’خاتون صحافی کا سر اور ٹانگیں کوپن ہیگن کے قریب سمندر سے ملی ہیں‘

پولیس کا کہنا ہے کہ سویڈن سے تعلق رکھنے والی ایوارڈ یافتہ خاتون صحافی کِم وال کا سر مل گیا ہے۔

وہ دو ماہ قبل ڈنمارک سے تعلق رکھنے والے ایک موجد پیٹر میڈسن کے ساتھ ان کی آبدوز میں گئی تھیں جس کے بعد وہ غائب ہوگئیں اور اس کے بعد سمندر سے اُن کی سر بریدہ لاش ملی تھی۔

کوپن ہیگن کے پولیس انسپکٹر جن مولر نے بتایا کہ کِم کا سر ایک بیگ سے ملا ہے اور اُس میں دو ٹانگیں بھی ہیں۔

یاد رہے کہ 30 سالہ کِم وال 10 اگست کو پیٹر میڈسن کی آبدوز میں سوار ہوئی تھیں اور 11 دن بعد کوپن ہیگن کے قریب سمندر سے اُن کی سر بریدہ لاش ملی تھی۔

46 سالہ پیٹر میڈسن نے انھیں قتل کرنے کے اور اُن کی لاش کے مختلف عضو کاٹنے کے الزامات کو مسترد کیا ہے۔

انسپکٹر جن مولر نے کہا کہ کوپن ہیگن کے قریب پانی میں غوطہ خوری کے بعد کِم کے جسمانی اعضا ملے ہیں، جو ایک بیگ میں بند تھے جسے سمندر کی تہہ تک ڈبونے کے لیے دھاتی ٹکڑوں سے اس کا وزن بڑھایا گیا تھا۔

انھوں نے بتایا کہ گذشتہ رات فرنزک رپورٹ سے اس بات کی تصدیق ہوئی ہے کہ یہ اعضا کِم وال کے ہیں۔ انھوں نے مزید بتایا کہ سر کی ہڈی ٹوٹی نہیں ہے۔

پولیس کا کہنا ہے کہ 21 اگست کو جس مقام سے کِم وال کی لاش ملی وہاں سے ایک کلو میٹر کے فاصلے پر یہ بیگ ملا ہے۔ لاش کے پوسٹ مارٹم سے پتہ چلا ہے کہ اُن کی پسلیوں کے قریب چھری سے وار کیا گیا اور کہا جا رہا ہے کہ ‘یہی اُن کے ہلاک’ ہونے کی وجہ بنی۔

لیکن اب تک قتل کی صحیح وجہ سامنے نہیں آ سکی ہے۔

پیٹر میڈسن، کم والتصویر کے کاپی رائٹAFP
Image captionپیٹر میڈسن (دائیں جانب) اس خبر کا موضوع تھے جس پر کم وال کام کر رہی تھیں

کِم وال کو آخری مرتبہ اُس وقت زندہ دیکھا گیا تھا جب 10 اگست کو وہ پیٹر میڈسن کی بنائی ہوئی آبدواز میں سوار ہوئی تھیں، وہ پیٹر کی اس ایجاد پر رپورٹ کرنا چاہتی تھیں۔

اگلے دن واپس نہ آنے پر کِم کے دوست نے اُن کی موجودگی کے بارے میں شکوک و شبہات ظاہر کیے تھے۔

ابتدائی طور پر میڈسن نے کہا کہ انھوں نے کِم کو باحفاظت کوپن ہیگن میں اتار دیا تھا لیکن بعد میں انھوں نے اپنا موقف بدلتے ہوئے کہا کہ کِم کی ہلاکت ایک حادثے کی وجہ سے ہوئی اور اُن کی لاش کو سمندر برد کر دیا گیا ہے۔

مقدمے کے استغاثہ جیکب بش جیسپن نے عدالت کو بتایا کہ پانچ ستمبر کو آخری بار ملزم عدالت میں پیش ہوئے تھے، اس وقت سے اب تک ان کا شک مزید مضبوط ہوا ہے کہ میڈسن نے ہی کِم وال کو قتل کیا ہے۔

بش جیسپن کا کہنا ہے کہ ایسی تصاویر ملی ہیں جن کے بارے میں ‘خیال کیا جا رہا ہے کہ وہ اصلی ہیں’ اس ہارڈ ڈرائیو سے ملی ہیں جو مبینہ طور پر میڈسن کی ہیں اور ان مناظر میں دیکھا جا سکتا ہے کہ خاتون پر تشدد کیا جا رہا ہے، سر قلم کر کے انھیں جلایا جا رہا ہے۔

میڈسن اس قتل کے الزام سے انکار کرتے رہے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہارڈ ڈرائیو ان کی نہیں ہے۔

You May Also Like

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے