حلقہ این اے119انتخابات

لاہور(نیوز ڈیسک)’’حلقہ این اے119انتخابات ‘‘حمزہ شہباز کا مقابلہ کرنے کیلئے پی ٹی آئی نے اپنا تگڑا امیدوار میدان میں اتا ر لیا… قومی اسمبلی کے حلقے این اے 124 کا نمبر حالیہ حلقہ بندیوں سے قبل این اے 119 تھا۔ یہ لاہور میں قومی اسمبلی کادوسرا حلقہ ہے۔الیکشن کمیشن کی جانب سے کی گئی حالیہ حلقہ بندیوں کے دوران

میں لاہور کے سابقہ حلقوں این اے 92، 94، 95 اور 96 کے مختلف علاقوں کو بھی شامل کیا گیا ہے۔تازہ حلقہ بندیوں سے قبل یہ حلقہ اندرون شہر جو کہ 11 دروازوں اور قدیم فصیل کے اندر واقع ہے کے علاوہ وسن پور، مصری شاہ، بادامی باغ اور شاد باغ کے چند علاقوں پر مشتمل تھا۔مگر اب یہ حلقہ اندرون شہر اور بادامی باغ کے علاقوں پر مشتمل ہے۔2002ء کی حلقہ بندیوں سے قبل اندرون شہر دو حلقوں میں تقسیم تھا۔ شہر کا ایک حصہ سابقہ این اے 95 جبکہ دوسرا سابقہ این اے 96 میں شامل تھا۔خیال رہے کہ ماضی میں این اے 95 سابق وزیر اعظم پاکستان میاں نواز شریف کا انتخابی حلقہ رہا ہے۔ وہ یہاں سے 1985ء سے1997ء تک مسلسل منتخب ہوتے رہے ہیں۔اسی طرح این اے 96 وزیرِ اعلی پنجاب اور موجودہ مرکزی صدر مسلم لیگ (ن) میاں شہباز شریف کا حلقہ انتخاب تھا جو 1990سے1997 تک یہاں منتخب ہوتے رہے۔2002ء میں ہونے والی حلقہ بندیوں کے بعد اندرون شہر کو این اے 119میں شامل کر دیا گیا اور اب یہ این اے 124 ہو گیا ہے۔حلقے کی خاص بات یہ ہے کہ یہ ناصرف لاہور کے قدیم تاریخی مقامات اور ورثے پر مشتمل ہے بلکہ لاہور کی تمام بڑی ہول سیل اور رٹیل مارکیٹیں بھی اسی میں واقع ہیں۔اندرون شہر جو کبھی اپنی تاریخی عمارات، ادبی، سیاسی اور ثقافتی زندگی و سرگرمیوں کے ساتھ ساتھ خاص لاہوری کھابوں کے حوالے سے اپنی ایک الگ پہچان رکھتا تھا، اب اپنی کمرشل سرگرمیوں اور مارکیٹوں کے حوالے سے مشہور ہے۔شہر کی مشہور اعظم کلاتھ مارکیٹ، شاہ عالم مارکیٹ، اکبری منڈی، سوہا بازار، رنگ محل اور دہلی گیٹ کی مارکیٹیں اب بڑے بڑے تجارتی مراکز میں تبدیل ہو چکی ہیں۔ تجارتی سرگرمیوں میں اضافے سے آبادی کا انخلاء بھی ہوا ہے اور لوگوں کی ایک بڑی تعداد اندرون شہر سے مضافاتی علاقوں میں بننے والی نئی ہاؤسنگ سوسائیٹیوں میں منتقل ہو چکی ہے۔بے ہنگم تجارتی سرگرمیوں کے پھیلاؤ نے اندرون شہر کو تاریخی ورثے سے جُڑی اس کی اصل پہچان سے محروم کر دیا ہے۔اس حلقے کی بڑی برادریوں میں کشمیری، آرائیں، گجر، شیخ، سید اور ملک شامل ہیں۔ اندرون شہر کی سیاست میں کشمیری اور آرائیں برادریوں کو خاص اہمیت حاصل ہے جبکہ کشمیری برادری کا اس حلقے کی سیاست پر غلبہ ہے۔ تاہم گزشتہ چند برسوں کے دوران یہاں پشتون آبادی میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ایک دور میں صاف پانی کی فراہمی، نکاسی آب، گیس اور بجلی کی فراہمی کا فرسودہ نظام اور صفائی کے ناقص انتظامات وغیرہ اس حلقے کے بڑے مسائل تھے تاہم اب ان میں سے زیادہ تر پر قابو پا لیا گیا ہے۔تاہم کچھ مسائل تاحال حل طلب ہیں جن میں ناجائز تجاوازات اور ٹریفک جام سرفہرست ہیں۔ اندرون شہر میں مارکیٹوں اور پلازوں کے تیزی سے پھیلتے ہوئے جال کے سبب خریدار بڑی تعداد میں یہاں کا رُخ کرتے ہیں مگر گاڑیوں کی پارکنگ کا مناسب انتظام نہ ہونے کے باعث ٹریفک گھنٹوں بلاک رہتی ہے۔لاہور کا پُرانا لاری اڈا بھی اسی حلقے میں واقع ہے جسے برسوں سے شہر سے باہر منتقل کرنے کا منصوبہ التواء کا شکار ہے۔ لاری اڈے کی موجودگی کی وجہ سے بھی ٹریفک کے مسائل میں اضافہ ہو رہا ہے۔حلقے کی سیاست میں تاجروں کو خاص اہمیت حاصل ہے کیونکہ کسی بھی اُمیدوار کی ہار جیت میں تاجر تنظیمیں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔ تاجروں کی اکثریت اگرچہ اس حلقے میں رہائش پذیر نہیں ہیں مگر اپنے تجارتی، مالیاتی اور ذاتی اثرو رسوخ کی بنیاد انتخابات کے نتائج پر اثر انداز ہوتی ہے۔چھوٹے تاجر اور دکانوں پر کام کرنے والے محنت کشوں کی بڑی تعداد اندرون شہر یا اس کے ملحقہ علاقوں میں آباد ہے۔ اندرون شہر میں رہنے والے زیادہ تر لوگ تجارت اور ملازمت سے وابستہ ہیں جبکہ بڑے اور درمیانے درجے کے تاجروں کی بڑی تعداد شادباغ، وسن پورہ، مصری شاہ اور ملحقہ علاقوں میں آباد ہے۔یہی وجہ ہے کہ یہ حلقہ گزشتہ کئی دہائیوں سے مسلم لیگ ن کا گڑھ ہے۔80ء کی دہائی تک اس حلقے کو پیپلز پارٹی کا گڑھ سمجھا جاتا تھا کیونکہ 1970ء اور 1977ء کے عام انتخابات میں یہاں سے بابائے سوشلزم کہلانے والے پی پی پی کے امیدوار شیخ رشید کامیاب ہوئے تھے۔1988ء میں یہاں سے پی پی پی کے متوفی رہنما جہانگیر بدر کامیاب تاہم اسکے بعد ووٹروں کا رجحان بائیں بازو کی سیاست سے دائیں طرف منتقل ہو گیا اور وقت کے ساتھ ساتھ پی پی پی کا ووٹ بینک کمزور تر ہوتا گیا۔90ء کی دہائی کے آغاز کے ساتھ ہی یہ حلقہ مسلم لیگ ن کا گڑھ بن گیا یہی وجہ ہے کہ اس کے اُمیدوار اب تک مسلسل یہاں سے کامیاب ہوتے آ رہے ہیں۔حلقے میں مسلم لیگ ن کی مقبولیت اور مضبوطی کا اندازہ اس امر سے لگایا جا سکتا ہے کہ 2002ء میں جب شریف خاندان کا کوئی فرد انتخابات میں حصہ نہیں لے رہا تھا تب بھی یہاں سے نون لیگ کے موجودہ وفاقی وزیر خواجہ سعد رفیق باآسانی کامیاب ہو گئے تھے۔انہوں نے پیپلز پارٹی کے مضبوط امیدوار اور سابقہ سیکرٹری متوفی جہانگیر بدر کو شکست دی تھی۔جہانگیر بدر اس حلقے سے پہلی و آخری بار 1988ء میں جماعت اسلامی کے حافظ سلمان بٹ کو شکست دے کر رکنِ قومی اسمبلی بنے تھے۔1988ء کے بعد سے آج تک پیپلز پارٹی کا کوئی بھی امیدوار اندرون شہر سے کامیاب نہیں ہو سکا۔2008ء کے عام انتخابات میں اس حلقے کا انتخاب ایک امیدوار کی وفات کے باعث ملتوی ہو گیا تھا تاہم ضمنی انتخاب میں میاں حمزہ شہباز بلا مقابلہ جیت گئے تھے۔2013ء کے عام انتخابات میں حمزہ شہباز ایک بار پھر اسی حلقے سے میدان میں اُترے اور لگ بھگ ایک لاکھ آٹھ ہزار ووٹ لے کر کامیاب ہوئے۔ اُن کے مقابلے میں تحریک انصاف کے امیدوار محمد مدنی نے تقریباً 41 ہزار ووٹ حاصل کئے اور واضح فرق سے ناکام رہے۔آئندہ انتخابات کے تناظر میں تفصیلی جائزہ کہ جیتنے کے لیے کس نے کتنے ترقیاتی کام کروائے اور کسے کیا کرنے کی ضرورت ہے؟آئندہ انتخابات میں بھی یہاں سے ن لیگ کے حمزہ شہباز ایک مضبوط اُمیدوار ہیں۔ ان کا خیال ہے کہ ترقیاتی کاموں اور حلقے کے دیرینہ مسائل کو حل کروانے کے باعث انہیں انتخاب جیتنے میں خاص دشواری کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا۔حمزہ شہباز کو کشمیری، آرائیں اور شیخ برادریوں سمیت تمام بڑی تاجر تنظیمیں کی بھی حمایت حاصل ہے۔دوسری جانب گزشتہ چند برسوں میں حمزہ نے اپنے حلقے کے مسائل پر حضوصی توجہ بھی دی ہے۔یکی گیٹ نواز شریف ہسپتال میں ٹراما سنٹر کے قیام سے اندرون شہر اور ملحقہ علاقوں کے لوگوں کو علاج کی جدید سہولت دستیاب ہو گئی ہے جبکہ گورنمنٹ فاطمہ جناح ڈگری کالج کی توسیع سے پوسٹ گریجویٹ کلاسوں کا اجراء ہوا ہے جس سے لڑکیوں کو بہتر تعلیم کے مواقع دستیاب ہو گئے ہیں۔اسی طرح اس حلقے کے ایک اور علاقے میں بھی گرلز ڈگری کالج کا قیام عمل میں لایا گیا ہے۔تحریک انصاف کی قیادت نے ابھی تک یہ فیصلہ نہیں کیا کہ آیا اس کے سابق ٹکٹ ہولڈر محمد مدنی ہی اس بار بھی اس کے اُمیدوار ہوں گے یا حمزہ کے مقابلے میں کسی دوسرے اُمیدوار کو میدان میں اُتارا جائے گا۔پی ٹی آئی کے سابقہ امیدوار محمد مدنی ایک نوجوان اور متحرک شخصیت ہیں جن کا تمام تر دارو مدار عمران خان کی ذاتی مقبولیت اور مسلم لیگ ن کے مخالف ووٹ بینک پر ہے۔اگر 2018ء کے عام انتخابات سے پہلے پنجاب، خاص طور پر لاہور میں کوئی بڑی سیاسی تبدیلی نہ آئی تو حالات ایک بار پھر یکطربہ مقابلے کی نوید سنا رہے ہیں۔تحریک انصاف کی کامیابی کے لئے ضروری ہے کہ اس حلقے میں کشمیری اور آرائیں برادری میں بڑی تقسیم ہو اور دونوں برادریوں کی نامور اور مضبوط شخصیات پی ٹی آئی کے اُمیدوار کی حمایت کریں۔اسی طرح تاجر تنظیمیں بھی تقسیم ہوں اور کھل کر تحریک انصاف کی حمایت کریں تاہم اب تک بظاہر ایسا ہوتا نظر نہیں آ رہا۔اگر اس حلقے سے ملی مسلم لیگ کے امیدوار نے آزاد حیثیت یا اتحاد کے پلیٹ فارم سے حصہ لیا تو اس کا نقصان بھی پی ٹی آئی کے امیدوار کو ہو گا جبکہ تحریک لبیک بھی اس حلقے سے دس ہزار کے لگ بھگ ووٹ حاصل کر سکتی ہے جس سے مسلم لیگ ن مخالف ووٹ تقسیم ہونے کا خدشہ موجود ہے۔پیپلز پارٹی کی بات کریں تو اس کے زیادہ تر پرانے راہنما اور کارکن اب تحریک انصاف یا مسلم لیگ ن کو حصہ بن چُکے ہیں لہذا آئندہ انتخابات میں پی پی پی یہاں خاطر خواہ کارکردگی نہیں دکھا پائے گی۔خیال رہے کہ 2013ء کے انتخابات میں پیپلز پارٹی کے امیدوار ملک سہیل کو محض چار ہزار کے قریب ووٹ ملے تھے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے