کا گدھے برآمد کرنے کا فیصلہ

اس کے سبب بطور خاص غریب افریقی شہریوں کو شدید دقت کا سامنا ہے کیونکہ گدھے نقل و حمل اور کاشت کاری میں ان کی زندگی کا اہم حصہ ہیں۔

گذشتہ چند سالوں میں بعض جگہ گدھوں کی قیمت دگنی ہو گئی ہے۔ جہاں چوروں کی چاندی ہے وہیں غریب کاشت کار نیا جانور خریدنے کے اہل نہیں ہیں۔

گدھےتصویر کے کاپی رائٹGETTY IMAGES
Image captionزمبابوے میں دیڑھ لاکھ ڈالر کی لاگت سے تیار ہونے والا مذبح اکتوبر میں کھلنے والا ہے

نیروبی کے باہر اونگاتا رونگائی کے 29 سالہ بھشتی اینتھونی ماپے وینیاما کے پاس چار سال تک ان کا گدھا کارلوس رہا۔

دو بچوں کے باپ اینتھونی نے کہا: ‘میں نے گاوں میں زمین خریدی، گھر خریدا، بچوں کی سکول فیس ادا کی اور اپنے کنبے کی دیکھ بھال کرتا رہا۔’

اینتھونی
Image captionاینتھونی کا انحصار اب اپنے کرایے کے گدھے پر ہے کیونکہ اس کے اپنے گدھے کارلوس کو چوروں نے مار کر اس کی کھال نکال لی

اور یہ سب ان کے گدھے کے طفیل تھا۔ انھوں نے روتے ہوئے بتایا: ‘ایک صبح میں جاگا تو کارلوس غائب تھا۔ میں نے اسے تلاش کیا تو اسے مردہ پایا اور اس کی کھال نکالی جا چکی تھی۔’

اب اس نے کرایے پر ایک گدھا لے رکھا ہے اور تین یا چار ڈالر جو کچھ بھی وہ کماتا ہے اس میں سے اسے نصف اس گدھے کے مالک کو دینا پڑتا ہے۔

گدھے کی تجارت

گدھے کی کھال
Image captionگدھے کی کھال کی چین میں بہت مانگ ہے
  • برطانیہ کی ایک فلاحی تنظیم دا ڈنکی سینکچوئری کے مطابق ہر سال 18 لاکھ چمڑے کی تجارت ہوتی ہے لیکن اس کی مانگ ایک کروڑ ہے۔
  • حکومت کے اعداد و شمار کے مطابق چین میں گدھوں کی تعداد سنہ 1990 میں ایک کروڑ دس لاکھ تھی جو کم ہو کر آج محض 30 لاکھ رہ گئی ہے۔
  • گدھے کے چمڑے کو ابال کر جو جیلاٹین ملتی ہے اس کی قیمت بازار میں 388 ڈالر فی کلو ہے اور اس کا چینی مصنوعات میں استعمال ہوتا ہے۔
  • ییوگینڈا، تنزانیہ، نائجر، برکینا فاسو، مالی اور سینیگل نے گدھوں کی چیں برآمد پر پابندی لگا دی ہے۔
مذبح
Image captionکینیا میں گدھوں کے مخصوص تین مذبح خانے ہیں جہاں روزانہ ڈیڑھ سو جانور ذبح کیے جاتے ہیں

کینیا میں گوشت کے تین پلانٹس کی وجہ سے گدھوں کی مانگ اور قیمت میں اضافہ دیکھا گيا ہے۔ ایک پلانٹ میں روزانہ ڈیڑھ سو جانوروں کا گوشت تیار کیا جاتا تھا۔

ان کا گوشت اور چمڑہ حاصل کرنے سے قبل ان کے سر پر بولٹ گن ماری جاتی ہے۔

سٹار بریلیئنٹ ڈنکی ایکسپورٹ پلانٹ کے چیف ايگزیکٹو جان کاریوکی کہتے ہیں کہ ‘کینیا ہی نہیں بلکہ افریقہ میں انھیں سب سے پہلے گدھوں کے گوشت کا پلانٹ کھولنے کا سرکاری پرمٹ ملا تھا۔’

ان کے مطابق اب لوگ گائے سے زیادہ گدھے بیچ رہے ہیں۔

مصنوعا
Image captionگدھے کے جیلاٹین یا ایجیاؤ کی مصنوعات مختلف طرح کے محلول اور پیسٹ میں دستیاب ہے

انھوں نے کہا: ‘ہم چین سے خوش ہیں کیونکہ اس سے قبل گدھوں سے کوئی آمدنی نہیں ہوتی تھی اور اب لوگوں کو گدھوں سے بہت فائدہ ہو رہا ہے۔’

چین کے خریدار ہر مرحلے پر نظر رکھتے ہیں تکہ اس مناسب طور پر تیار اور پیک کرنے کو یقینی بنایا جا سکے۔

لیکن جس طرح سے گدھوں کے ساتھ سلوک کیا جا رہا ہے اس پر تنقید ہو رہی ہے۔

گدھے کی ہڈیاں
Image captionگدھے پر ہونے والے مظالم کے خلاف کئی تنظیموں نے آواز اٹھائی ہے

برطانیہ میں گدھوں کے لیے کام کرنے والی تنظیم اور جنوبی افریقہ میں مبنی گروپ آکس پیکرز کے ماحولیاتی اور تحقیقاتی صحافیوں نے جانوروں کے ساتھ ناروا سلوک کی باتیں اٹھائی ہیں۔

دا ڈنکی سینکچوئری کے مائک بیکر نے کہا: ‘گدھوں کو درپیش یہ سب سے بڑا بحران ہے۔۔۔ ہم لاکھوں گدھوں کو لے جاتے ہوئے دیکھ رہے ہیں اور جس سطح پر ان کی تکالیف ہیں ایسا ہم نے کبھی نہیں دیکھا۔’

گدھے کے چمڑے
Image captionگھانا میں کدھے کے چمڑے کو بڑے پمیانے پر سوکھتے یہاں دیکھا جا سکتا ہے

گدھوں کو بھوکا رکھ کر مارا جا رہا ہے تاکہ ان کی جلد اتارنے میں آسانی ہو۔ لیکن مسٹر بیکر کا کہنا ہے کہ ‘بین الاقوامی دباؤ کے اثرات اب دیکھے جا رہے ہیں’ اور کئی ممالک نے چین کو گدھے اور اس سے تیار مصنوعات برآمد کرنے پر پابندی لگا دی ہے۔

You May Also Like

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے