خدا نے فلسطینیوں سے بدسلوکی کی اجازت نہیں دی‘

سوشلستان میں لوگ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے اسرائیل میں امریکی سفارت خانہ تل ابیب سے یروشلم منتقل کرنے کے فیصلے پر ردِ عمل دکھا رہے ہیں۔ اس ہفتے کے سوشلستان میں ہم اسی موضوع پر بات کریں گے۔

‘دولتِ اسلامیہ کی بھرتی کی نئی مہم‘
امریکی صدر کے اعلان نے جہاں پاکستان میں لوگوں کے جذبات کو انگیخت کیا وہیں دنیا بھر میں اس حوالے سے شدید ردِ عمل سامنے آ رہا ہے۔

سردار شاقی نے بی بی سی اردو کے فیس بُک پیج پر لکھا ‘افسوس صد افسوس کدھر گئی مسلمانوں کی غیرت کہاں گیا وہ درد جو ایک مسلمان بھائی کے جسم میں کانٹا چبھنے پر پوری امت مسلمہ درد محسوس کرتی تھی۔’

خالد نے لکھا کہ ‘امریکی سفارت خانے کے یروشلم منتقل ہونے سے نام نہاد دولتِ اسلامیہ کو بھرتی کرنے کی نئی مہم ملے گی۔’

ترک مصنف مصطفیٰ اکیول نے لکھا ‘اسلام کو یہودیت سے کوئی مسئلہ نہیں نہ ہی یہودیت کو اسلام سے کوئی مسئلہ ہے۔ اسرائیل اور فلسطین کے مابین تنازع جس میں یروشلم پر تنازع شامل ہے زمین پر قبضے کا معاملہ ہے۔ ہمیں اس کو انصاف، امن اور سفارت کاری سےحل کرنا چاہیے۔’

دوسری جانب جیکب ووہل نے لکھا ‘صدر ٹرمپ دنیا کے واحد رہنما ہیں جن میں اسرائیل کے ساتھ کھڑے ہونے کی جرات ہے ایک ریاست جو مشرقِ وسطی میں اپنی نوعیت کی منفرد ریاست ہے۔’

اسرائیلی اخبار ہارتس میں صحافی الوف بین نے لکھا ‘ٹرمپ نے نتن یاہو کو فلسطینی قوم پرستی کے خلاف جنگ میں فتح تھما دی ہے۔’

مصنف فوبرٹ رائٹ نے لکھا ‘اکثر امریکی یہ بات سمجھنے سے قاصر ہیں کہ فلسطینی مسیحی بھی قبضے سے اُتنے ہی ناخوش ہیں جتنے فلسطینی مسلمان۔ درحقیقت اکثر امریکیوں کو یہ ادارک نہیں کہ فلسطینی مسیحی بھی ہوتے ہیں۔’

معروف فلسطینی مسیحی رہنما ڈاکٹر حنان اشراوی نے امریکی نایب صدر کے بائبل کے حوالے سے دیے گئے بیان پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ ‘مائک پینس خدا کی مرضی کےبارے میں بات کر رہے ہیں۔ وہ سیاست پر بات نہیں کر رہے ہیں۔وہ بائبل کے مذہبی عقیدے پر بات کر رہے ہیں اور مسیح کے حوالے سے بات کر رہے ہیں۔ میرے خدا نے مجھے وہ نہیں بتایا جو اُن کا خدا انہیں بتا رہا ہے۔میں دنیا کے قدیم ترین میسحی فرقے سے تعلق رکھتی ہوں۔ میں اس بات کو نہیں مانتی کہ خدا نے دنیا کو یہ حکم دیا کہ وہ فلسطینیوں کے ساتھ غیر منصفانہ سلوک کرے۔ ہم لوگ اصل مسیحی ہیں، ہم اس زمین کے مالک ہیں ہم یہاں صدیوں سے رہ رہے ہیں۔ ان کی جرات کیسے ہوئی کہ وہ یہاں آکر مجھے بائبل کے حوالے بھاشن دیں۔ اگر وہ مجھے یہ بتاتے ہیں کہ خدا کی یہ مرضی یا احکامات ہیں تو نہیں کسی کلیسا میں جا کر تبلیغ کرنی چاہیے نہ کہ یہاں آکر سیاست۔’

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے