درویش نے شراب کا پیالا دیا

درویشوں کے بھیس میں بہت سے لوگ خرافات کرتے ہیں،وہ اپنے شعبدوں سے جاہل اور مسائل زدہ مخلوق کے دلوں کو مسخر کرتے اور انہیں اپنی راہ پر چلاتے ہیں.خزینۃ الاصفیہ میں ایک ایسے بدبخت کا واقعہ بیان کیا گیا ہے جس نے درویشی کا لبادہ اوڑھ رکھا تھا اور خلاف شریعت کام کرتا تھا .

ہندوستان کے مشہور بزرگ حضرت شیخ عبدالوہابؒ شیخ اپنے سفر کا ایک حال لکھتے ہیں کہ ایک دفعہ ہم دریا مالا بار میں پہنچے. قاضی شہر عبدالعزیز نامی تھا. درویشوں کی بڑی خدمت کرتا تھا. ہمیں بھی درویش سمجھ کر بڑی محبت و عقیدت کے ساتھ پیش آیا. میں نے اسے سے پوچھا’’ کیا اس شہر میں کوئی مرد درویش ہے ‘‘ کہا’’ ہاں کیوں نہیں صاحب خوارق و کرامت درویش ہے. عوام بھی اس کے بڑے معتقد ہیں. مگر بظاہر ارتکاب نواہی کرتا ہے. خود شراب پیتا ہے دوسروں کو پلاتا ہے. اسی وجہ سے میں بھی اس سے خوش نہیں ہوں‘‘ دوسرے روز میں قاضی کی نشان دہی کے مطابق اس شخص کو دیکھنے کے لئے گیا. دیکھا کہ ایک اونچی جگہ پر بیٹھا ہوا ہے اردگرد لوگوں کا ہجوم ہے. میں جب اس کے نزدیک پہنچا تو مجھے مرحبا کہا اور بڑا خوش ہوا. دوپیالے شراب کے آئے ایک اس نے خود پینا شروع کیا اور دوسرا مجھے پینے کے لئے کہا. میں نے انکار کیا. کہا’’ یہ تو حرام مطلق ہے اسے نہیں پینا چاہئے‘‘ وہ اصرار کرتا رہا میں انکار پر قائم رہا. تنگ آکر کہنے لگا’’اچھا نہیں پیتے تو نہ پیو. دیکھو اب تمہارے ساتھ کیا پیش آتا ہے‘‘ میں یہ سن کر بڑا مغموم ہوا اور اس کی مجلس سے اٹھ کر آگیا. اسی رات خواب میں دیکھتا ہوں کہ بڑا پر لطف و پر نظارہ اور عجیب و غریب باغ ہے. اگر اسے بہشت کا نمونہ کہا جائے تو بجا ہے. چاہا کہ اندر جاؤں. دیکھا کہ دروازے پر وہی مرد شراب خوار کھڑا ہے. ہاتھ میں شراب کا پیالہ ہے. کہتا ہے ’’پہلے یہ شراب پیو پھر باغ کے اندر جانے کی اجازت ہوگی‘‘ میں اس اثنا میں بیدار ہوگیا لاحول پڑھا پھر سو گیا. پھر وہی کیفیت دیکھی. اٹھا اور حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کی درگاہ میں التجا کی اور آپﷺ کی مدد مانگی. پھر سو گیا. دیکھا کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تخت پر تشریف رکھتے ہیں. دست مبارک میں عصا ہے اور میں حضور کے روبرو حاضر ہوں. اسی وقت وہ مرد شراب خوار حاضر کیا گیا. آپ نے اسکی طرف عصا پھینکا اور فرمایا’’ہٹ جانا مبارک کتے‘‘ اسی وقت اس کی صورت مسخ ہو کر کتے کی ہوگئی. وہ وہاں سے بھاگا. پھر مجھ فقیر سے مخاطب ہو کر فرمایا’’ اس وقت میں نے اسے یہاں سے نکال دیا ہے. اب یہ شہر میں نہیں رہے گا‘‘میں بیدار ہو کر اس کی قیام گاہ پر گیا. دیکھا کہ وہاں کوئی بھی نہیں ہے اور وہ راتوں رات بھاگ گیا ہے…

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے